• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

واش روم ، وردی اور گنڈا سنگھ.....ایک اور ایک…منیراحمد بلوچ(گزشتہ سے پیوستہ)

سب انسپکٹر گنڈا سنگھ نے حالات و واقعات کے مطابق مسلم نوجوان کے قتل کے اس مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کر دیا قتل کی یہ واردات چونکہ دن دہاڑے اور سر بازار ہوئی تھی اور گواہان بھی معتبر تھے اس لئے تین چار ماہ بعد ہی عدالت نے قاتل کو سزائے موت کاحکم دے دیا سیشن جج کے اس فیصلے کے خلاف قاتل کے باپ نے چوٹی کے وکیلوں کے ذریعے پہلے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیلیں کیں لیکن سب مسترد ہو گئیں اور موت کی سزا بحال رہی گورنر سرحد سے رحم کی اپیل کی گئی جسے اس نے مسترد کر دیا،لارڈ ماؤنٹ بیٹن اس وقت وائسرائے ہند تھا اس کے پاس بھیجی گئی اپیل بھی اس بنا پر مسترد کر دی گئی کہ مقدمہ کی بنیاد اور فیصلہ واضح اور صاف تھا۔وائسرائے ہند سے مجرم کی رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد اس وقت کی انگریز حکومت کے ہندو اور سکھ وزراء جن میں صوبہ سرحد کے وزیر خزانہ مہر چند کھنہ اور سردار بلدیو سنگھ شامل تھے انہوں نے اپنے اثر و رسوخ سے قاتل کے باپ کو لندن میں خاص طور پر شہنشاہ برطانیہ کی تاج پوشی کی رسم میں شرکت کا دعوت نامہ بھی جاری کرا دیا تاکہ وہ اس پُرمسرت موقع پر اپنے بیٹے کی جان کی معافی حاصل کر سکے شہنشاہ برطانیہ کیلئے چونکہ یہ بہت ہی خوشی کا موقع تھا اس لئے جب شاہی دربار کو بتایا گیا کہ پریم چند کھنہ نے چند سالوں میں تخت شاہی کو جنگی اخراجات کیلئے کئی لاکھ روپے چندہ دیا ہے تو جارج ہفتم نے کھنہ کی رحم کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے قاتل کی سزا کی منسوخی کاحکم شاہی جاری کر دیا․․․․ پریم چند کھنہ احکامات شاہی لے کر لندن سے پشاور پہنچا اور پھر ڈھول ڈھمکوں کی گونج میں ایک جلوس کی صورت میں اپنے بیٹے کو جیل سے گھر لے آیا۔
کوئی دو ہفتے بعد سب انسپکٹر پولیس گنڈا سنگھ رات کے وقت پشاور کے کریم پورہ بازار میں عملے کے کچھ لوگوں کے ہمراہ گشت کر رہا تھا کہ کھنہ کے ساتھ اس کا آمنا سامنا ہو گیا اس نے گنڈا سنگھ کی طرف دیکھتے ہوئے زور سے زمین پر تھوکتے ہوئے کہا…دیکھ لیا میری قوت اور پہنچ کو، کہاں گیا تمہارا قانون اب میں بہت جلد تمہاری یہ وردی اتروا کر تمہیں گھر بھجواؤں گا۔ اس کے زور زور سے بولنے پر اردگرد کے لوگ بھی اکٹھے ہو چکے تھے…گنڈا سنگھ اسی رات کسی طریقے سے گورنر سرحد سے ملاقات کا وقت لینے میں کامیاب ہو گیا اور دس بجے صبح وہ گورنر کے سامنے کھڑا تھا گورنر سرحد جارج کننگھم استعفیٰ کی عبارت پڑھتے ہی گنڈا سنگھ کو عزت و احترام سے اپنے سامنے کرسی پر بٹھاتے ہوئے وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ سے درخواست کر رہا تھا کہ سرکاری اہل کاروں کی عزت و وقار کا اگر خیال نہ رکھا گیا تو ان میں بد دلی پھیل جائے گی جب قاتل اور مجرم شہنشاہ برطانیہ کے نام سے بری ہونے کے بعد شہنشاہ کے ہی نافذ کردہ قوانین کی تکمیل کرانے والوں کا سربازار تمسخر اڑانا شروع ہو جائیں تو تاج برطانیہ کی عزت و احترام میں آہستہ آہستہ فرق پڑنا شروع ہو جائے گا جو کل کو خطرناک ہو سکتا ہے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے گورنر کو اپنی مجبوری بتاتے ہوئے کہا کہ اب میں کس طرح شہنشاہ معظم سے کہوں کہ وہ اپنے جاری کردہ حکم شاہی کو واپس لے لیں لیکن گورنر سرحد کے مضبوط دلائل نے وائسرائے ہندکو مجبور کر دیا کہ وہ شہنشاہ برطانیہ کی خدمت میں تمام تفصیل لکھ کر بھیج دیں۔
وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے شاہی دربار سے کھنہ کی سزائے موت معاف ہونے کے بعد ڈھول ڈھمکے کے ساتھ جلوس اور اس کے لواحقین کی طرف سے سب انسپکٹر پولیس گنڈا سنگھ کی ایمانداری اس کی سر بازار تضحیک اور اس کے استعفے کی مکمل تفصیلات شہنشاہ برطانیہ جارج ہفتم کے دربار میں بھیجتے ہوئے شاہی احکامات پر نظر ثانی کی درخواست کی۔ شہنشاہ برطانیہ جارج ہفتم کو جب متعلقہ سب انسپکٹر پولیس کے استعفے اور اصل صورت حال کا علم ہوا تو تاج شاہی نے اپنے ذاتی وقار اور انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے قاتل کی معافی کے اپنے جاری کردہ احکامات فوری منسوخ کر دیئے۔ سب انسپکٹر گنڈا سنگھ کو فوری طور پر انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔




تازہ ترین