آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ادب پارے: قتیل شفائی

ہری پور ہزارہ میں قتیل شفائی اور اُن کے دوستوں نے 1939ء میں اقبال کی پہلی برسی کے سلسلے میں مشاعرے کا اہتمام کیا۔ چندہ اکٹھا کرنے کے سلسلے میں جب ایک دکان دار کو انہو ں نے بتایا کہ اقبال کی برسی کے سلسلے میں یہ مشاعرہ ہو رہا ہے تو اُس نے آب دیدہ ہو کر پوچھا، ’’کیا سچ مچ اقبال وفات پا گئے ہیں؟‘‘

اس پر قتیل شفائی نے حیران ہو کر پوچھا ’’کیا آپ انہیں جانتے تھے؟‘‘

اس پر انہوں نے فرمایا، ’’کیوں نہیں۔ ابھی دو سال پہلے میری بھینس بیمار ہو گئی تھی، انہوں نے بڑی توجہ سے اس کا علاج کیا تھا۔‘‘

یہ سننا تھا کہ سب کھلکھلا کر ہنسنے لگے۔

……٭……

قتیل شفائی سے ایک شاعر نے طنزیہ لہجے میں پوچھا:

’’کیوں صاحب! آپ مشاعرے میں گا کر پڑھتے ہیں۔‘‘

قتیل شفائی نے ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے خود انہی کے لہجے میں سوال کر دیا۔

’’اور کیا آپ رو کر پڑھتے ہیں؟‘‘

……٭……

چند بے تکلف شعرا میں پیروڈیوں کا ذکرہو رہا تھا، ایک صاحب کہنے لگے:

’’پیروڈیوں میں اصل لطف یہ ہے کہ اصل شعر میں معمولی سے تصرف کے بعد مزاح پیدا کیا جائے۔‘‘

قتیل شفائی نے یہ سنا تو بولے:

’’میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں، پیروڈی میں ایک آدھ لفظ کی ترمیم ہی سے نئی بات پیدا کرنی چاہیے، عدم کا ایک شعر ہے۔

شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ

محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں

میں نے اس کی پیروڈی یوں کی ہے۔

شاید مجھے نکال کے کچھ کھا رہے ہوں آپ

محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں

یہ شعر سن کر سھی شاعر کھلکھلا کے ہنس دیئے، لیکن چند لمحوں بعد ایک شاعر قتیل صاحب سے مخاطب ہو کر گویا ہوئے۔

’’قتیل صاحب! آپ کا ایک شعر ہے:

اُڑتے اُڑتے آس کا پنچھی دُور اُفق میں ڈوب گیا

روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی

میں نے اس کی پیروڈی کی ہے، لیکن ایک کی بجائے دو لفظوں میں ترمیم کی ہے:

اُڑتے اُڑتے آس کا پنچھی دُور اُفق میں ڈوب گیا

روتے روتے بیٹھ گئی آواز قتیل شفائی کی

……٭……

دورِ ایوب شاہی میں قتیل شفائی، فارغ بخاری اور رضا ہمدانی ’’ماہنامہ سنگِ میل‘‘ نکالا کرتے تھے۔ ایک مضمون کی اشاعت پر پاکستان سرکار بوکھلا اٹھی تو وارنٹ گرفتاری جاری ہو گئے۔ پولیس نے تینوں کو گرفتار کر نے کے بعد حکامِ پاکستان کو رپورٹ بھیجی کہ تینوں ایڈیٹر گرفتار کر لئے گئے، لیکن ہنوز ادارئہ تحریر مفقود البخر ہے، اس کی تلاش جاری ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں