آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اردوان کی فتح، مغرب کی پسپائی

گزشتہ ماہ کے آخر میں تُرکی میں ہونے والے صدارتی و پارلیمانی انتخابات میں رجب طیب اردوان اور اُن کی جماعت نے ایک مرتبہ پھر فتح حاصل کر لی اور یوں اردوان عوام کے ووٹوں کے ذریعے مُلک کے طاقت وَر صدر بن گئے۔ اگر اردوان کی ماضی کی کام یابیوں کو مدِنظر رکھا جائے، تو اُن کی یہ جیت باعثِ حیرت نہیں، کیوں کہ وہ اور ان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی گزشہ 16برس سے ہر الیکشن ہی میں کام یابی حاصل کرتی چلی آرہی ہے۔ تاہم، مقرّرہ مدّت سے ڈیڑھ برس قبل ہونے والے صدارتی انتخابات کو اس لحاظ سے انفرادیت حاصل تھی کہ اُن کے ذریعے تُرک صدر نے مُلک کے سیاسی نظام کو بدلنے کا اختیار حاصل کیا۔ یہ انتخابات تُرکی کے پارلیمانی نظامِ جمہوریت کو صدارتی نظام میں بدلنے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کا حتمی مرحلہ بھی تھے۔ تُرکی میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے حوالے سے گزشتہ ایک برس سے مُلک بَھر میں زبردست بحث مباحثہ جاری تھا، جس کا نتیجہ حالیہ انتخابات میں برآمد ہوا۔ تُرکی کے الیکشن کمیشن کے مطابق، صدارتی انتخابات میں رائے دہندگان کی بڑی تعداد نے حصّہ لیا اور ووٹنگ کا ٹرن آئوٹ 87فی صد رہا۔ انتخابات میں اردوان نے 53فی صد ووٹ حاصل کیے، جب کہ ان کے قریب ترین حریف، محرم انسےنے 32فی صد ووٹ۔ ان انتخابات کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ان میں دُنیا، بالخصوص مغربی ممالک نے، جن میں یورپی ممالک سرِفہرست ہیں،غیر معمولی دِل چسپی لی۔ مغربی ممالک اردوان کو صدارتی نظام کے ذریعے مزید تقویّت ملنے کے خلاف تھے اور اسی لیےانہوں نے یہ واویلا کیا کہ تُرکی میں صدارتی نظام کےنفاذ سےجمہوریت کم زور ہوگی۔ تاہم، اروان نے جیت کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ تُرک عوام کا فیصلہ جمہوریت اور استحکام کے حق میں تھا اور اس فتح کے بعد اُن کے حامیوں نے زبردست جَشن بھی منایا۔

تُرکی میں 24جون کو ہونے والے انتخابات میں تُرک عوام نے پارلیمانی و صدارتی نظام میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ اردوان اور اُن کی جماعت صدارتی نظام کےحق میں تھے،جب کہ حزبِ اختلاف، جس کی قیادت محرم انسے کر رہے تھے، پارلیمانی نظامِ جمہوریت کو برقرار رکھنا چاہتی تھی۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران تُرکی کا معاشرہ اپنی سیاسی منزل کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے خاصا منقسم تھا۔ چُوں کہ یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھااور اس کے دُور رس نتائج سامنے آنے ہیں، لہٰذا، اس معاملے میں ہر سطح پر بحث مباحثےکو مناسب گردانا گیا۔ اردوان کو جدید تُرکی کے بانی، مصطفیٰ کمال اتاترک کے بعد مُلک کا سب سے طاقت وَر حُکم راں تسلیم کیا جاتا ہے اور وہ نہایت مقبول رہنما بھی ہیں۔ گرچہ تُرکی کی سیاست میں ہمیشہ جیت ہی ان کا مقدّر رہی، لیکن موجودہ فتح اُن کی طاقت میں بے پناہ اضافے کے مترادف ہے۔ یعنی اب وہ بڑی حد تک مُلک کے سیاہ و سفید کے مالک ہوں گے۔ دوسری جانب تُرکی میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت، سی ایچ پی یا ری پبلکن پارٹی کے رہنما، محرم انسے بھی سحر انگیز شخصیت کے مالک اور فنِ خطابت کے ماہر ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مُہم کے دوران مُلک کے مختلف شہروں میں کئی بڑے جلسے منعقد کر کے سیاسی ماحول کو گرما دیا تھا، جس کی بناء پر اکثر ناقدین نے اردوان اور محرم کے درمیان معرکہ آرائی کو کانٹے کا مقابلہ قرار دیا۔ اپنی انتخابی مُہم میں محرم کا کہنا تھا کہ مُلک میں گزشتہ دو برس سے (اردوان حکومت کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے) ایمرجینسی نافذ ہے اور وہ صدر بننے کے بعد اسے فوراً اُٹھا لیں گے۔ نیز، عدالتوں کو آزاد کریں گے۔ عدالتوں کی آزادی کے مؤقف سے ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ غالباً اُن کے دَورِ صدارت میں سیاسی مقدّمات میں نرمی برتی جائے گی۔ 

تاہم، اب انتخابات کا نتیجہ سامنے آ چُکا ہے اور تُرک رائے دہندگان کی اکثریت کے فیصلے کے مطابق پارلیمانی نظام، صدارتی نظام میں تبدیل ہو جائے گا اور اردوان ہی مُلک کے حُکم راں ہوں گے۔ صدارتی انتخابات میں اردوان کی جیت سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ تُرک عوام اُن کی حکمتِ عملی سے اتفاق کرتے ہیں اور انہیں مستقبل میں اپنی پالیسیز کے نفاذ کا موقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ محرم انسے نے جمہوری روایات کے عین مطابق انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرتےہوئے جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ سخت مقابلے کی توقّع کے باوجود انہوں نے اپنے حریف پر دھاندلی کا الزام عاید نہیں کیا۔ صدارتی انتخابات کے ساتھ ہی پارلیمان کی 600نشستوں پر بھی انتخابات ہوئے اور اُن میں بھی اردوان ہی کی جماعت نے سبقت حاصل کی۔

تُرکی کو صدیوں سے دُنیا، بالخصوص یورپ، ایشیا اور افریقا میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آبنائے باسفورس پر واقع تُرک شہر، استنبول کا شمار دُنیا کے تاریخ ساز شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ یورپ اور ایشیا کو ملاتا ہے۔ اردوان ہی کے دَورِ حکومت میں زیرِ زمین سُرنگ کی مدد سے ریل اور روڈ کے ذریعے یورپ و ایشیا کے درمیان رابطہ قائم کیا گیا۔ یہ صدیوں پُرانا خواب آج سے چند برس قبل تکمیل کو پہنچا۔ یورپ اور ایشیا کا یہ ملاپ صرف سفری اہمیت ہی نہیں رکھتا، بلکہ بین الاقوامی سیّاحت، تجارت اور سیاست پر بھی اس کے غیر معمولی اثرات مرتّب ہوں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اردوان کا مزید طاقت وَر ہونا، اس خطّے، بالخصوص یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے لیے بہت زیادہ چیلنجز لائے گا۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ تُرکی کا صدارتی نظام اسرائیل اور عرب ممالک دونوں ہی کے لیے قابلِ قبول ہو گا۔ تُرکی بحرِ روم کے کنارے واقع، بلکہ اس کا دروازہ ہے۔ 

خلافتِ عثمانیہ کے دَور میں تُرکوں کا بحرِ روم پر مکمل کنٹرول تھا اور تُرکوں نے متعدد مرتبہ یورپی بحری بیڑوں کو شکست دی، جس کی وجہ سے وہ تُرکوں کے سامنے سَر جُھکانے پر مجبور ہوئے، جب کہ افریقا، عرب اور وسطی ایشیا کے بڑے حصّے خلافتِ عثمانیہ کے باج گزار رہے۔ تُرکوں نے کم و بیش 350برس تک یورپ پر حُکم رانی کی اور تُرک عثمانی سلطنت اپنے زمانے میں سُپر پاور تھی۔ پہلی جنگِ عظیم کے نتیجے میں سلطنتِ عثمانیہ ٹوٹ پُھوٹ گئی، بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اسے جان بوجھ کرتوڑا گیا۔ یورپی طاقتوں بالخصوص برطانیہ، فرانس اور رُوس نے خلافتِ عثمانیہ کے حصّے بخرے کیے اور اب اس کے صوبوں کو مشرقِ وسطیٰ اور افریقا میں خود مختار اسلامی ریاستوں کی صورت دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تُرکی میں جب بھی کوئی یورپ مخالف طاقت وَر شخصیت برسرِ اقتدار آتی ہے، تو یورپی ممالک کو ماضی کی تلخ یادیں ستانے لگتی ہیں اور مغربی ماہرین اردوان کی فتوحات اور بڑھتی طاقت کو اسی پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ تُرکی تقریباً ایک سو برس تک یورپ کا قریب ترین حلیف رہا اور سرد جنگ سے لے کر اب تک یورپ کے شمالی دروازے کا محافظ بھی ہے، لیکن شاید اب تُرکی اور یورپ کے درمیان اعتماد کی فضا ماضی جیسی نہیں رہی۔ پھر ’’سلطان‘‘ کا لقب بھی یورپ کے لیے پریشان کُن ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ با اختیار صدر بننے کے بعد یورپ کو اردوان میں سلاطین کی جھلک نظر آتی ہے۔

