آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلامی عبادات میں ’’روزے‘‘ کا مقام اور اُس کی اہمیت

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ جب ماہ صیام کا چاند نظر آتا تو حضورﷺ یہ دعا پڑھتے تھے۔ ’’اے اللہ!ہمارے لیے ماہِ صیام میں برکت عطافرما اور ہماری مشکلیں آسان فرما۔‘‘

حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ حضوراکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: رمضان المبارک کا چاند ہوتے ہی شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں،دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں،جنّت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر روز اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ گاروں کو عذاب سے نجات دیتا ہے،نیک کام کرنے والوں کو دس گنا ثواب عطا فرماتا اور برکت نازل کرتا ہے‘‘ اس حدیث کی شرح میں شیخ محمد عبدہ نے لکھا ہے: ’’جب ماہ صیام کا چاند نظر آتا ہے تو اہل سعادت صدق و اخلاص کے ساتھ اپنے رب کے حضور سربہ سجود ہو کر گناہوں سے توبہ کرتے ہیں، نیک کام کرنے کا عہد کرتے ہیں، تزکیۂ روح اور تطہیرِ قلب کے لیے سعی و کوشش کرتے ہیں، نیز جواشخاص رات دن گناہوں میں مشغول رہتے ہیں،وہ بھی ماہ صیام کا آغاز ہونے پر اپنی سیاہ کاریوں اور گناہوں سے باز آجاتے ہیں اور تائب ہو کر نیک کاموں کی طرف توجّہ کرتے ہیں۔اس صورت میں شیطانی طاقتیں قید ہو جاتی ہیں، بابِ جہنّم بند ہو جاتا ہے اور چوں کہ روز و شب نیکیوں کا اجراللہ تعالیٰ دس گنا دیتا ہے،لیکن روزہ چوں کہ سخت تکلیف برداشت کرکے صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے رکھا جاتا ہے، اس لیے خاص طور پر اس کا اجر و ثواب اللہ دیتا ہے‘‘۔

روزہ ایک ڈھال ہے،روزے دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک مُشک کی خوش بو سے بہتر ہے اور جو شخص صدق و اخلاص کے ساتھ دن میں روزہ رکھے اور رات کو عبادت کرے، اس کے سب پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ علامہ رشید رضا مصری اپنے ایک فاضلانہ مضمون میں تحریر کرتے ہیں ’’میں آج کل کی بے دینی اور الحاد پرستی کو نظرِ حقارت سے دیکھتا ہوں، میں غم محسوس کرتا ہوں اور مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں سنتا ہوں کہ آج کل کے کچھ جدید تعلیم یافتہ اشخاص یہ کہتے ہیں کہ روزہ رکھنا غیر ضروری کام ہے، مضرصحت ہے، میں ان ترقی یافتہ اور روشن خیال لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم ذرا اپنے بزرگوں کے حالات پر غور کرو، تاریخ اسلام کی ورق گردانی کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ تمہارے اسلاف کیسے صحیح الجسم اورطویل العمر ہوئے ہیں،باوجود یہ کہ انہوں نے سنِ شعور سے آخر عمرتک کبھی روزہ ترک نہیں کیا۔ ہمارے بعض احباب ایسے ہیں جو روزہ رکھنے کی ضرورت اور اس کی فرضیت کے تو معترف ہیں، لیکن اپنی شامتِ اعمال سے اس فرض کو ادا نہیں کرتے،اللہ سے نہیں ڈرتے۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ قطع نظر خود گناہ گار ہونے کے اپنی اولاد کے لیے بری مثال قائم کر رہے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہیں،جو فرضیتِ صوم کے بھی قائل ہیں اور روزہ بھی رکھتے ہیں، مگر اس کے فوائد سے فیض یاب نہیں ہوتے، کیوں کہ وہ آدابِ صیام کا مطلق لحاظ نہیں رکھتے، پھر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایک اہم فرض پورا کیا ہے، وہ اس کی برکتوں اورفوائد سے محروم رہتے ہیں، ضروری ہے کہ بھوک اور پیاس کی تکلیف برداشت کرنے کے ساتھ ہی گناہوں سے بچنے کی بھی پوری کوشش کرنی چاہیے،تاکہ مقصد پورا ہو جائے، ورنہ ایسا روزہ جس میں گناہوں سے اجتناب نہ ہو،روزہ نہیں فاقہ ہے۔

اطبّاء کے نزدیک بھی روزہ نہایت مفید عمل ہے اور روح و دماغ کی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ ان کے نزدیک روزہ تزکیۂ بدن کے لیے بہترین اور مؤثر ترین علاج ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اسلام کی تمام عبادتیں تمام مذاہب کی عبادتوں سے بہتر ہیں،اسی طرح روزہ بھی دنیا کے تمام اصلاحی ذرائع سے بہتر اور تمام فوائد کا جامع ہے۔ اس میں تزکیۂ نفس بھی ہے، اس کے ذریعے سال بھر گناہوں سے بچنے کی مشق بھی ہے، بھوک و پیاس کی شدّت و اثر کا اپنی ذات پر امتحان بھی ہے،اس میں دوسروں کی تکالیف کا احساس بھی اور اپنے آپ کو تکلیف اور پریشانی کے وقت ثابت قدم رکھنے کی مشق بھی ہے،آنے والے وقت کی شان دار کام یابی کے لیے جدّوجہد بھی ۔ ذرا غور کیجیے کہ جو شخص چند گھنٹے کھانا اور پینا نہیں چھوڑ سکتا اور جو شخص گھنٹوں کے لیے اپنی خواہشات پر قابو نہیں رکھ سکتا، وہ زندگی میں کیا کارِ نمایاں کر سکتا ہے اور کس طرح زندگی کی مشکلات سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے،شاید کسی کے دل میںیہ خدشہ پیدا ہو کہ روزوں کے لیے ایک مہینے کی خصوصیت کیوں رکھی گئی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام نے ہر عبادت کے لیے پابندی کو ضروری قرار دیا ہے اور یہ پابندی بھی مصلحت سے خالی نہیں ہے۔اسلام نے روزے کے لیے بھی ایک وقت مقررکیا ہے، اس نے بارہ مہینوں میں سے ایک ماہ کے روزے فرض قرار دیے اور اس مہینے کو قمری حساب سے شروع کیا ہے، تاکہ ہر موسم میں انسان کا امتحان ہوتا رہے اور اگر روزے کے مہینے کا تعیّن عیسوی حساب سے ہوتا تو وہ لطف حاصل نہ ہوتا جو قمری مہینے کے حساب سے حاصل ہوتا ہے اور یہ بھی حق تعالیٰ کا رحم و کرم ہے کہ اس نے ایک مہینے کے روزے فرض کیے ہیں،اگر وہ چاہتا تو بارہ مہینے کے روزے فرض کر سکتا تھا اور اہل اطاعت اس حکم کو بھی قبول کرتے،لیکن اس نے اپنے بندوں کی آسانی کے لیے ایک قلیل وقت رکھا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں