کہا جاتا ہے کہ ناموس رسالت کا قانون جنرل ضیاء الحق نے بنایا۔ یہ بھی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا تھا۔اس قانون کے متعلق کئی اور شکوک و شبہات بھی پیدا کیے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں اس حوالے سے محترم محمد اسمٰعیل قریشی جنہوں نے ایک طویل جدوجہد اور قانونی جنگ کے بعداس قانون کو موجودہ شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا، کتاب "ناموس رسُول اور قانون توہین رسالت "سے کچھ اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جو اس سلسلے میں پیدا ہونے والے شکوک کو دور کرنے میں مدد دیں گے۔
"اسلام دشمن قوتوں نے پاکستان کی اسلامی ریاست کو ختم کرنے کے لئے سازشوں کا جال سارے ملک میں بچھا دیا۔ زرخرید ایجنٹوں کے ذریعہ یہاں کے نوجوانوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لئے لادینی لٹریچر بھی پھیلانا شروع کردیا گیا۔ اس سلسلے میں ایک کمیونسٹ ایم(مشتاق) راج کا ذکر ضروری ہے جس کی اشتعال انگیزی قانون توہین رسالت اور اس کتاب کی تصنیف کا باعث بنی۔ اس کی خدمات روس کی حکومت نے حاصل کی ہوئی تھیں۔
ایم راج نامی ایک کٹر کمیونسٹ ایڈووکیٹ نے 1983ء میں Heavenly Communism (آفاقی اشمالیت) ایک کتاب لکھی جو ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ میں مفت تقسیم کی گئی......... میں نے کتاب پڑھنا شروع کی۔ جیسے جیسے کتاب پڑھتا گیا، میری قوت برداشت جواب دیتی چلی گئی، مجھ پر غم وغصہ کی جو کیفیت طاری ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ تمسخر کیا گیا بلکہ مذاہب اور ادیان کا بھی مذاق اڑایا گیا تھا۔ دینی پیشواؤں کو ”مذہبی شیطان“ کہا گیا، انبیائے کرام علیہم السلام پر نہایت گھٹیا اور سوقیانہ حملے کئے گئے اور انتہا یہ کہ حضور ختمیٴ مرتبت ﷺ کی شان میں بھی گستاخی کی جسارت کی گئی۔ میں نے نہایت صبر وضبط سے کام لیتے ہوئے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کا اجلاس طلب کیا........... سب علماء کا متفقہ فتویٰ تھا کہ شاتم رسول واجب القتل ہے، لہٰذا حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ناپاک کتاب کو فوری طور پر ضبط کرلے اور بغیر کسی تاخیر کے توہین رسالت کا قانون بنا کر اسے نافذ العمل کردیا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی بدبخت کو اہانت رسول کی جرأت نہ ہوسکے...... پاکستان کے قومی اخبارات نے بھی اس کی تائید کی اور اس کی حمایت میں اداریئے لکھے۔ بالآخر اسلامی نظریاتی کونسل نے اسلامیان پاکستان کے اس مطالبہ کا نوٹس لیا اور جناب شیخ غیاث محمد، سابق اٹارنی جنرل کی تحریک پر حکومت سے سفارش کی کہ توہین رسالت اور ارتداد کی سزا، سزائے موت مقرر کی جائے۔ اس کے باوجود حکومت وقت (ضیاء حکومت )نے اس نازک مسئلہ کو مستحق توجہ نہ سمجھا، لہٰذا راقم الحروف نے فیڈرل شریعت کورٹ میں اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق اور تمام صوبوں کے گورنرز کے خلاف اسلامی جمہوریت پاکستان کے آئین کی دفعہ 203 کے تحت 1984ء میں اپنے ساتھ تمام مکاتب فکر کے علماء، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سابق جج صاحبان، سابق وزرائے قانون، سابق اٹارنی جنرل، ایڈوکیٹ جنرل، صدر لاہور ہائی کورٹ بار اور دیگر بار کونسلوں کے صدر صاحبان اور نمائندہ شہریوں کو شامل کرکے شریعت پٹیشن نمبرL/A 1984 ء دائر کی۔ مقدمہ کی سماعت کا آغاز راقم الحروف کی بحث سے شروع ہوا۔ عدالت نے عوام الناس کے نام نوٹس جاری کردیئے۔ کمرہ عدالت اور اس کے باہر ہر روز عوام کا ہجوم اس مقدمہ کی کارروائی کی سماعت کے لئے موجود ہوتا۔ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران عجیب وغریب واقعات پیش آئے، جن میں دو بڑے دلچسپ اور قابل ذکر ہیں۔ اس پٹیشن میں سابق جج لاہور ہائیکورٹ جناب جسٹس چوہدری محمد صدیق بحیثیت مدعی ہمارے ساتھ شامل تھے، جبکہ حکومت کی طرف سے ان کے صاحبزادے جناب جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جو اس وقت جسٹس رمدے ایڈووکیٹ جنرل تھے پیش ہوئے۔ میں نے عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ اس تاریخی مقدمہ میں باپ، بیٹا ایک دوسرے کے مقابل ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ لائق بیٹے نے شریعت پٹیشن کی مکمل طور پر حمایت کی اور تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز نے بھی اس پٹیشن کی تائید میں دلائل پیش کئے اور عدالت سے درخواست کی کہ اس درخواست شریعت کو منظور کرلیا جائے۔ ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے، جو حکومت پاکستان کی جانب سے پیش ہوئے، ہمارے اس موقف سے اتفاق کیا کہ شاتم رسولﷺ واجب القتل ہے، لیکن یہ قانونی اعتراض اٹھایا کہ فیڈرل شریعت کورٹ کو اس کی سماعت کا اختیار نہیں....... بہرحال فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ اسی اثناء میں ایک اور سنگین واقعہ رونما ہوا۔ جولائی 1984 میں ایک خاتون ایڈووکیٹ، جن کے شوہر ایک بڑے صنعتکار اور سرمایہ دار قادیانی ہیں، انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے معلم انسانیت حضور ختمیٴ مرتبت ﷺ کی شان میں کچھ ایسے نازیبا الفاظ استعمال کیے جو سامعین اور امت مسلمہ کی دل آزاری کا باعث تھے، جس پر سیمینار میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس نے اپنے خصوصی اجلاس میں پاکستان کے تمام سربرآوردہ علماء اور وکلاء کی جانب سے اس کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر شاتم رسول کے بارے میں سزائے موت کا قانون منظور کرے اور فیڈرل شریعت کورٹ سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ شریعت پٹیشن پر اپنا فیصلہ صادر کرے۔اسلامی جذبے سے سر شار خاتون مرحومہ آپا نثار فاطمہ نے اس قابل اعتراض تقریر کا قومی اسمبلی میں سختی سے نوٹس لیا اور راقم الحروف کے مشورے سے قومی اسمبلی میں تعزیرات پاکستان میں ایک مزید دفعہ295-C کابل پیش کیا، جس کی رو سے شاتم رسول کی سزا، سزائے موت تجویز کی گئی۔ مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ کے پیش نظر کسی کو اس کی مخالفت کی جرأت نہ ہوسکی، البتہ وزیر قانون اقبال احمد خان کی طرف سے اس بل میں ترمیم کی کردی گئی کہ شاتم رسول کی سزا، سزائے موت یا عمر قید ہوگی۔ اس طرح دفعہ 295-C کا تعزیرات پاکستان میں اضافہ کردیا گیا، لیکن اس سے راقم الحروف مرحومہ آپا نثار فاطمہ، علمائے کرام، وکلاء اور مسلمان عوام مطمئن نہیں تھے، اس لیے دوبارہ فیڈرل شریعت کورٹ میں 295-C کو راقم نے مسلم
ماہرین قانون کی تنظیم کی جانب سے اس بناء پر چیلنج کردیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور حد سزائے موت مقرر رہے اور حد کی سزا میں کمی یا اضافہ کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت یکم اپریل 1987ء کو شروع ہوئی، جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کو بھی معاونت کی دعوت دی گئی۔
...........علمائے کرام کے علاوہ حکومت پنجاب کی جانب سے جناب خلیل الرحمن رمدے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، جو اب سپریم کورٹ کے آنریبل جج ہیں، حکومت سرحد کی جانب سے جناب جسٹس محمد اجمل میاں، جو اس وقت سپریم کورٹ کے فاضل جج ہیں، سندھ اور بلوچستان کی طرف سے وہاں کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل صاحبان نے بھی ہمارے موقف کی مکمل تائید اور حمایت کی۔ ملک کے ممتاز اسکالر مولانا سید محمد متین ہاشمی اور جناب ریاض الحسن نوری مشیر وفاقی شرعی عدالت نے عمر قید کی سزا کے اسلامی احکام سے منافی ہونے کے بارے میں موثر دلائل پیش کئے۔ سندھ کی حکومت نے بھی شاتم رسول کی سزا، سزائے موت کو تسلیم کیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا موقف تھا کہ سزا کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہے۔ اسے فی الفور قتل کیا جائے۔
