• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برہان الدین ربانی کی ہلاکت کے بھیانک نتائج...جرگہ…سلیم صافی

گزشتہ ماہ کابل میں جب میں ان کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہورہا تھا تو میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ یہ اس شائستہ اور نفیس انسان کے ساتھ آخری ملاقات ہوگی۔ پروفیسر برہان الدین ربانی چند ماہ قبل جب پاکستان تشریف لائے تھے تو انہوں نے خصوصی طور پر ملاقات کے لئے بلایا ۔ یہاں چونکہ وقت کم تھا اس لئے انہوں نے تاکید کی کہ تفصیلی گپ شپ کے لئے کابل حاضر ہوجاؤں۔ چنانچہ گزشتہ ماہ جب کابل گیا تو انہیں اطلاع دی اور انہوں نے اگلے ہی دن گپ شپ کے لئے اسی گھر پر طلب کیا جہاں انہیں خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ میں نے جیو نیوز کے لئے انٹرویو کی خواہش ظاہر کی تو وہ بلاتامل مان گئے ۔ پھر میں نے اردو میں بولنے کا مطالبہ کیا تو وہ اس پر بھی آمادہ ہوئے۔ یہ سب صرف میری عزت افزائی کی خاطر نہیں کررہے تھے بلکہ ان کی طرف سے پاکستان کے قریب آنے کے لئے ان کی شعوری کوششوں کا تسلسل بھی تھا۔ ہم پاکستانیوں نے اگرچہ برہان الدین ربانی کو بھی پاکستان مخالف افغانوں کی صفوں میں شامل کیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کبھی دل سے پاکستان کے مخالف نہیں رہے بلکہ ہم اپنی حرکتوں سے انہیں پاکستان کی مخالفت پر مجبور کراتے رہے ۔ مجبوراً مخالف بن جانے کے بعد بھی وہ دوسروں کے برعکس آخری حدوں تک جانے سے گریز کرتے اور جب کبھی پاکستان کی طرف سے ان کی طرف ایک قدم بڑھایا جاتا تو وہ جواب میں دو قدم بڑھادیتے۔ دنیا جانتی ہے کہ 1994ء سے لے کر 2001ء تک پاکستان ڈٹ کر ان کے مخالف طالبان کو سپورٹ کرتا رہا اور جواب میں برہان الدین ربانی اپنی بقا کے لئے ایران تاجکستان روس اور ہندوستان سے مدد لیتے رہے۔ نائن الیون کے بعد ربانی صاحب متوازی حکومت کے صدر کے طور پر امریکی ٹینکوں پر بیٹھ کر کابل میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔ اس موقع پر ان کے ساتھ کابل میں آنے والے دیگراکثر افغان رہنما پاکستان کے ساتھ اسکور برابر کرنے لگے اور چاہتے تو پروفیسر ربانی بھی ایسا کرسکتے تھے لیکن ایسا کرنے کی بجائے انہوں نے الٹا پاکستان کے ساتھ دوستی کے لئے کوششیں شروع کیں۔ انہیں کوئی اور راستہ نظر نہ آیا تو مجھ جیسے معمولی اخبارنویس سے رابطہ کرلیا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے کسی کردار سے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کردی کہ میں ایک صحافی ہوں اور دو سیاسی قوتوں یا دو ملکوں کے مابین لین دین میرا کام نہیں ۔ اس وقت کے حکومتی سیٹ اپ میں بااختیار لوگوں تک میری رسائی نہیں تھی چنانچہ افغان پالیسی سے ایک غیرمتعلق حکومتی شخصیت یعنی اس وقت کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنرلیفٹیننٹ جنرل (ر) سید افتخار حسین شاہ تک ان کا پیغام پہنچایا اور پھر ربانی صاحب نے خود فون کرکے ان سے بات کی اور پاکستان کے ساتھ تمام تلخیاں بھلانے اور ازسرنو تعلقات استوار کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ معاملہ آج تک میرے دل میں راز ہی رہا اور سید افتخار حسین شاہ جو ماشاء اللہ حیات ہیں  سے اس کی تصدیق کرائی جاسکتی ہے لیکن اس کے بعد ہمارے پالیسی سازوں نے ربانی صاحب سے متعلق روایتی رویّے کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے پچھلے سالوں میں وہ پاکستان سے دور رہے تاہم وہ قریب آنے کے لئے پھر بھی اپنے تئیں کوشش کرتے رہے۔ وہ خان عبدالولی خان کے جنازے میں شرکت کے لئے پشاور آئے تو مجھ سے شکایت کی کہ پشاور میں ان کی جائیداد پر کچھ لوگوں نے قبضہ کرلیا ہے اور جب میں نے معلومات حاصل کیں تو اس میں اس وقت کی بعض حکومتی شخصیات کا ہاتھ تھا۔ اب جبکہ ہمارے پالیسی سازوں نے گزشتہ سال ان کو قریب لانے کے لئے تھوڑی سی کوشش کی تو ربانی صاحب اس قدر پاکستان کے قریب آئے کہ کابل میں پاکستان مخالف عناصر انہیں آئی ایس آئی کے ایجنٹ کے طعنے دینے لگے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہائی پیس کمیشن کے سربراہ کے طور پر ان کی تقرری کی تجویز صرف حامد کرزئی کی تجویز نہیں تھی بلکہ اس میں حکومت پاکستان کی خواہش بھی شامل تھی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اندر سے ربانی صاحب کس قدر پاکستان کے قریب آگئے تھے۔
ماضی میں جینے اور اسٹیبلشمنٹ کے روایتی مفروضوں کی بنیاد پر تجزیے کرنے والے ہائی پیس کمیشن کے کام کو بھی ایک کار لاحاصل سمجھتے ہیں اور یہ باور کرارہے ہیں کہ برہان الدین ربانی کی ہلاکت سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن میرے نزدیک نہ صرف افغانستان ایک عالم دین  معاملہ فہم اور عالمی سطح پر نام کمانے والے رہنما سے محروم ہوگیا بلکہ امن کی کوششوں کو بھی بڑا دھچکہ لگا ہے۔ ان کی ہلاکت حامدکرزئی کی حکومت کے لئے بہت بڑا نقصان ہے لیکن اس سے بڑھ کر یہ پاکستان کے لئے بھی ناقابل تلافی نقصان ہے ۔البتہ فائدہ اگر ہوا ہے تو امریکہ یا پھر ان ممالک اور قوتوں کو ہوا ہے جو طالبان اور افغان حکومت کی ایسی صلح نہیں چاہتے جس میں پاکستان کا بھی کلیدی کردار ہو۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات امریکی بھی کررہے ہیں اور سیاسی حل وہ بھی چاہتے ہیں لیکن امریکیوں کے مذاکرات اور ربانی صاحب کے مذاکرات میں بڑا فرق ہے۔ اسی طرح امریکہ کے مطلوبہ سیاسی حل اور ربانی صاحب کے کمیشن کے مطلوبہ سیاسی حل میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ امریکی طالبان میں پھوٹ ڈالنے اور ملّا محمد عمر کو بائی پاس کرکے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جبکہ حامد کرزئی اور ربانی صاحب واضح کرچکے ہیں کہ مذاکرات ملّامحمد عمر اور گلبدین حکمت یار سے ہوں گے۔ امریکہ ایسا سیاسی حل چاہتا ہے جو ان کی شرائط پر ہو اور جس سے پاکستان بلکہ کسی حد تک کرزئی حکومت بھی باہر ہو جبکہ ربانی صاحب کا کمیشن سارا کام پاکستان کے موثر رول کے ساتھ حامد کرزئی کی ہدایت میں کر رہا تھا۔ اسی وجہ سے ربانی صاحب کو پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ کمیشن کا بھی رکن بنایا گیا تھا بلکہ میرے ساتھ اپنے آخری انٹرویو میں تو انہوں نے یہ شکوہ کیا کہ ہم پاکستان سے جس فعال اور قائدانہ کردار کی توقع کر رہے ہیں وہ حسب توقع اسے ادا نہیں کر رہا ۔ جیو کو دیئے گئے اس آخری انٹرویو میں برہان الدین ربانی نے امریکیوں پر شدید تنقید کی کہ وہ افغان ہائی پیس کمیشن کو بائی پاس کرکے طیب آغا سے مذاکرات کر رہے تھے ۔اسی طرح ربانی صاحب 2014ء کے بعد افغانستان میں امریکیوں کو مستقل اڈے دینے کے شدید مخالف تھے اور اعلانیہ طور پر اس کا اظہار کررہے تھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ربانی صاحب کی ہلاکت سے امن کی ان کوششوں کو شدید دھچکہ پہنچا ہے جو افغانستان اور پاکستان کی حکومتیں اس ہائی پیس کمیشن کے ذریعے کرنا چاہ رہی تھیں اور جس پر امریکی اندر سے خوش نہیں تھے۔
