• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لوڈ شیڈنگ کے اعزاز میں ایک خوبصورت تقریب!... روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی

ان دنوں پورے ملک میں لوڈ شیڈنگ کی دھومیں مچی ہوئی ہیں۔ اس کے کمالات کے معترف ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ پاکستانی قوم کو بے بہا خوشیوں سے ہم کنار کرنے والی اس محسنِ قوم کے اعزاز میں گزشتہ روز ایک خوبصورت شام منعقد کی گئی۔ جس میں لوڈ شیڈنگ کے مداحین نے بہت کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس یادگار شام کی صدارت جناب بخیل نینی تال پوری نے کی اور مہمان خصوصی خاں صاحب خان محمد تھے! ہال کو بہت منفرد انداز سے سجایا گیا تھا۔ دیواروں پر چمگادڑوں کی تصویریں بنائی گئی تھیں۔ اسٹیج پر کیکٹس کے پودے گملوں سمیت دھرے تھے۔ معزز مقررین کو تقریب کے آغاز میں تحائف بھی پیش کئے گئے جن میں خشک دریاؤں اور ویران مناظر کی پینٹنگز کے علاوہ الو کے ماڈل بھی شامل تھے۔ ہال برقی قمقموں سے جگ مگ کر رہا تھا۔ مگر جونہی لوڈ شیڈنگ اپنے مداحوں کے جلو میں ہال میں داخل ہوئی تو لائٹس آف ہو گئیں اور روشنی کی جگہ گھپ اندھیروں نے لے لی۔ اس پر اسٹیج سیکرٹری نے یہ شعر پڑھ کر محترمہ کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی
وہ آئے بزم میں اتنا تو ہم نے دیکھا میر
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
اسٹیج سیکرٹری دلگیر میر نے شعر پڑھنے کے بعد کہا کہ یہ شعر انہوں نے ابھی ابھی کہا ہے اور یہ بھی لوڈ شیڈنگ صاحبہ کا فیضان ہے۔
اسٹیج سیکرٹری نے محترمہ سے پوچھا کہ ہم آپ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں آپ کی مصروفیات بہت زیادہ ہیں۔ آپ سارا سال پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنے مداحوں کے پاس آتی جاتی رہتی ہیں، ہماری خواہش ہے کہ آپ لاہوریوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیا کریں۔ اس پر لوڈ شیڈنگ نے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے با آواز بلند کہا ”آپ خاطر جمع رکھیئے، میں آج شام سات بجے سے صبح سات بجے تک آپ کے ساتھ ہوں۔ اس کے بعد صرف آدھ گھنٹے کے لئے میں نے آرام کرنا ہے چنانچہ آپ کے لئے وقت کی کوئی قید نہیں۔ میں نے آپ سے پیمان وفا باندھا ہوا ہے چنانچہ جب تک یہ حکومت قائم ہے، میں انشاء اللہ 24 گھنٹے آپ کے ساتھ رہوں گی۔ محترمہ کے اس اعلان کا پُر جوش تالیوں سے استقبال کیا گیا!
لوڈ شیڈنگ کے اعزاز میں منعقدہ اس تقریب میں جن ”فضلہ“ نے اپنے مقالات پڑھے، ان میں سے شیدے کن ٹٹے کا مقالہ بہت پسند کیا گیا، شیدے کن ٹٹے کا کہنا تھا کہ ہر طرح کے جرائم کے لئے رات سے بہتر وقت کوئی نہیں، چنانچہ جب سے عزت مآب لوڈ شیڈنگ صاحبہ نے ہماری سرپرستی کا بیڑا اٹھاتے ہوئے بستیوں کی بستیوں کو گھپ اندھیرے میں غرق کر دیا ہے اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے سارے دھندے روز افزوں ہیں، موصوف نے آخر میں لوڈ شیڈنگ کی درازی عمر کے لئے دعا کی۔
ایک مقرر جن کا نام مجھے یاد نہیں رہا، انہوں نے بھی لوڈ شیڈنگ صاحبہ کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔ یہ مقرر نابینا تھے۔ انہوں نے محترمہ کو اپنے طبقے کا سب سے بڑا محسن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی آمد سے قبل آنکھوں والے ہمارا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ محترمہ نے ان ظالموں کو نشان عبرت بنا دیا۔ اب یہ بینا حضرات شام سے لے کر رات کے اختتام تک ہماری ہی طرح نابینا ہو جاتے ہیں۔ ہم تو پھر بھی برس ہا برس کی ریاضت اور تجربے کے بل بوتے پر مکمل اندھیروں میں بھی چل پھر لیتے ہیں جبکہ تازہ تازہ نابینا ہونے والے یہ لوگ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے نظر آتے ہیں۔ ان ظالموں نے ہمیں LET DOWN کرنے کے لئے ”اندھا بانٹے ریوڑیاں اور اپنوں ہی کو دے“ ایسے توہین آمیز محاورے ایجاد کئے ہوئے تھے۔ اسی طرح ہم ”حافژوں“ کے بڑے شرمناک لطیفے بھی یہ لوگ محفلوں میں بیان کرتے تھے اور ہنس ہنس کر دہرے ہوتے تھے۔ اب یہ سب ہماری طرح ”حافژ“ ہیں اور راتوں کو اٹھ اٹھ کر محترمہ کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں۔ میں انٹرنیشنل نابینا ایسوسی ایشن کی طرف سے اعلان کرتا ہوں کہ اگر محترمہ کی شان میں گستاخیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو ہم حقیقتاً وہی کچھ کریں گے جو مفروضوں پر مبنی لطیفوں میں ہمارے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے۔
حاجی خوشحال نور پوری تو اپنی تقریر میں محترمہ کو خراج عقیدت پیش کرتے کرتے مغربی دنیا پر چڑھ دوڑے، انہوں نے کہا کہ اہل مغرب نے ہمیں اپنے کلچر سے محروم رکھنے کے لئے ریفریجریٹر، ایئر کنڈیشنر، برقی استری، مائیکرو ویو اوون، پنکھے اور اس نوع کی دوسری بدعات روشناس کرائیں۔ پاکستانی قوم پر محترمہ لوڈ شیڈنگ کا یہ عظیم احسان ہے کہ اب ہم لوگ ان شیطانی ایجادات سے نجات حاصل کر چکے ہیں چنانچہ ٹھنڈے پانی کے لئے فریج کی بجائے صراحیاں، کمرے کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے حس کی ٹٹیاں، کھجور کے بنے ہوئے دستی پنکھے، کھانا گرم کرنے کے لئے مائیکرو ویو اوون کی بجائے لکڑیوں یا لکڑیوں کے بورے سے جلنے والی انگیٹھیاں اور کپڑوں کو استری کرنے کے لئے برقی استری کی بجائے کپڑوں کو تہہ کر کے رات کو سرہانے کے نیچے رکھنے کا دور شروع ہو چکا ہے، میں اسے ملت اسلامیہ کی نشاط ثانیہ کا آغاز سمجھتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ یہ تحریک پاکستان کے علاوہ نیل کے ساحل سے تابخاک کاشغر پھلتی پھولتی نظر آئے۔ اس پر کسی کونے سے ایک خاتون کی آواز آئی ”در فٹے منہ، بندے کی شکل بری ہو، تو وہ بات تو اچھی کرے“ جس پر اس شر پسند خاتون کو دھکے دے کر ہال سے باہر نکال دیا گیا۔ (جاری ہے)

تازہ ترین