• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آہ عطاء الحق قاسمی !... روزن دیوارسے …عطاء الحق قاسمی

جنوری 1976ء میں، میں نے ”آہ عطاء الحق قاسمی کے عنوان سے ”اپنی وفات پر“ ایک تعزیتی کالم لکھا تھا جس پر مجھے قدرت اللہ شہاب کا یہ مختصر سا خط موصول ہوا۔ ”آہ عطاء الحق قاسمی پڑھا، دل سے بے اختیار واہ عطاء الحق قاسمی نکلا“ جبکہ میرے کچھ ”دوستوں“ کو یہ کالم محض میری وفات کے تذکرہ کی وجہ سے اچھا لگا چنانچہ ان کی ضد تھی کہ وفات پا جانے والی اس لذیذ حکایت کو دراز کیا جائے سو ان کی خواہش کے احترام میں یہ سلسلہ دراز کر رہا ہوں، آج اس کی پہلی قسط ملاحظہ فرمائیں۔
ممتاز کالم نویس، منفرد سفرنامہ نگار، مقبول ڈرامہ سیریز کے خالق، خاکہ نگار، ادبی جریدے”معاصر“ کے ایڈیٹر اور ٹھیک ٹھاک شاعر عطاء الحق قاسمی کی وفات سے ادبی حلقوں میں جو خلاء پیدا ہوا ہے، وہ آسانی سے پُر ہو جائے گا کیونکہ اس سے پہلے بھی لوگ مرتے آئے ہیں اور ہماری اور آپ کی خواہشات کے برعکس دوسرے لوگ ان کی جگہ لیتے رہے ہیں، مرحوم بڑے ہنس مکھ اور زندہ دل واقع ہوئے تھے، بات بات پر قہقہے لگاتے تھے اور پھر رات کو سوتے وقت ان قہقہوں کا جواز بھی تلاش کرتے تھے۔ ان کا تعلق ایک ممتاز علمی اور مذہبی گھرانے سے تھا… گھر میں انہیں سوشلسٹ سمجھا جاتا تھا جبکہ سوشلسٹ حلقوں میں ان کا شمار جماعت اسلامی کے صلحاء میں ہوتا تھا۔ دراصل مرحوم کی شخصیت خاصی الجھی ہوئی تھی۔ چنانچہ ان کے ایک دوست گلزار وفا چودھری کا کہنا تھا کہ اس شخص کا دل مومن اور دماغ چینی ہے جبکہ مرحوم اس سلسلے میں خاموشی اختیار کرتے تھے۔ مرحوم کی طبیعت میں اضطراب بھی بہت تھا۔ ماحول کی یکسانیت سے اکتا جاتے تھے۔ روزانہ کسی ایک شخص کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے تھے۔ کسی کے پاس آدھ گھنٹہ سے زیادہ بیٹھنا ان کے بس میں نہیں تھا اور دوسروں کے بس میں بھی نہیں تھا۔ صبح گھر سے دفتر جاتے وقت وہ روزانہ کوئی نیا راستہ اختیار کرنے کی کوشش فرماتے چنانچہ رستے کی اجنبیت کے باعث آئے دن کسی گڑھے سے برآمد ہوتے۔ ان کی تغیر پسندی کا یہ عالم تھا کہ ہر دو چار ماہ بعد ان کے دستخط تک تبدیل ہو جاتے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنے متلون مزاج ہونے کے باوجود مرحوم کی ازدواجی زندگی بہت خوشگوار تھی تاہم یہ ان کا اپنا بیان تھا جس کی تصدیق یا تردید نہیں ہو سکی۔ مرحوم بہت بے چین رہتے تھے اور سکون کے متلاشی تھے۔ چنانچہ شادی سے قبل وہ سکون کی تلاش میں امریکہ اور یورپ کے سفر پر روانہ ہوئے لیکن دو سال بعد اپنا اور دوسروں کا سکون غارت کر کے واپس لوٹ آئے۔