گزشتہ صدارتی انتخابات تک برہان الدین ربانی، حامد کرزئی کے مخالف کیمپ کے لیڈر تھے۔ انتخابات کے دوران پنجشیری مارشل قاسم فہیم کو اپنے ساتھ سینئر نائب صدر نامزد کرکے حامد کرزئی نے بڑی دانشمندی کا ثبوت دیا ۔ اسی طرح انہوں نے ازبک رشید دوستم اور ہزارہ کمیونٹی کے رہنماؤں کو بھی ساتھ ملا لیا تھا۔ ہائی پیس کمیشن کا سربراہ مقرر کرکے حامد کرزئی نے پروفسیر ربانی کے ذریعے ایک تیر سے دو شکار کئے تھے۔ ان کی تقرری سے پختون اور غیرپختون افغان کا تناؤ نہایت کم ہوگیا۔ اسی طرح ابتدا میں غیرپختون عناصر اور بالخصوص تاجکوں کی طرف سے طالبان اور حکمت یار کے ساتھ مصالحت کی شدید مزاحمت ہورہی تھی لیکن ربانی صاحب جیسی قدرآور تاجک شخصیت کو اس عمل کی قیادت سونپنے سے نہ صرف وہ مخالفت کم ہوگئی بلکہ چھوٹی قومیتوں کو یہ اطمینان ہوگیا کہ طالبان کے ساتھ مصالحت ان کی قیمت پر نہیں ہوگی۔ ربانی صاحب کی ہلاکت کے بعد یہ لسانی تناؤ ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ سامنے آئے گا اور اب غیرپختون افغانوں کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی مزاحمت پھر شدت اختیار کرسکتی ہے۔ یقینا پاکستانی دفتر خارجہ اور بالخصوص کابل میں پاکستانی سفیر محمد صادق کی کوششوں کا بھی دخل ہے لیکن حامد کرزئی کے بعد پروفسیر ربانی شمال کی افغان قیادت اور پاکستان کے درمیان اہم پل بن گئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد نہ صرف یہ پل ٹوٹ گیا بلکہ چونکہ غالب اکثریت ان کے قتل کاالزام طالبان پر لگائے گی اور پاکستان پر طالبان کی پشت پناہی کا الزام لگایا جاتا ہے  اس لئے غیرپختون افغانوں اور بالخصوص تاجک افغانوں میں پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبات ایک بار پھر بھڑک اٹھنے کا اندیشہ ہے۔
پروفیسر برہان الدین ربانی اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک بات تسلسل کے ساتھ کیا کرتے تھے اور جیو نیوز کے لئے میرے ساتھ آخری انٹرویو میں بھی ربانی صاحب نے اپنی اس بات کو دہرایا تھا کہ جو لوگ جنگ پر اصرار کررہے ہیں وہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی کے لئے جواز فراہم کررہے ہیں اور یوں وہ امریکہ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ جس نے بھی  جس بھی نیت سے اور جس بھی مقصد کے لئے ربانی صاحب کو نشانہ بنایا ہے لیکن میری حقیر رائے یہ ہے کہ بہرحال ان کی ہلاکت سے افغانستان کو اسلام کو اور افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلاء یا پھر امن کے قیام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ لیڈر سالوں میں بنتے ہیں اور وہ کسی بھی نظریئے اور سوچ کے حامل ہوں قوم کا سرمایہ ہوا کرتے ہیں ۔ یوں ربانی صاحب افغانستان کا ایک بڑا سرمایہ تھے۔ ربانی صاحب تو چلے گئے اور اب واپس نہیں آسکتے لیکن ان کی طرح کی افغان شخصیات کو جو بھی، جس بھی مقصد کے لئے مارے گا اس سے افغانستان اور اسلام کو نقصان اور ان دنوں کے دشمنوں کو فائدہ پہنچتا ہے جب کہ یہی کلیہ پاکستان پر بھی صادق آتا ہے۔

تازہ ترین