• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
معروف اداکار، شامل خان کی کھٹی میٹھی باتیں

شوبز کی دُنیاکے ابھرتے ہوئے با صلاحیت اداکار،شامل خان نے نا صرف فلموں بلکہ ڈراموں میں بھی اپنی اداکاری کے ایسے جوہر دکھائے کہ یہ شوبز انڈسٹری کی ضرورت بن گئے،اب ایسا لگتا ہے ،جیسے شامل کے بغیر ہر ڈراما ادھورا ہے۔ انہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے مشہور ہدایتکار سید نور کی فلم ’’لڑکی پنجابن‘‘ سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا ۔خوش قسمتی سے اِن کی پہلی ہی فلم کامیاب ہوگئی، بعدازاں انہیں ٹی وی پر کام کی آفرز شروع ہوگئیں ،جو انہوں نے فوری قبول کرلیں۔ شامل خان اب تک اتنے ڈراموں میں کام کرچکے ہیں کہ اُن کی تعداد بھی اُنہیں یاد نہیں۔ شامل خان نے صرف پاکستان میں نہیں، بلکہ بھارت میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی کتاب شامل خان کے والد جہانگیر اکبر خان نے تحریر کی تھی۔ پاکستان کی پہلی فلم ’’چن وے‘‘ میں بھی اُنہوں نے کام کیا ۔ اس کے علاوہ صدارتی ایوارڈ کا جو سلسلہ اِن کے والد نے شروع کیا، وہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ شامل خان اپنے والد کا ایسا فخر ہیں، جو آج بھی پاکستان کی ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری میں یکساں طور پر مقبول ہیں ۔ اس اداکار کی کئی خوبیاں ہیں، لیکن سوچنے والی بات یہ تھی کہ سپر مارکیٹ، بینک ، خبر ایجنسی اور پھرایک آئل کمپنی میں کام کرنے والا نوجوان شوبز انڈسٹری میں اچانک کس طرح آیا اور کیسے چھا گیا۔یہ وہ راز تھا،یہ اوران کے بارے میں بہت کچھ جاننے کےلیے ہم نےشامل خان سے ملاقات کی ۔اُنہوں نے دورانِ گفتگو اپنی زندگی کے نشیب و فراز سے کس طرح پردہ اُٹھایا ،یہ جاننے کےلیے آپ بھی ہمارے ساتھ اس گفتگو کا حصہ بن جائیں۔

٭… سب سے پہلےاپنی تعلیم اورشوبز کی دنیا میںداخل ہونے کے بارے ہمارے قارئین کو بتائیں؟

شامل خان … میں 17؍مارچ کو پاکستان کے شہر اسلام آباد میں پیدا ہوا ۔اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی ،صرف گریجویشن کیاہے۔ اب تک میں نے 17 یا 18 فلموں میں کام کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری ساری فلمیں مقبول ہوئیں۔ مجھے توایسا لگتا ہے کہ میں نے جس اسکرپٹ پر بھی کام کیا ، دِل سے کیا ۔ میری پہلی فلم ’’لڑکی پنجابن‘‘ تھی اور لالی ووڈ میں میری آخری فلم ’’سن آف پاکستان‘‘ تھی، جو جرار صاحب کی تھی ، اس کے بعد نئے سینما کےلیے میں نے 2015 میں جمال شاہ صاحب کےلیے ’’Revenge of the worthless‘‘ فلم کی تھی۔ اس کے بعد نام نہاد سینما گھر قائم ہوگئے ،حالانکہ سینما بہت بڑے اسکوپ کا نام ہے، لیکن بدقسمتی سے اس شعبے کو بھی ہم نے ’’گروپنگ ‘‘ کر دیا ہے۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ پرانے اداکار نئے کو نہیں مانتےاور نئےآنےوالے پرانے کو نہیں ۔

معروف اداکار، شامل خان کی کھٹی میٹھی باتیں

٭… اِس صورتحال میں آپ کو کیا لگتا ہے ، پہلے فلم بہتر تھی یا اب جو فلمیں بن رہی ہیں وہ زیادہ بہتر ہیں؟

شامل خان … بہت اچھی فلمیں پہلے بھی بن رہی تھیں اور اب بھی بن رہی ہیں، لیکن مجھے سب سے زیادہ فقدان اسکرپٹ کا لگتا ہے۔ آپ حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’’پنجاب نہیں جائوں گی‘‘ دیکھ لیں۔ صرف اس فلم نے 50 کروڑ روپے سے زائد کا بزنس کیا ہے، وجہ یہ تھی کہ اس کا اسکرپٹ بہترین تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ فلم دوستی یاری میں نہیں بنتی، یہ شوبز انڈسٹری میں بہت سنجیدہ آرٹ ہے۔ یوں سمجھ لیں فلم آپ کے ٹیلنٹ کی انتہا کا نام ہے، کیونکہ ریمپ، ماڈلنگ، اسٹیج، ڈراما، تھیٹر اور آخر میں فلم آتی ہے، اس کے بعد کچھ نہیں ہے، لیکن فلم کو تو ہم نے ایک مذاق سمجھ لیا ہے، فلمیں بنانے والے سمجھ رہے ہیں اُن کے ہاتھ میں کیمرہ یا ایری الیگزا آگیا ہے تو ہم پوری فلم شوٹ کرسکتے ہیں۔ ہمیں اچھی فلم بنانے کےلیے صرف ایری الیگزا نہیں، بلکہ معیاری لوگ چاہئیں، معیاری لکھاری چاہئیں۔ 2 ہزار سین لکھنے والے جو رائٹرز ہیں، وہ فلم کے 60 سین نہیں لکھ سکتے۔ فلم کا میڈیم بالکل الگ ہے۔ فلم کے 60 سین لکھنے کےلیے مختلف ہنر کی ضرورت ہے، جو یا تو پرانے رائٹرز میں تھا جو اب نہیں رہے یا پھر پرانے رائٹرز نے شاگرد نہیں بنائے۔ اب جو لکھاری نظر آرہے ہیں وہ یا تو بھارت یا پھر ہالی ووڈ سے متاثر ہیں، لیکن شاید یہ بات اُن کے علم میں نہیں ہے کہ نقل کےلیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں اب اپنے اسکرپٹس اور کاسٹنگ میں زیادہ محنت کرنا ہوگی۔

معروف اداکار، شامل خان کی کھٹی میٹھی باتیں

٭…آپ کیا سمجھتے ہیں کہ فلم تخلیق کرنے والے کو تکنیکی ماہر بھی ہونا چاہیے؟

شامل خان … میں سمجھتا ہوں اسے نا صرف تکنیکی سائونڈ، بلکہ کونٹینٹ وائز سائونڈ بھی ہونا چاہیے اور جن اداکاروں کو وہ لےکر چل رہے ہیں کم از کم وہ تو ایسے اداکار ہوں، جو بڑی اسکرین پر فٹ ہوں، جن کی بڑے پردے پر اچھی پریزنس ہو۔ یعنی فلم میں اچھے اسٹار کاسٹ کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر میں اپنے سینئرز کی عزت نہیں کروں گا یا نیا آنے والا چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی جب تک دونوں کا انٹریکشن نہیں ہوگا تو پھر سال یا دو سال میں ایک ہی فلم بنے گی اور اُسی پر شور ہوتا رہے گا ۔ اگر ہمیں اپنی سینما انڈسٹری کو اِس کے قدموں پر کھڑا کرنا ہے تو اس کےلیے ایک نہیں، بلکہ ایک درجن اچھی فلمیں درکار ہوں گی، یعنی 10 فلمیں سینما گھروں پر لگی ہوں، 10 پر کام ہورہا ہوں اور 10 آن سیٹ ہوں، تب کچھ بات بنے گی۔

٭… اس وقت ہم اپنی سینما انڈسٹری کی بحالی کی طرف گامزن ہیں، اور ایسے موقع پر اگر ہم آرٹ فلمیں سینما گھروں کی زینت بنانا شروع کردیں تو کیا یہ سینما انڈسٹری برداشت کرلے گی، کیا ہمارا ناظر آرٹ فلمیں دیکھنے کےلیے تیار ہو چکا ہے؟

شامل خان … میں آپ سے ایک تلخ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری 80 فیصد آبادی میں پڑھے لکھے جاہل لوگ ہیں۔ ماضی میں سینما تو ختم ہوگیا تھا اور ایسا ختم ہوا کہ لوگوں نے سینما گھر جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ دوبارہ سینما گھروں کا رُخ اس وقت کیا، جب بھارتی اور ہالی ووڈ کی فلمیں آنا شروع ہوئیں۔ اب بھارتی فلموں میں کیا ہوتا ہے؟ وہ زیادہ تر مسالے والی فلمیں ہوتی ہیں، اس میں تھوڑی کامیڈی ، رومانس اس کے علاوہ ایکشن شامل کردیا جاتا ہے۔ اب یہ ایک پورا مسالہ پیکیج ہے، جو ہماری مڈل کلاس اور میں خود بھی بڑی اسکرین پر جاکر دیکھنا چاہتا ہوں۔ ہماری فلمیں ابھی تک ایلیٹ کلاس کےلیے بن رہی ہیں، اوپر سے سینما گھر وںکا ٹکٹ اتنا مہنگا ہے کہ ایک عام آدمی اپنی فیملی کے ساتھ جاکر اس فلم کی تفریح سے محظوظ نہیں ہوسکتا۔ جس فیملی کے 6-7 بچے ہیں اُسے فلم دیکھنے کےلیے کم از کم 10 ہزار روپے اپنے پاس رکھ کر جانا پڑیں گے، اس سے تو عام آدمی کو تو ویسے ہی سینما گھر سے دُور ہو گیا۔

٭… بھارت میں بھی تو آرٹ فلمیں بنتی ہیں؟

شامل خان … بھارت سال میں 700 فلمیں بناتا ہے، اگر اِن میں سے وہ دو تین آرٹ فلمیں بنا لے تو وہ چل جائیں گی، لیکن ہم اگر آرٹ فلمیں لگانا شروع کردیں گے تو شاید وہ نہ چل سکیں۔ حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’’کیک‘‘ صرف ایلیٹ کلاس میں چلی ہے۔ دیکھیں ! وہ فلمیں زیادہ چلتی ہیں جس میں کمرشل ایلیمنٹ ڈالا جائے اور عوام اُسے باآسانی دیکھ سکیں، ابھی عام لوگ فلمیں دیکھ ہی نہیں رہے، اس لیے فلم کا بزنس بھی نہیں آرہا، نہ ہی ہماری فلموں کو اُس طرح سے پذیرائی مل رہی ہے جس طرح ملنی چاہیے۔ لوگوں نے اپنے گھروں میں 50 انچ کے ٹی وی لاکر رکھ لیے ہیں اور وہ گھروں میں ہی فلمیں لگاکر محظوظ ہوتے رہتے ہیں۔

٭… آپ نے 18 فلمیں کی ہیں، کیا آپ اپنے تجربے کی بنیاد پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ نئے فلم میکرز بھی 75 انچ کے ٹی وی پر بیرون ملک کی فلمیں دیکھ کر آئیڈیاز اخذ کرتے ہیں؟

شامل خان … میری خوش قسمتی اور اوپر والے کا کرم ہے کہ مجھے شروع میں ہی اچھا بینر مل گیا۔ میں نے سید نور کی دو فلمیں کیں پھر سنگیتاجی کی تین چارفلمیں مجھے مل گئیں ، اس کے بعد میں نے بھارت میں جاکر کام کیا، یہ بتادوں کہ دراصل وہ پاکستانی فلم تھی نام تھا ’’کبھی پیار نہ کرنا‘‘۔ یہ 2007ء کی بات ہے، جاوید رضا صاحب کی فلم تھی۔ میری ساری شوٹنگ ممبئی میں ہوئی تھی۔ اُس دور میں اوریجنل اسکرپٹس ہوا کرتے تھے، میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ فلم کی اسٹوری چاند سے اُٹھا کر لائی جائے، ہر فلم میں لڑکا لڑکی ہوتے ہیں، رومانس ہوتا ہے، گانے ہوتے ہیں، ایکشن ہوتا ہے، ولن ہوتا ہے۔ بھارت میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے اور پاکستانی فلموں میں بھی، لیکن اسے پیش کرنے کا ہر کسی کا انداز مختلف ہوتا ہے، البتہ ہالی ووڈ فلموں کا انداز تھوڑا مختلف ہے۔

٭… ہالی ووڈ فلمیں تو اب زیادہ تر اینیمیشن پر چل رہی ہیں؟

شامل خان … ہم نے بھی اپنی فلموں میں اینیمیشنز کو شامل کیا ہے لیکن ہمیں زیادہ تجربات نہیں کرنے چاہئیں۔ البتہ عام انسان کی زندگی کو بڑے پردے پر دکھانے کےلیے تجربات ضرور کرنے چاہئیں ۔ ہمیں چاہیے عام انسان کی زندگی سے جڑی کہانی بنائیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اچھی فلم دماغ سے بنتی ہے، وہ 15 یا 20 کروڑ سے نہیں بنتی۔ یہ بات درست ہے کہ فلم کےلیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اگر ہم اپنے ذہن میں یہ معیار بنا لیں کہ 15 کروڑ ہوں گے تو ہی ہم اچھی فلمیں بنائیں گے ورنہ نہیں تو یہ درست نہیں ہے۔ 15 کروڑ لگانے کے بعد آپ فلمیں دیکھیں اور ایسا لگے کہ اس میں تو 70 لاکھ روپے بھی نہیں لگے تو پھر یہ درست نہیں ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اب ہمیں ایسا ہی نظر آرہا ہے۔ ہمیں اپنے بجٹ کو کنٹرول کرنا ہوگا، کیونکہ ہمارے پاس 80 یا 81 سینما ہیں، مزید بن رہے ہیں، دِن بدن سینما گھروں کا اضافہ ہورہا ہے، ورنہ پہلے تو یہ لیول شاید 12 یا 14 رہ گیا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ہم معیاری فلمیں نہیں بنائیں گے تو پھر لوگ بھارتی یا ہالی ووڈ فلمیں دیکھیں گے یا پھر سینما گھروں میں جانا چھوڑ دیں گے۔

٭… اب تو چیزیں بہت ایڈوانس ہوگئی ہیں، جس دن بھارتی فلم ریلیز ہوتی ہے اور اُسی رات کو لوگوں کے موبائل یا نیٹ پر آجاتی ہے؟

شامل خان … یہ صحیح ہےاگر ہمیں عوام کو واپس سینما گھروں میں لانا ہے تو اس کےلیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں ہمارے کلچر کے حساب سے بہت خوبصورت کہانیاں ہیں، لیکن شاید ہم اُنہیں دیکھ نہیں رہے یا پھر دیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔ دراصل ہم اُن لوگوں سے زیادہ متاثر لگتے ہیں کہ بس ہماری فلم میں ایک آئٹم نمبر ڈال دیا جائے۔ میں کہتا ہوں کہ آئٹم نمبر ہمارا معیار نہیں ہے، آپ آئٹم نمبر شامل کرنا چاہتے ہیں تو کریں، لیکن پوری فلم کو اس کی بنیاد نہ بنائیں، یہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسی فلمیں دیکھنے کےلیے عوام آئیں گے، سیٹی بجائیں گے اور ہمارے پاس پیسے آجائیں گے۔ اگر خوبصورت اور جاندار کہانی بڑی اسکرین پر چل رہی ہو تو وہ ناظرین کو اپنی سیٹوں سے اُٹھنے نہیں دیتی۔

٭…شعیب منصور نے فلم بنائی، شہزادہ رفیق کی فلم بھی سامنے آئی، شان شاہد کی فلم بھی لوگوں نے دیکھی، لیکن یہ سب ناکام ہوگئیں، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ فلم بنانے والے ناکام ہوگئے ہیں؟

شامل خان … شاید آپ نے پرانی ’’ارتھ‘‘ فلم دیکھی ہو ، اگر آپ شان کی فلم ’’ارتھ 2‘‘ دیکھیں تو اِن دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے، لہٰذا یہ فلم تو فلاپ ہونی ہی تھی۔ شعیب منصور نے ایک سنجیدہ موضوع پر فلم بنائی، اگر ہم تفریحی شعبے میں سنجیدہ چیزوں کو لائیں گے تو یہ سمجھ لیں کہ ہمارا ملک بہت سی سنجیدہ چیزوں سے پہلے ہی گزر چکا ہے۔ عوام مہنگا ٹکٹ خرید کر سینما گھروں میں رونے نہیں آتے، وہ انجوائے کرنے آتے ہیں، وہ چاہتے ہیں ہم فلمیں دیکھیں تو سب کچھ بھول جائیں، پوپ کورن کھائیں اور خوشی خوشی سینما ہال سے باہر آئیں۔ میں ذاتی طور پر بھی یہی چاہتا ہوں، لیکن ایک بندہ تفریح کےلیے سنیما گھر جائے وہاں وہ بڑی اسکرین پر بم دھماکے، سیاست اور مار دھاڑ دیکھے تو ایسا نہیں چلے گا۔ یہ بہت سادہ سی بات ہے مگر معلوم نہیں لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے۔ آپ ہمارے کلچر کے حساب سے کہانیاں دکھائیں، گانوں میں آپ ہماری اوریجنل لوکیشن دکھائیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ کو باہر جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ ہمارے ناردرن ایریاز اتنے خوبصورت ہیں، جہاں آج تک لوگ نہیں گئے، وہاں اب تک ہماری انڈسٹری کا کیمرہ کھلا ہی نہیں ہے۔ یہاں تو ہم کمروں میں فلموں کو شوٹ کرلیتے ہیں، جبکہ سینما بڑے اسکوپ کا نام ہے، جب تک ہم باہر نکل کر اپنی خوبصورت لوکیشن نہیں دکھائیں گے، ہماری حقیقی خوبصورتی دُنیا کو نظر ہی نہیں آئے گی۔

معروف اداکار، شامل خان کی کھٹی میٹھی باتیں

٭… اگر آپ کو فلم بنانے کا موقع ملا تو بنائیں گے؟

شامل خان … ابھی تو کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ بتادوں، فلموں میں کام کرنے سے پہلے میں سید نور کا اسسٹنٹ رہا ہوں، ڈیڑھ سال میں نے اُن کے ساتھ کام کیا ہے، لہٰذا میں فلموں کے حوالے سے کئی چیزیں جانتا ہوں لیکن آج کل کے اداکاروں کو کون سنبھال سکتا ہے، اُنہیں تو چینل نہیں سنبھال سکتے تو ایک سولو پروڈیوسر کیا سنبھالے گا؟دراصل آج کل کے آرٹسٹ کام کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور چاہتے ہیں کہ اُنہیں پورا پروٹوکول دیا جائے، ہم یہاں کام کرنے آتے ہیں اور بہت مشکل فضا ہوتی ہے۔ اب ایک پروجیکٹ پر کسی کا پیسہ لگا ہوا ہے اور آپ یہاں آکر پروٹوکول مانگ رہے ہیں، جو وقت آپ کو دینا چاہیے، وہ بھی آپ نہیں دے رہے تو پھر اس سے بہتر ہے کہ آپ فلم نہ ہی بنائیں، بلکہ جو کام کررہے ہیں وہی کرتے رہیں، لہٰذا ابھی تو میرا فلم بنانے کا ارادہ نہیں، البتہ میرے پلان میں ہے کہ فلم بنائوں، اس کام کا جب صحیح موقع آئے گا تو پھر سب کو بتادوں گا۔

٭…شوبز انڈسٹری میں پہلی انٹری آپ نے کس پروجیکٹ سے دی تھی؟

شامل خان … پہلی انٹری سید نور کی فلم کے ذریعے ہی ہوئی تھی۔ اُردو فلم تھی، اس میں صائمہ نے سکھنی کا کردار کیا تھا، وہ سکھوں اور مسلمانوں کے کرداروں پر مشتمل فلم تھی۔

٭… آپ نے سید نور کوبطور ہدایت کار کیسا پایا؟

شامل خان … سید نور اچھے ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ بہترین انسان بھی ہیں ان کی فلم انڈسٹری کےلیے بہت قربانیاں ہیں، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، اُن کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ فائدہ اور نقصان کی پروا کیے بغیر اپنے مشن پر لگ جاتے ہیں۔

٭… سید نور کی فلم سے آپ نے آغاز کیا، آپ کے اندر پوشیدہ ٹیلنٹ سامنے کون لایا تھا؟

شامل خان … مجھے بچپن سے اداکاری کا شوق نہیں تھا، میں نے ایک عرصے تک بینک میں ملازمت کی، اُس سے قبل میں پی پی آئی میں تھا۔ اسلام آباد کی سپر مارکیٹ میں چھ ماہ کام کیا، اُس دور میں وہاں ٹیلی پرنٹرز لگے ہوتے تھے، اب تو کمپیوٹرز آگئے ہیں، وہاں ملازمت کی تو 700 روپے ملے تھے، لیکن وہاں میرا مائنڈ نہیں بنا، اس کے بعد میں بینک میں چلا گیا، وہاں میں نے تقریباً ایک سال یا 10 ماہ کام کیا تھا پھر میں فرنچ اینڈ امریکن آئل کمپنی میں چلا گیا وہاں میں نے 4 برس کام کیا۔ لہٰذا اداکاری کا تو مجھے کوئی شوق نہیں تھا لیکن کچھ جراثیم والد صاحب کی طرف سے آگئے تھے، اُنہوں نے بھی ایک فلم کی تھی… وہ پاکستان کی پہلی فلم ’’چن وے‘‘ تھی۔ آپ نے وہ گانا ضرور سنا ہوگا ’’تیرے مُکھڑے دا کالا کالا تل وے‘‘ وہ میرے والد صاحب پر پکچرائز ہوا ہے۔ اور وہ فیڈرل سیکرٹری کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے، بہرحال یہ ایک طویل تاریخ ہے۔ مختصراً بتائے دیتا ہوں کہ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی کتاب میرے والد نے لکھی تھی۔ اِس کے ساتھ پریزیڈنٹ ہائوس میں پہلی مرتبہ صدارتی ایوارڈ بھی میرے والد صاحب نے شروع کیا تھا، جس کا سلسلہ آج تک چل رہا ہے۔ وہ فنانس سیکریٹری بھی رہے۔ شوکت حسین صاحب کی ایک فلم تھی، جس میں نور جہاں بھی شامل تھیں، والد صاحب نے کرکٹر فضل محمود کو بھی فلم میں کاسٹ کیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد جب میرے والد پاکستان آئے تو لاہور میں ایک انگریز کا اخبار تھا ’’سول گزٹ‘‘ کے نام سے، والد صاحب اُس کےلیے لکھا کرتے تھے، پھر شام کو کرکٹ بھی کھیلتے تھے۔ کرکٹ ٹیم میں فضل صاحب اور میرے والد بھی تھے اور یہ دونوں اچھے دوست تھے۔ ایک موقع پر شوکت صاحب نے فضل صاحب کو اپنی فلم میں کاسٹ کرلیا، کیونکہ وہ لمبے اور خوبصورت تھے۔ فضل صاحب نے میرے والد سے کہا کہ جہانگیر، تم بھی میرے ساتھ چلو، فلم کی عکس بندی کے وقت تم وہاں بیٹھ کر اپنے اخبار کےلیے کچھ رائٹ اَپ لکھ لینا۔ والد صاحب نے حامی بھر لی، وہاں پہنچے تو فضل صاحب نے ایک سین عکس بند کرانے کےلیے 1-2 نہیں 22 ٹیک دیئے، لیکن وہ سین اُن سے پرفارم نہیں ہوا۔ فلم میں اُن کے مدِ مقابل نورجہاں تھیں، میرے والد نے فضل صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یار فضل! چھوٹا سا تو ڈائیلاگ ہے بول دو۔ فضل صاحب نے کہا اگر اتنا آسان ہے تو تم آکر کیوں نہیں بول لیتے۔ والد نے حامی بھرلی اور بہترین انداز میں ڈائیلاگ ادا کر دیئے، نور جہاں نے شوکت صاحب سے کہا کہ شوکت! ’’اب فلم میں میرے نال اے ہی منڈا ہووے گا‘‘ ۔ یہ احوال تھا اُن کی فلم کا ۔ اس وقت بھی وہ بطور فیڈرل سیکرٹری ریٹائرڈ ہوئے تھے۔

٭… سید نور نے آپ کو کہاں سے تلاش کیا؟

شامل خان … تلاش نہیں کیا، بات یہ تھی کہ ہم اسلام آباد سے لاہور بسنت منانے جاتے تھے، وہاں سید نور صاحب نے مجھے دیکھ کر کہا، کیا تم فلموں میں کام کرو گے؟اور میں نے حامی بھرلی تو کہا کہ گھر جا کر اپنی تصاویر مجھے بھیج دینا۔ میں نے گھر جاکر والد صاحب کو بتایا کہ میں نے اس طرح کے پروجیکٹ کےلیے حامی بھرلی ہے۔ والد صاحب نے کہا کہ اگر تم اداکاری میں دلچسپی رکھتے ہو تو میں تمہیں آفاقی صاحب کے پاس بھیج دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں ویک اینڈ پر جائوں گا اور یہ(شوبز) کام کرکے دیکھوں گا، بعدازاں آفاقی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، سید نور صاحب سے بھی ہوئی اور پھر راستے کُھلتے چلے گئے۔

٭… صائمہ کے ساتھ بطور ہیرو کتنا کام کیا ہے؟

شامل خان … جی ہاں! میں نے اُن کے ساتھ 4-5 فلمیں کی ہیں۔

٭… کیا عوام نے آپ کو اُن کے مدِمقابل بطور ہیرو قبول کرلیا تھا؟

شامل خان … میں صرف کام سیکھنے اور انڈسٹری میں کام کرنے کےلیے آیا تھا، میں نے یہ نہیں دیکھا کہ میرے مدِمقابل کون ہے، کیسی ہے، کیسی لگ رہی ہے ایسا کبھی نہیں سوچا۔ اور یقین کیجئے میں نے صائمہ سے بہت کچھ سیکھا، وہ کتنی باصلاحیت خاتون ہیں، اس کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے۔

٭… آپ کو کیا لگتا ہے ہماری ڈراما انڈسٹری ترقی کررہی ہے؟

شامل خان … جس جگہ ٹھیکے داری نظام آجائے وہاں چیزیں تیزی سے نیچے کی طرف آتی ہیں۔ فلموں کا کام کیوں ختم ہوا؟ اس لیے کہ کہہ دیا جاتا تھا کہ یہ 70 لاکھ روپے لیں اور عید پر ہمیں فلم بناکر دے دیں۔ اب ایسی فلم کا کیا بنے گا، اس کا تو حشر نشر ہی ہو گا۔ یہی کام اب ڈراموں میں شروع ہوگیا ہے۔ میرے خیال میں ہم اِن معاملات کو جتنی جلدی سمجھ جائیں اُتنا ہی اچھا ہے۔ بطور اداکاری میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ہر سیٹ پر دِل لگا کر دیانتداری سے کام کروں، کیونکہ یہی کام ہمارے بچوں کا رزق ہے۔ ہماری تو دُعا اور کوشش ہے کہ انڈسٹری ترقی کرے، کیونکہ اس کی ترقی سے ہماری ترقی ہوگی۔

٭… آپ نے کتنے ڈراموں میں کام کیا ہے؟

شامل خان … لا تعداد ڈرامے ہیں، کتنے کر چکاہوں اُن کی تعداد بھی یاد نہیں ہے۔ بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ 2002ء کے بعد سے اوپر والے نے مجھے بے حد کام دیا ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ میں نے 70 گھنٹے مسلسل کام کیا ہے۔

٭…کبھی پروڈکشن سائیڈ پر آنے کا سوچا ہے؟

شامل خان … نہیں، پروڈکشن سے ڈر لگتا ہے، شاید چینلز نے سب کو ہی ڈرا دیا ہے۔ ماضی میں ایک سولو پروڈیوسر کے پاس ایک ڈیڑھ کروڑ روپے ہوتے تھے، وہ ایک ڈراما بناتا اورفوراً دوسرا شروع کرتا تھا۔ اب یہ چیز ختم ہوگئی ہے۔ چینلز نے سب کچھ ٹیک اوور کرلیا ہے، اُنہوںنے اپنے پروڈکشن ہائوسز بنا لیے ہیں۔ اب آپ ایک چیز محنت سے بنائیں اور اُسے فروخت کرنے کےلیے لوگوں کی ، منتیں کرنا پڑیں تو پھر ایسےکام نہیں چل سکتا۔ ہاں، یہ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ کو چینل کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے تو پھر آپ اپنا کام بھی کریں اور اپنی صلاحیتیں بھی دکھائیں۔

٭… اسلام آباد کی لوکیشنز بہت زبردست ہیں پھر وہاں شوٹنگز کیوں نہیں کی جاتیں؟

شامل خان … آپ کی یہ بات درست ہے کہ وہاں لوکیشنز بہت خوبصورت ہیں، لیکن وہاں پروجیکٹس کو عکس بند کرنا انتہائی مہنگا پڑتا ہے۔ ایک نجی چینل نے وہاں ابھی اپنا دفتر تو کھولا ہے ، اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، لیکن فی الحال میں پروڈکشن کے موڈ میں نہیں ہوں۔

٭…آج کل کی فلموں میں آپ نظر نہیں آرہے، وجہ کیا ہے؟

شامل خان … دراصل میں نے اپنے اور فلم انڈسٹری کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ پیدا کرلیا ہے۔ میں اب منفرد اسکرپٹ کا منتظر ہوں، مجھے لگتا ہے ایک ہی اسکرپٹ کو توڑ مروڑ کر ادا کرنا نا صرف اپنے کام کے ساتھ ،بلکہ دیکھنے والوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔ میں نہیں چاہتا لوگ میری فلموں سے مایوس ہوکر لوٹ جائیں۔

٭… معیاری فلم بنانے کےلیے کیا ضروری ہے؟

شامل خان … اچھی کہانی اور اچھے کردار کے علاوہ اچھی موسیقی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمارے پاس آج بھی اچھے ، سریلے گلوکاروں کی کمی نہیں ہے۔ ضرورت صرف ایسی شاعری کی ہے جو دِل کو چھو جائے۔ یقین کریں ، اچھی کہانی، اچھی کاسٹ اور اچھی موسیقی فلم میں شامل ہو جائے تو ہماری انڈسٹری دوبارہ سے بارونق بن سکتی ہے۔

٭… کیا اس انڈسٹری میں نئے آرٹسٹوں کو بھی اسی طرح موقع مل جاتا ہے جس طرح آپ یا آپ جیسے دیگر آرٹسٹوں کو ملا ہے؟

شامل خان … ہم نے تو پھر بھی پاپڑ بیلے ہیں، مگر آج کل کے نئے آرٹسٹوں کو محنت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ نئے ٹیلنٹ کو نئے پلیٹ فارم مل رہے ہیں۔ ہر نئے آرٹسٹ سےمیں ایک بات ضرور کہتا ہوں کہ کام ملنا بڑی بات نہیں ہوتی، لیکن کام کو اچھے انداز سے پیش کرنا بڑی بات ہوتی ہے، اچھا کام ہی اچھے آرٹسٹ کی پہچان بنتا ہے۔ پہلے ایک ہی سرکاری چینل تھا، شاید اس وقت بہت مشکل سے کام ملتا ہو لیکن اب تو بے شمار چینلز آگئے ہیں، سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم بھی میسر ہے، جہاں کئی با صلاحیت نوجوان اپنا ٹیلنٹ دکھاکر راتوں رات بڑے لوگوں کی نظروں میں آجاتے ہیں ۔

٭… کیا سیاست سے لگائو ہے؟

شامل خان … سیاست سے تو کوئی لگائو نہیں، لیکن میں نے اتنا پڑھ لیا ہے کہ صدر یا وزیراعظم کا الیکشن آسانی سے لڑ سکتا ہوں۔

تازہ ترین
تازہ ترین
تازہ ترین