• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اُف یہ آج کل کے بچے...!!

نرجس مختار،خیرپور میرس، سندھ

’’اُف! یہ آج کل کے بچّے ایسے کیوں ہیں؟ نہ کسی کی سُنتے ہیں،نہ کچھ سمجھتےہیں اور نہ ہی کوئی کہا مانتے ہیں‘‘، ’’اپنے آپ کو تو اتنا عقل مند سمجھتے ہیں کہ بس کیا کہیں…۔‘‘،’’یہ دَور بھی آنا تھا کہ بچّے والدین کی سُننے کی بجائے اُلٹا انھیں سمجھاتے ہیں۔‘‘ یہ سب باتیں سو فی صد درست سہی، لیکن اس حقیقت سے بھی تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ دَور کے بچّے بہت ذہین و فطین ہونے کے ساتھ سرگرم بھی ہیں۔

وہ ہر چیز کے بار ے میں تجسّس رکھتے ہیں، لیکن پھر بھی اُن سے والدین پریشان اور نالاں ہیں۔ جب انھیں لگتا ہے کہ بچّہ ان کے کنٹرول سے باہر ہورہا ہے، تو عموماً گھبرا کر ٹیچر کو فون بھی کیا جاتا ہے کہ’’آپ ہی بچّے کو کچھ سمجھائیں، ہماری تو یہ سُنتا ہی نہیں۔‘‘ دوسری جانب اساتذہ، والدین کو آگاہ کرتے ہیں کہ ’’آپ کا بچّہ تو کسی کی نہیں سُنتا۔ پوری کلاس سَر پر اُٹھائے رکھتا ہے۔‘‘

آج آپ کسی بھی محفل میں چلے جائیں، کسی تقریب میں شریک ہوں، ہر جگہ یہی موضوعِ گفتگو ہوگا اور اگر غیر جانب دارانہ ہوکر جائزہ لیا جائے، تو عمومی طور پر بچّوں میں تربیت کی سخت کمی نظر آئے گی۔ 

مانا کہ والدین مل کر اپنی اولاد کی تربیت کرتے ہیں اور اللہ کے یہاں دونوں ہی سے اولاد کے متعلق بازپرس ہوگی، لیکن اس ضمن میں والد سے کہیں زیادہ ذمّے داری ماں پر عاید ہوتی ہے۔ماں کی گود بچّے کی اوّلین درس گاہ ہے۔ 

یہ حقیقت ہے کہ اگر ماں، نومولود کو باوضو ہوکر دودھ پلائے اور اس دوران ذکرِ الہیٰ بھی کرے، تو اس کے مثبت اثرات بچّے کی شخصیت پر بھی لازمی مرتّب ہوتے ہیں۔جب بچّہ بولنا شروع کرے، تو سب سے پہلے اللہ کا نام سکھائیں، تاکہ خالقِ حقیقی سے ذہنی و قلبی رشتہ استوار ہوسکے۔ 

ماہرین کے مطابق بچّہ اپنے آس پاس کے ماحول سے سیکھتا ہے، لہٰذا اس کی شخصیت سازی کے لیے گھر کے ماحول کا اچھا رکھناضروری ہے۔ پھر ابتدا ہی سے اچھے اخلاق کی تربیت دی جائے اور اپنی تہذیب، اقدار و روایات سے روشناس کروانا بھی ضروری ہے۔

اپنے بچّوں کو شروع ہی سےبڑوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت، کم زوروں کی مدد اور غریبوں پر رحم کرنا سکھائیں،تاکہ کچّےذہن میں یہی نقوش ثبت ہو جائیں۔نیز،یہ بھی بتائیں کہ جھوٹ، لالچ، حسد، دِل آزاری ، تمسخر اُڑانا،کسی کابُرا چاہنا اور اس جیسے دیگر منفی جذبات کس طرح شخصیت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتے ہیں اورجن افراد میں یہ بُری خصلتیں پائی جاتی ہیں،اُن کا آخرت میں ٹھکانا کیا ہے۔ 

حیا ایمان کا حصّہ ہے،لہٰذابیٹا ہو بیٹی، اُن میں حیا پیدا کریں۔اپنی گود میں بٹھا کر موبائل فون یا ٹی وی پر کارٹونز وغیرہ دکھانے کی بجائے اسوۂ حسنہ کی تعلیم دیں اور جس حد تک ممکن ہو، دینی اور اسلامی واقعات سُنائیں۔ 

انھیں یہ احساس بھی لازمی دلائیں کہ اللہ ہر جگہ، ہر وقت موجود ہے، تاکہ وہ کوئی بھی غلط کام کرتے ہوئے خوفِ خدا محسوس کریں۔ انھیں اپنی ہر کام یابی کے لیے اللہ پر یقین رکھتے ہوئے سچّے دِل سے مدد مانگنا سکھائیں۔اسی طرح رویّوں کی پہچان کروانا بھی تربیت کا ایک اہم حصّہ ہے، لہٰذا اس جانب بھی خاص دھیان دیں۔

نیز، ایک محبِ وطن شہری بنانے کے لیےگاہے بگاہے قومی ہیروز کے بارے میں بھی ضرور بتائیں، تاکہ ان کے اندر جرأت، بہادری اورمُلک و قوم سے محبّت پیدا ہو اوروہ اپنے پیارے وطن کی خاطر جان قربان کرنے سےبھی دریغ نہ کریں۔

یاد رکھیے، بچّے نرم شاخ کی مانندہیں، انہیں جیسے اور جدھر چاہے، موڑا جاسکتا ہے۔ اُن کا ذہن صاف سلیٹ جیسا ہی ہوتا ہے،اُس پر جو نقش کندہ کیا جائے گا،تا دیر رہے گا۔ لہٰذا اپنی غیر ضروری مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے بچّوں کی تربیت اور شخصیت سازی کچھ اس طرح کریں کہ آپ خود بھی بڑھاپے میں اپنے لگائے اس درخت کی چھاؤں میں آرام و سکون اور فرحت محسوس کریں۔ 

کیا آپ نے کبھی کوئی خودرَو پودا دیکھا ہے، نہیں تو ایک بار ضرور دیکھیں، تاکہ آپ کو اُس کا اور خُوب صُورتی سے تراشے کسی پودے کا واضح فرق معلوم ہوسکے۔ 

تازہ ترین