وطن عزیز سے انہیں بے پناہ محبت تھی اور اس معاملہ میں انتہاء کے جذباتی تھے چنانچہ اپنی تمام تر خاندانی اور طبعی شرافت کے باوجود ”پاکستانیت“ کے مسئلہ پر دھینگا مشتی سے بھی گریز نہیں فرماتے تھے۔ انہیں تصنع بناوٹ، منافقت اور نظریاتی دھوکہ بازی سے شدید نفرت تھی اور ایسے لوگوں کو دیکھ کر ناک پر رومال رکھ لیتے چنانچہ انہیں اکثر اسی حالت میں پایا گیا۔ مرحوم کو دوسروں کے بارے میں کڑوی سے کڑوی سچی بات ان کے منہ پر بیان کرنے کا شوق تھا اور یوں بڑے حق گو تھے۔ تاہم اپنے بارے میں دوسروں کو ہمیشہ حطن ظن سے کام لینے کی تلقین کرتے۔ لیکن اس کے باوجود اگر کوئی ان کے بارے میں سچی بات کہہ دیتا تو گھنٹوں آزردہ رہتے کہ لوگوں میں کھرے اور کھوٹے کی پہچان نہیں رہی… مرحوم سکھوں کے مشہورشہر امرتسر میں پیدا ہوئے اور ان کا اندازہ ان کی بعض عادات سے بھی ہوتا تھا مثلاً یہ کہ کسی انتہائی ناخوشگوار واقعہ سے دوچار ہونے کے باوجود ٹھنڈے ٹھنڈے گھر واپس آ جاتے تھے لیکن کئی گھنٹے بعد اور بعض صورتوں میں کئی دنوں بعد اچانک انہیں خیال آتا تھا کہ اس روز تو ان کی سخت توہین ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ہی وہ پیچ و تاب کھانا شروع کر دیتے تھے۔ ان کی محبت و نفرت بھی عجب قسم کی تھی کسی دوست کی غیر دوستانہ حرکت پر ان کی نفرت انتہائی شدید لیکن عارضی نوعیت کی ہوتی تھی جبکہ ان کی محبت دھیمی دھیمی لیکن دائمی تھی!
مرحوم جمہوریت سے عشق کرتے تھے اور اس حوالے سے ان کا مزاج لڑکپن سے عاشقانہ تھا چنانچہ اسکول کے زمانے میں جنرل سکندر مرزا کے خلاف ان کا مراسلہ روزنامہ ”ہلال پاکستان“میں شائع ہوا۔ جو اس دور کا ایک معتبر اخبار تھا چودہ پندرہ سال ہی کی عمر میں جنرل ایوب خاں کے خلاف ایک نظم مولانا کوثر نیازی کے ہفت روزہ ”شہاب“ میں لکھی چنانچہ اسی رات پولیس انہیں گرفتار کر کے لے گئی اور رات کو دو بجے کوٹ لکھپت جا کر اتار دیا اور کان کھینچتے ہوئے نصیحت کی کہ برخوردار آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا، ایم اے او کالج میں گریجوایشن کے دوران دوسرے طالب علموں کے ساتھ ایوب خاں کے خلاف چلائی گئی تحریک میں شریک ہوئے، پولیس پر سنگ زنی کے دوران ایک مسٹنڈے پولیس والے نے ان کی کمر پر لاٹھی سے ایک ضرب کاری لگائی جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک درد کمر میں مبتلا رہے تاہم مرحوم کے حاسدین اس کی وجہ کچھ اور بتاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلائی گئی نام نہاد تحریک نظام مصطفی میں بطور ایک قلمی ”مجاہد“ شریک ہوئے اور طنزومزاح کے اتنے تیر چلائے کہ ایف ایس ایف کے مسعود محمود کا پیغام ان لفظوں میں وقار انبالوی کی معرفت موصول ہوا۔ ”تم ابھی نوجوان ہو اور زندگی خوبصورت ہے“ جس کا جواب مرحوم نے امرتسری لہجے اور زبان میں پیغام رساں ہی کی معرفت بھجوا دیا، مرحوم اس بات پر روتے اور ہنستے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اس دھمکی کے سترہ دن بعد پی پی پی کو اقتدار سے غاصبانہ طور پر الگ کر دیا گیا، مرحوم اس تحریک میں شمولیت پر مرتے دم تک نادم رہے کہ ان کے خیال میں یہ تحریک سی آئی اے اسپانسرڈ تھی، اسی طرح جنرل ضیاء الحق کے گیارہ سالہ دور میں مسلسل ان کے خلاف لکھتے رہے اور جونیجو حکومت کی برطرفی کے بعد ان کا رویہ اتنا جارحانہ ہو گیا کہ ایک دن ان کے اخبار کے ایڈیٹر نے بلا کر کہا ”لگتا ہے ضیاء الحق نے جونیجو نہیں، آپ کی حکومت برطرف کی ہے۔“ جب جنرل پرویز مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا تو اس وقت مرحوم تھائی لینڈ میں سفیر تھے، ان سے پوچھا گیا کہ اگر آپ اس منصب پر فائز رہنا چاہتے ہوں تو بتائیں مگر انہوں نے شکریہ ادا کیا اور 28 نومبر 99ء کو واپس پاکستان پہنچ گئے اور چار دنوں بعد یعنی دو دسمبر کو ان کا کالم ”اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے“ کے عنوان سے شائع ہوا جو جنرل پرویز مشرف کے خلاف اعلان جنگ تھا اور پھر اس کی رحصتی تک اس کے آمرانہ اقدامات کے پرخچے اڑاتے رہے، ان دنوں مرحوم تک ایک حاضر سروس جرنیل کا یہ فقرہ پہنچا کہ ”یہ شخص پہلے صرف بھونکتا تھا، اب کاٹنے بھی لگا ہے“ تاہم جمہوریت سے تمام تر محبت کے باوجود مرحوم کے اپنے اندر بھی ایک چھوٹا موٹا آمر چھپا بیٹھا تھا اور اس حوالے سے وہ یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔
ایک معصوم سا پرندہ بھی
اپنی جاگیر میں شکاری ہے
مرحوم روزانہ دوستوں کی محفل غیبت میں بہت ذوق و شوق سے شریک ہوتے اور غیبت سن کر اور غیبت کر کے خوش ہوتے تھے، البتہ ان کی زندگی کے وہ پندرہ دن بہت کٹھن تھے جو انہوں نے ضمیر جعفری کی معیت میں انڈیا میں گزارے وہ جب کسی کی غیبت کرنے کی کوشش کرتے ضمیر جعفری اس کی شخصیت کا کوئی روشن پہلو بیان کر دیتے اور یوں مرحوم ان دو ہفتوں میں غیبت کے لئے ترس کر رہ گئے۔
مرحوم خوش لباس تھے اور ان کے رہن سہن سے اس دور میں بھی جب بطور سب ایڈیٹر ان کی تنخواہ تین سو تئیس روپے ماہوار تھی ہر ایک کو یہی تاثر ملتا تھا کہ موصوف بہت خوشحال ہیں، جبکہ مرحوم کی خوشحالی کا یہ عالم تھا کہ ایک بار انہوں نے اپنے ایڈیٹر سے پانچ ہزار روپے ایڈوانس کی منظوری لی اور جب دو تین مرتبہ اکاؤٹنٹ کے پاس گئے اور اسے اپنی سیٹ پر موجود نہ پایا تو دفتر کے نائب قاصد نے اکاؤٹنٹ کے پاس ”آمدورفت“ کی وجہ پوچھی، مرحوم نے بتایا کہ پانچ ہزار روپے بطور قرض منظور ہوئے ہیں مگر اکاؤٹنٹ صاحب سیٹ پر موجود نہیں ہیں، اس پر نائب قاصد نے جیب سے پانچ ہزار روپے نکالے اور کہا ”یہ آپ رکھیں، جب آپ کو پیسے مل جائیں تو مجھے واپس کر دیں“ اس دن مرحوم کے دل میں سب ایڈیٹری چھوڑ کر نائب قاصدی اختیار کرنے کی خواہش نے انگڑائی لی مگر پھر اپنے خاندانی وجاہت کے خیال سے سب ایڈیٹری ہی پر قناعت کر لی! (جاری ہے)
تازہ ترین