........ بالآخر وہ ساعت سعید بھی آگئی جب فیڈرل شریعت کورٹ نے متفقہ طور پر، اس گدائے شہہ عرب وعجم کی ، پٹیشن منظور کرتے ہوئے توہین رسالت کی متبادل سزا عمر قید کو غیر اسلامی اور قرآن وسنت کے خلاف قرار دیا اور حکومت پاکستان کے نام حکم نامہ جاری کیا کہ عمر قید کی سزا کو دفعہ 295-C سے حذف کیا جائے، جس کے لئے حکومت کو 30 اپریل سال1991ء تک مہلت دی گئی۔ اس فیصلہ کے بعد پھر ایک عجیب مرحلہ پیش آیا کہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت نے جو کہ نفاذ اسلام اور قرآن وسنت کے قانون کی بالادستی کا منشور لے کر برسر اقتدار آئی تھی، سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔ جس پر راقم نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو پیغام بھجوایا کہ حکومت اس اپیل کو فوری طور پر واپس لے ورنہ اس انتہائی حساس مسئلہ پر مسلمانوں کے جذبات اس حکومت کے خلاف مشتعل ہوجائیں گے۔ خدا کا شکر ہے کہ وزیراعظم پاکستان جناب میاں محمد نوازشریف نے توجہ مبذول کرانے پر فوری اور بروقت نوٹس لیا اور برسر عام اعلان کیا کہ اس اپیل کا انہیں قطعی علم نہ تھا ورنہ ایسی غلطی کبھی سرزد نہیں ہوسکتی تھی، اگر اس جرم کی سزا، سزائے موت سے بھی سنگین تر ہوتی تو ہم اسے بہر صورت نافذ کرتے، چنانچہ ان کے حکم سے توہین رسالت کی سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ سے یہ اپیل واپس لے لی گئی جو بوجہ دستبرداری خارج ہوگئی، جس کے بعد یہ قانون مکمل طور پر سارے ملک میں نافذ ہوگیا۔ اس طرح نہ صرف عاجز، مرحومہ آپا نثار فاطمہ اور مولانا سید محمد متین ہاشمی مرحوم کی بلکہ پوری امت مسلمہ کی دلی آرزو پوری ہوئی۔ اس فیصلہ کی بدولت حضور رسالت مآب ﷺ کی ایک ایسی سنت تازہ ہوئی جس پر تمام مسلمانوں کے ایمان کا دارومدار ہے۔ جس کے لئے فیڈرل شریعت کورٹ کے فاضل چیف جسٹس جناب گل محمد خان مرحوم اور ان کے تمام رفقاء جج حضرات بھی پوری امت مسلمہ کی جانب سے مستحق مبارکباد ہیں۔
.........اسلامی قانون تعزیر میں کسی جرم کی جتنی سنگین سزا مقرر ہے، اسی قدر کڑی شرائط بھی اس کے ثبوت کے لئے درکار ہیں، چنانچہ حد کی سزا میں شہادت کا معیار عام شہادت کے معیار سے بہت زیادہ سخت اور غیر معمولی ہے۔ حدود کی سزا کے لئے ایسے گواہوں کی شہادت قابل قبول ہوتی ہے جو گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتے ہوں......... حد کی سزا کا ایک بنیادی رکن ملزم کی ”نیت“ ارادہ اور ”قصد“ ہے۔ ایسی تحریر یا تقریر جو انبیائے کرام علیہم السلام یا نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کی نیت سے قصداً ہو تو اسے قابل مواخذہ جرم قرار دیا جائے گا۔
......... اس کے علاوہ ”شک“ کا فائدہ بھی اسلامی قانون کی رو سے ملزم کو پہنچتا ہے۔ اس کا ماخذ بھی وہ حدیث مبارک ہے، جس میں حکم دیا گیا ہے: ادروٴ الحدود بالشبھات حدود کی سزاؤں کو شبہات کی بناء پر ختم کیا جائے۔ سال1991ء سے اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد سے آج تک کسی ایک شخص کو پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے قانون توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت نہیں دی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قانون توہین رسالت ان تمام لوگوں کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے جن کے خلاف فرد جرم ثابت نہ ہو، ورنہ سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد1860ء میں جب برطانوی حکومت نے ہندوستان میں قانون توہین رسالت کو منسوخ کیا تو اس کے بعد مسلمان سرفروشوں نے اس قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور گستاخان رسول کو قتل کرکے کیفر کردار تک پہنچاتے رہے....... قانون توہین رسالت کے پاکستان میں نافذ ہوجانے کے بعد اب اس کی سزا کا معاملہ افراد کے ہاتھوں کے بجائے عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آگیا، جو تمام حقائق اور شہادتوں کا بغور جائزہ لے کر جرم ثابت ہونے کے بعد ہی کسی ملزم کو مستوجب سزا قرار دے گی۔
....... مسیحی برادری کو تو قانون توہین رسالت کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چاہئے تھا کیونکہ اس قانون کی رو سے جناب مسیح اور دیگر انبیاء علیہم السلام جنہیں عیسائی اور مسلمان سب ہی اپنا پیغمبر برحق مانتے ہیں ان کی شان میں گستاخی اور اہانت قابل تعزیر جرم بن گیا ہے اور ان کی اہانت اور توہین کی وہی سزا مقرر ہے جو خاتم الانبیاء حضرت مصطفیٰ ﷺکی جناب میں گستاخی کی سزا ہے۔ مسلمان ان تمام پیغمبروں کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جیسا کہ یہودی اور عیسائی اپنے پیغمبروں کا احترام کرتے ہیں، اس لئے وہ ان کے بارے میں کسی قسم کی گستاخی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔"