• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عوام کی نمائندگی کون کرتا ہے؟.....جرگہ…سلیم صافی

وفاقی وزیراطلاعات قمرزمان کائرہ کے ”جنگ “میں شائع ہونے والے ”عوام کی نمائندگی کون کرتا ہے؟“ کے زیرعنوان مضمون کے جواب میں عرض ہے کہ مروجہ معنوں میں سیاستدان ہی عوام کے لیڈر اور نمائندے ہیں۔جرنیل جیسے بھی ہوں ‘ ریاست کے نوکر ہیں اور عوام کی نمائندگی کا دعویٰ یا پھر حکومت کرنا ‘ ان کو زیب نہیں دیتا ۔ جج‘ جج ہے نہ کہ لیڈر یاعوام کا نمائندہ۔ اس کا کام عوامی نمائندوں کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے اور بس ۔ ہم صحافی کتنے بھی مشہورہوجائیں ‘ اصلاً ہم مزدور ہیں۔ ہمارا کام اپنے سمیت سب کی خبر لینا‘ خبر دینا اور تبصرہ و تجزیہ کرنا ہے ۔ مجھ جیسے اینکرز سے آٹو گراف لینے والے ہزاروں میں اور محبت کرنے والے لاکھوں میں ہوں گے ‘ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمیں اپنا نمائندہ یا لیڈر بھی مانتے ہیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ ووٹ مجھے دو بندے بھی نہیں دیں گے۔ عوام کے نمائندے عوام کی تائید کے حامل سیاستدان ہی ہوتے ہیں۔
حکمرانی اور قانون سازی کرنے کا حق صرف اور صرف ان سیاستدانوں کو حاصل ہے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ یوں مروجہ معنوں میں قمرزمان کائرہ اور ان کے ہم قبیلہ سیاستدان ہی لیڈر اور عوام کے نمائندے ہیں ۔ ہمیں گلہ بس یہ ہے کہ منتخب ہونے کے بعد سیاسی رہنماؤں کا کردار لیڈروں والا نہیں ہوتا اور وہ عوام کا حق نمائندگی ادا کرتے نظرنہیں آتے ۔ووٹ لے کر اقتدار کے ایوانوں تک آنے والے مروجہ معنوں میں عوام کے نمائندے تو بن جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس کے بعد عوام کی نمائندگی کرتا ہے یا نہیں؟ اعتراض اور گلہ ہمیں یہ ہے کہ منتخب ہونے کے بعد یہ لوگ عوام کی نمائندگی کرنے کی بجائے صرف اپنی ذات‘ گروہ یا پھر اپنے جیسے حکمران طبقے کے نمائندے بن جاتے ہیں ۔ سیاستدانوں کو ووٹ دینے کے بعد عوام پچھتانے لگ جاتے ہیں اور نتیجتاً کبھی جرنیل اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ سمجھ کر میدان میں آجاتا ہے ‘ کبھی جج ‘ سیاست کرنے لگ جاتا ہے اور کبھی جرنلسٹ عوام کی نمائندگی کے زعم میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔
انگریزی میں نمائندے کو (Representative) کہا جاتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں اس لفظ کی تعریف دو طرح سے کی گئی ہے ۔ ایک یہ کہ One that represent another or others (یعنی وہ بندہ جو دوسرے بندے یا بندوں کی ترجمانی اور نمائندگی کرے) اور دوسرا یہ کہ A typical example of a group, class or quality یعنی کسی گروپ‘ کلاس یا معیار کا نمونہ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا موجودہ حکمران کلاس حقیقی معنوں میں عوام کے جذبات‘ احساسات اور خواہشات کی ترجمانی کرتا ہے اور کیا حکمران طبقے میں شامل لوگوں کو رہن سہن اور معمولات زندگی کے حوالے سے پاکستانی عوام کا نمونہ قرار دیا جاسکتا ہے ؟
گذشتہ روز ”جیو نیوز“ کے ایک پروگرام میں میرے ساتھ چار سابق وزرائے تعلیم اور ایک موجودہ وزیرمملک تشریف فرماتھے۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا ان میں سے کسی کا بچہ پاکستان کے کسی عام سرکاری اسکول میں پڑتا ہے تو سب نے نفی میں جواب دیااور پتہ چلا کہ سب کے بچے اندرون یا بیرون ملک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی عوام کے کروڑوں بچے سرکاری اسکول کی سہولت سے بھی محروم ہیں۔اسی طرح صدر‘ وزیراعظم ‘ وزرائے اعلیٰ ‘ جرنیلوں اور بیوروکریٹس کی اکثریت کے بچوں کا بیرون ملک ہسپتالوں میں علاج ہوتا ہے جبکہ پاکستانیوں کی اکثریت کو ڈسپرین گولی تک میسر نہیں۔ پاکستانی حکمران لندن اور دوبئی میں اپنے بچوں کا سالگرہ منانے خصوصی جہازوں میں جاتے ہیں لیکن نوشہرہ‘ چارسدہ ‘ سوات اور ناران کے پاکستانیوں کے بچے چار دن تک پانی میں گھرے ہوں تو بھی ان تک ہیلی کاپٹر نہیں پہنچتا۔ وہ ہیلی کاپٹر جنہیں پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنا چاہئے تھا ‘ عوام کی نمائندگی کے دعویدار فضائی معائنوں کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ پانی میں گھرے عوام بددعائیں دیتے ہوئے ان کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔ دہشت گردی سے تباہ ہونے والے خیبر پختونخوا میں جو کچھ بچا تھا‘ وہ سیلاب لے گیا۔ پنجاب کا میاں والی اوردریائے سندھ کے کنارے واقع اضلاع بھی تباہ ہو کر رہ گئے ۔ یہ تباہی اب سندھ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ عوام دکھ کی اس گھڑی میں اپنے نمائندوں کو اپنے پاس دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ لندن میں مقیم اپنے بچے کو لیڈر بنوانے کے لئے وہاں روانہ ہوگئے۔ انہی جیسا عوامی نمائندہ میاں نوازشریف مطالبہ کرتا ہے کہ وہ برطانیہ نہ جائیں ۔ انہی جیسے لاکھوں پاکستانیوں کے نمائندے الطاف حسین ان سے کہتے ہیں کہ نہ آئیں لیکن صدر زرداری قوم کو اس مصیبت میں چھوڑ کر فرانس اور برطانیہ کے دورے پر روانہ ہوئے۔ ان سطور کو تحریر کرتے وقت میرے سامنے لگے ٹی وی اسکرین پر پٹی چل رہی ہے کہ ”قوم پانی میں ڈوبی ہوئی۔ صدر مملکت ملک سے باہر اور وزیراعظم انتخابی مہم پر“۔ حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے خود قمرزمان کائرہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانی عوام کے دکھ درد سے دنیا کو آگاہ کریں لیکن آج میرے سامنے جو اخبار پڑا ہے ‘ وہ ایک طرف سیلاب کی تباہ کاریوں کی خبروں سے بھرا پڑا ہے ۔جبکہ اسی کے صفحہ اول پر کائرہ صاحب کی تصویر چھپی ہے۔ جس میں وہ لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے نظر آرہے ہیں۔ ضلع نوشہرہ پشاور سے پندرہ منٹ کی مسافت پر واقع ہے ۔ یہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے گھر (مردان) اور دفتر(پشاور ) کے بیچ میں واقع ہے ۔ سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی یہاں پھیلائی لیکن یہاں کا دورہ کرنے میں ان کو پانچ روز لگے۔ اب یہ عوام کی نمائندگی کی کونسی قسم ہے؟عوام پانی میں ڈوبے ہوئے اور آپ لوگ ہوائی جہازوں میں۔ عوام چیخیں مار مار کر اپنے عزیزوں کو پانی میں ڈوبنے سے بچانے کے لئے ہیلی کاپٹروں کے منتظر اور آپ انہی ہیلی کاپٹروں میں چکر لگا کر تصویریں بنارہے ہو۔
عوام آپ کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں اور آپ لوگ بیرون ملک جارہے ہو۔ عوام بھوکے پیاسے خیموں میں اور آپ انہی کے ٹیکسوں کی رقم سے اسلام آباد کے محلات یا پھر لندن کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں۔ لیکن پھر بھی آپ عوام کے نمائندے؟ ایسا ہر گز نہیں کہ ہیلی کاپٹر نہیں تھے بلکہ جو ہیلی کاپٹر موجود تھے وہ کاغان و ناران یا پھر سوات میں عیاشی کے لئے جانے والے وی آئی پیز کے اہل و عیال کو نکالنے میں لگادیئے گئے تھے ۔ سرکاری خزانہ اس قدر خالی بھی نہیں کہ مصیبت کی اس گھڑی میں اس سے عوام کی خدمت نہ کی جائے لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ خزانہ صرف وی آئی پیز کے لئے وقف کردیا گیا ہے ۔ ہمارے بھائی میجر (ر) عامر کا دریائے سندھ کے کنارے واقع فارم ہاؤس بھی سیلاب کے زد میں آگیا ہے ۔ گزشتہ روز انہیں ان کے ملازم کا فون آیا کہ ضلع کا ایک اعلیٰ افسر فارم ہاؤس کے نقصان کا تخمینہ لگانے آیا ہواہے ۔ انہوں نے خود سرکاری افسر سے بات کی اور پوچھا کہ کیا تم نے میرے فارم ہاؤس کے ساتھ دریا کے کنارے آباد غریبوں اور مچھلی فروشوں کے نقصانات کا تخمینہ لگایا ہے تو وہ بولے کہ نہیں میں پہلے تمہارے پاس آیا ہوں۔ میجر (ر) عامر کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ سرکاری افسرکو ڈانٹ پلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں فارم ہاؤس میں رہتا نہیں۔ وہ میرے اور دوستوں کے ضرورت کی نہیں بلکہ سیروتفریح کی جگہ ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا گھر بھی سلامت ہے اور بچے بھی ۔ تم میری بجائے ان لوگوں کے پاس کیوں نہیں گئے جن کے بچے اور گھر ڈوب گئے؟ یوں وہ افسر شرمندہ ہوکر چل دیئے لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں کتنے وی آئی پیز کا ضمیر میجر(ر) عامر کی طرح جاگ رہا ہوگا؟ اب جس عوامی حکومت میں سرکاری افسران تباہ و برباد ہوجانے والے غریب عوام کی بجائے میجر(ر) عامر جیسے وی آئی پیز کے پاس نمبر بنانے جاکر سرکاری خزانہ پیش کررہے ہوں کیا انہیں عوام کے نمائندوں کی حکومت کہنا مناسب ہے؟انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں درج نمائندے (Representative) کی تعریف کو ذہن میں رکھ کر بتائیے کہ یہ عوام کی نمائندگی کی یہ کونسی قسم ہے جو ہمارے موجودہ عوامی نمائندے کررہے ہیں؟
مکرر عرض ہے کہ جرنیل عوامی نمائندے ہیں‘ جج اور نہ جرنلسٹس ۔ کائرہ صاحب آپ ہی عوام کے نمائندے ہیں اور یہ نمائندگی آپ ہی کو مبارک ہو لیکن ازراہ کرم اپنے قائدین اور دیگر ہم قبیلہ عوامی نمائندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ حقیقی معنوں میں عوام کے نمائندے بنیں۔ صرف حکمران نہ رہیں ‘ عوام کے غمخوار بھی بنیں۔ عوام کے نمائندے ہیں تو عوام جیسا بھی بنیں۔ اس ملک کے وسائل میں سے کچھ حصہ ان عوام کو بھی عنایت کردیں جن کے وہ نمائندگی کے دعویدار ہیں۔نہیں تو آپ نمائندہ رہیں گے ‘ جرنیل‘ جج اور نہ جرنلسٹس۔ پھر طالبان آئیں گے یا پھر کسی اور نوع کے بندوق بردار ۔ عوام کو ملکی وسائل میں سے ان کا حصہ جو بھی دلوائے گا‘ وہ اسی کو اپنا نمائندہ مانے گا ۔ بے شک وہ طالب ہو یا ڈاکو۔جرنیل ہو یا جج۔





تازہ ترین