واش روم کی صفائی ” معیار“ کے مطابق نہ ہونے کے سنگین جرم پر کمشنر گوجرانوالہ اور ان کے گن مین کانسٹیبل کی طرف سے اسسٹنٹ کمشنر نارووال سے کیا گیا”خصوصی سلوک“ شرمناک توہے ہی، انتہائی افسوسناک بھی ہے۔ جہاں کمشنروں کے گن مین اسسٹنٹ کمشنروں سے ان کی کارکردگی کی رپورٹ طلب کرنے لگیں اور جس ملک میں اسسٹنٹ کمشنر عہدے کے انتظامی افسر کی ذمہ داری صرف یہ رہ جائے کہ وہ چند لمحوں کیلئے دورے پر آنے والے وزیر اعلیٰ کا واش روم چیک کرتا پھرے اور جہاں کمشنر صاحب بہادر کی اس بات پر جان نکل رہی ہو کہ وزیر اعلیٰ کے واش روم کی چمک دمک میں کوئی کمی نہ رہ جائے وہاں طرز حکومت کا معیار کیا ہو سکتا ہے اس پر ایک لفظ کہنے کی بھی ضرروت نہیں۔کمشنر گوجرانوالہ کو جتنی فکر وزیر اعلیٰ پنجاب کے واش روم کی صفائی ستھرائی کی تھی کاش اس سے آدھی اپنی کمشنری کی حدود کی صفائی ستھرائی کی بھی ہوتی…؟ ملک بھر میں چھوٹے بڑے تمام سرکاری اہل کاروں کو بات بے بات تشدد کا نشانہ بنانا معمول بنتا جا رہا ہے آج اخباری صفحات اور نیوز چینلز پر قانون کی وردی پہنے ہوئے پولیس اہل کاروں کی سرعام مار کٹائی کی جا رہی ہے اس وردی کو اگر کپڑوں کے چند ٹکڑے سمجھا جائے تو یہ انتہائی غلط ہو گا۔ وردی اس مملکت کی رٹ کا مظہر ہوتی ہے اس کااحترام وردی پہننے والوں پر سب سے زیا دہ لازم ہے کہ وہ تمام دنیاوی لالچ چھوڑ کر اپنی وردی کو عزت و احترام دلائیں۔
شہریوں اور وکلاء کی طرف سے جس دیدہ دلیری سے پولیس والوں کو جب چاہا جہاں چاہا مارا پیٹا جاتا ہے اس پر ہیومن رائٹس اور آزاد عدلیہ کے دعویدار آواز تک نہیں اٹھاتے لیکن جب مملکت کے نظام کو تباہ و برباد کرنے والے خطرناک ترین مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچایا جاتا ہے تو یہی ادارے اور میڈیا طوفان اٹھا دیتے ہیں۔ کبھی کبھی ان کی خاموشی اور دو رخی کچھ اور ہی پیغام دیتی ہے؟(یہ بہت حساس موضوع ہے اس پر میں تفصیل سے لکھ رہا ہوں لیکن میری درخواست ہے کہ جس طرح دفاعی معاملات پر کیبنٹ کو یا پارلیمنٹ کو ان کیمرہ بریفنگ دی جاتی ہے اسی طرح امن عامہ کے حالات کی سنگینی پر پولیس کا موقف جاننے کیلئے سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کو ان کیمرہ بریفنگ لینی چاہئے) جب پولیس وردی میں ملبوس اہل کاروں کی پٹائی کے منا ظر بچے بوڑھے جوان روزانہ گھروں بازاروں میں بیٹھے ہوئے دیکھیں گے تو اس ملک اور معاشرے کو جنگل اور جنگلی بنتے دیر نہیں لگے گی۔ پولیس کی وردی ریاست کی عزت ہوتی ہے لیکن صد افسوس کہ جگہ جگہ ریاست وقت کی ”یہ عزت“ سب کے سامنے تار تار کی جا رہی ہے لیکن ریاست ہے کہ اپنے ووٹوں اور گروہوں کو ساتھ رکھنے کی قیمت پر کسی طوائف کی طرح اپنی عزت کے دام چکا رہی ہے۔ ان کی خدمت میں قیام پاکستان سے پہلے انگریز ی دور میں ” مملکت کی عزت اور وردی کے مقام“ کا ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔ پولیس کی فل یونیفارم پہنے ہوئے سب انسپکٹر گنڈا سنگھ نے سرحد کے گورنر جارج کننگھم کو سلیوٹ کیا اور اگلے ہی لمحے اپنی چمڑے کی پولیس بیلٹ اتار کر گورنر کے سامنے میز پر رکھ دی گورنرسرحد جارج کننگھم اور اس کا اسٹاف ابھی حیران وپریشان گنڈا سنگھ کے اس فعل کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ اس نے ایک کاغذگورنر کی طرف بڑھا دیا جس میں اس نے پولیس کی ملازمت سے استعفیٰ دیتے ہوئے لکھا تھا”کیا ہم اب اسی قابل رہ گئے ہیں کہ ہمارا مذاق اڑایا جائے دفتروں کے بعد سڑکوں اور چوکوں پر ہمیں طاقتوروں کی طرف سے ذلیل کیا جائے؟ قانون کی عظمت کیلئے کام کرنے والوں کو جب سرعام رسوا کیا جانے لگے تو یہی بہتر ہے کہ استعفیٰ دے کر گھرچلے جائیں۔گورنر سرحد جارج کننگھم اپنی جگہ سے اٹھا اور سب انسپکٹر گنڈا سنگھ کو بیلٹ باندھنے کا حکم دیتے ہوئے اپنے سامنے رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور استعفے میں لکھی گئی مکمل تفصیل پڑھنے کے بعد اس نے ایک بھرپور نظر گنڈا سنگھ کی طرف ڈالی اور دوسرے ہی لمحے گورنر سرحد جارج کننگھم نے ہاٹ لائن پر فوری طور پر وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے رابطہ کیا ۔ قیام پاکستان سے پہلے پشاور کے ہشت نگری پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک ہندو لڑکے رمیش کھنہ کے ہاتھوں ایک مسلم نوجوان کا قتل ہو گیا قاتل انتہائی امیر کبیر اور سیاسی طور پر بڑے طاقتور بھاٹیہ خاندان سے تعلق رکھتا تھا جبکہ مقتول مسلمان لڑکا عام سے غریب گھر سے تھا اس تھانے کا انچارج سب انسپکٹر گنڈا سنگھ ایک سکھ تھا قاتل کے باپ پریم چند کھنہ نے متعلقہ ایس ایچ او کو اس وقت دو لاکھ روپے (آج کے دو کروڑ) رشوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر اور تفتیشی مواد اس طرح کا ہونا چاہئے کہ پہلی یا دوسری پیشی پر میرا بیٹا بری ہو جائے۔ ایس ایچ او نے جب ایسا کرنے سے معذوری ظاہر کی تو قاتل کے باپ نے جو اپنی دولت اور دوسری جنگ عظیم میں سلطنت برطانیہ کو لاکھوں روپے چندہ دینے کی وجہ سے اعلیٰ حلقوں میں انتہائی اثر و رسوخ رکھتا تھا اسے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ اس کے خلاف کارروائی کرائے گا۔ ایس ایچ او نے اسے اپنی بے عزتی سمجھا اور یہ کہہ کروہاں سے اٹھ آیا کہ وہ صرف سرکار کے بنائے گئے قانون پر عمل کرے گا۔ (جاری ہے)