اردوان کی فتح، مغرب کی پسپائی
صدارتی انتخابات میں اردوان کی کام یابی پر ان کے حامی جَشن منا رہے ہیں

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر اردوان کی قوّت میں اضافہ مغرب کے لیے پریشانی کا سبب کیوں ہے؟ یاد رہے کہ صدر بننے سے قبل اردوان تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے عُہدے پر فائز رہے۔ اس 12سالہ عرصے میں تُرکی نے ترقّی کے نئے ریکارڈز قائم کیے۔ اردوان کے دَورِ حکومت میں تُرکی نے تمام بیرونی قرضوں سے چُھٹکارا حاصل کیا اور مُلک میں کئی میگا پراجیکٹس پایۂ تکمیل تک پہنچے۔ انہوں نے اقتصادی خوش حالی کا ایک ایسا ماڈل پیش کیا، جو اسلامی دُنیا میں تو رول ماڈل کہلایا ہی، اکثر یورپی ممالک نے بھی اسے مثالی قرار دیا۔ اس پورے عرصے میں تُرکی کی خارجہ پالیسی خاصی متوازن رہی۔ اردوان نے عرب دُنیا سے تعلقات بحال کرنے جیسا بڑا کارنامہ انجام دیا۔ اپنے اس اقدام کے ذریعے انہوں نے پُرانے زخموں پر مرہم رکھا، رنجشیں دُور کیں اور اُمّتِ مسلمہ میں ہم آہنگی پیدا کی۔ پھر اردوان نے اسرائیل سے تعلقات قائم رکھتے ہوئے آزادیٔ فلسطین کے لیے جدوجہد کی بلند آہنگ انداز میں حمایت کی، جو یقیناً ایک کٹھن کام تھا۔ یاد رہے، اردوان اس وقت اسلامی تعاون تنظیم کے چیئرمین بھی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یورپ سے اپنے تعلقات بھی بہتر کیے، لیکن یورپ ان کی نیّت پر شک کرتا رہا اور اِسی وجہ سے تُرکی آج تک یورپی یونین کا رُکن نہیں بن سکا۔

دراصل، اردوان کے اسلام اور اسلامی دُنیا کی جانب جُھکائو کی وجہ سے یورپ کو تُرک صدر کی جانب سے خلافتِ عثمانیہ کے احیا کا خدشہ ہے، جس میں کسی قسم کی حقیقت نہیں، کیوں کہ تُرکی نے جمہوریت کا ایک طویل سفر طے کیا ہے اور آج وہاں جمہورکی حُکم رانی مضبوط ہے۔ ایسے میں صرف اُمّتِ مسلمہ کے حق میں آواز اُٹھانے کو جواز بنا کر تُرکی کو یورپی یونین سے باہر رکھنے کی کوئی تُک نہیں بنتی۔ اس کے برعکس اگر تُرکی کو یورپی یونین کا رُکن بنایا جاتا، تو اس سے مغرب ہی کو فائدہ پہنچتا کہ تُرکی اسلامی دُنیا اور یورپ کے درمیان پُل کا کام کر سکتا تھا، جس کے سبب طرفین میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دُور ہوتیں اور ہم آہنگی پیدا ہوتی، لیکن یورپ یہ موقع گنوا رہا ہے۔

تُرک صدر، اردوان کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد مغرب اور تُرکی کے درمیان خلیج وسیع ہوتی گئی۔ اس بغاوت کو کُچلنے اور اس کے مابعد اثرات کو ختم کرنے کے لیے اردوان کو غیر معمولی اقدامات کرنا پڑے، جن میں مشتبہ افراد کو ملازمت سے فارغ کرنے، ان کے خلاف مقدّمات قائم کرنے اور انہیں قید کرنے سمیت دوسری پابندیاں شامل تھیں۔ اس موقعے پر اردوان نے امریکا میں خود ساختہ جِلا وطنی کی زندگی گزارنے والے فتح اللہ گولن کو اپنے خلاف فوجی بغاوت کا ذمّے دار قرار دیتے ہوئے انہیں تُرکی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، جسے تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں امریکا اور تُرکی کے مابین تعلقات خراب ہو گئے اور پھر مغربی حُکّام اور ذرایع ابلاغ نے بغاوت کے خلاف کیے گئے اقدامات کو ’’کریک ڈائون‘‘ قرار دیتے ہوئے تُرک صدر پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کیے، لیکن اگر بغاوت سے پہلے کے حالات پر نظر دوڑائی جائے، تو پتا چلتا ہے کہ مغرب اور تُرکی کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کی جڑیں 2011ء میں شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں پوشیدہ ہیں۔ اردوان اپنے شامی ہم منصب، بشار الاسد کے شدید مخالف ہیں اور کچھ عرصہ قبل تک انہیں اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم، اب اُن کے اس مؤقف میں کچھ نرمی آگئی ہے۔ اس کے برعکس وہ شامی حزبِ اختلاف اور فری سیرین آرمی کے زبردست حمایتی ہیں اور اس خانہ جنگی کے دوران تُرک افواج شام کے ایک علاقے پر قبضہ بھی کر چُکی ہیں، مگر اسی خانہ جنگی کے نتیجے میں تُرکی میں کم و بیش30لاکھ شامی مہاجرین آئے، جو ایک جانب اس کی معیشت پر بوجھ بن چُکے ہیں، تو دوسری طرف مُلک میں سماجی و سیاسی مسائل پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ نیز، ان پناہ گزینوں میں سے ہزاروں بہ راستہ بحرِ روم یورپ کا رُخ کر رہے ہیں اور مہاجرین کی آمد یورپی یونین کے لیے بھی ایک بُحران کی شکل اختیار کرچُکی ہے۔ گرچہ شامی مہاجرین کی آبادکاری کے حوالے سے تُرکی اور یورپ کے درمیان معاہدے ہو چُکے ہیں، لیکن صورتِ حال اب بھی تشویش ناک ہے۔ پھر کُرد بغاوت بھی اردوان کے لیے ایک دردِ سَر بن گئی ہے۔ 

اردوان کی فتح، مغرب کی پسپائی
محرم انسے

ہر چند کہ تُرک صدر نے اپنے اقتدار کے ابتدائی عرصے میں کُرد رہنمائوں سے مذاکرات کرکے تُرکی میں مقیم کُردوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی سعی کی تھی اور انہیں کچھ کام یابی بھی ملی تھی، لیکن بعد ازاں تعلقات پھر کشیدہ ہوگئے اور اس وقت تُرک فورسز اور کُردوں کے درمیان باقاعدہ جنگ جاری ہے اور تُرک حکومت کی جانب سے انہیں باغی قرار دیا جا چُکا ہے۔ اس معاملے میں اردوان کے لیے ایک مشکل یہ بھی ہے کہ کُردوں سے امریکا اور یورپ کے بہت اچّھے تعلقات ہیں اور کُردوں کی جنگ جُو تنظیم، پیش مرگہ نے شام و عراق میں امریکا کی طرف سے داعش کے خلاف جنگ بھی لڑی ہے۔ گرچہ اس سلسلے میں حال ہی میں امریکا نے تُرکی کو کچھ رعایتیں دی ہیں، لیکن مجموعی طور پرصورتِ حال تسلّی بخش نہیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی، شامی مہاجرین کی آمد اور کُردوں کی بغاوت نے تُرکی کو کئی ایک چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے تُرکی کی معیشت بھی دبائو میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردوان کو یہ کہنا پڑا کہ تُرکی کو اس بُحران سے نکالنے کے لیے چند بنیادی فیصلے کرنا ہوں گے۔ تُرک صدر کاماننا ہے کہ ان مسائل پر قابو پانے اور معیشت اور علاقائی و عالمی سیاست سے متعلق دُور رس فیصلے کرنے کے لیے صدر کا زیادہ سے زیادہ با اختیار ہونا ضروری ہے اور صدارتی انتخابات میں فتح سے انہیں یہ مینڈیٹ مل گیا ۔ 

اب وہ اپنےمنشور کے مطابق ایک جانب مُلک میں انتظامی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، تو دوسری طرف خارجہ پالیسی بھی اپنی مرضی کے مطابق تُرکی کے مفاد میں بناسکتےہیں۔ ماہرین کے مطابق، اردوان کی جیت یورپ اور امریکا سمیت خطّے کے دوسرے ممالک کے لیے اس بات کا پیغام ہے کہ اب انہیں تُرکی سے متعلق معاملات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، جب کہ اردوان مغرب کی اطاعت کے قائل نہیں اور رُوس اور ایران سے اپنے تعلقات مضبوط کررہےہیں۔ اب مغرب کواس سارے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئےایک طاقت وَر تُرک صدر ہی سے معاملات طے کرنا ہوں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں