• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
الیکشن 2018ء: کب، کیا ہوا...؟

عام انتخابات کا بگل بجا

صدرِ مملکت، ممنون حسین نے 26 مئی 2018 ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے بھجوائی گئی سمری کی منظوری دی، جس کے مطابق25 جولائی کو مُلک میں عام انتخابات کروانے کا اعلان ہوا۔ الیکشن کمیشن نے صدرِ مملکت کو 24 سے 27 جولائی تک کی تاریخیں تجویز کی تھیں۔

نگران حکومتوں کا قیام

شفّاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خاتمے سے قبل ہی نگران حکومتوں کے قیام کی کوششیں شروع کردی گئیں، تاہم سیاسی قیادت کو اس حوالے سے خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیرِ اعظم، شاہد خاقان عبّاسی اور قائدِ حزبِ اختلاف، سیّد خورشید شاہ کے درمیان 28 مئی کو ہونے والی چَھٹی ملاقات میں نگران وزیراعظم کے لیے سابق چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس(ر) ناصر الملک کے نام پر اتفاق ہوگیا، جب کہ سندھ میں بھی حکومت اور اپوزیشن سابق چیف سیکریٹری، فضل الرحمٰن کو نگران وزیر اعلیٰ بنانے پر متفق ہوگئے، تاہم پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کے سبب معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا، جس نے جسٹس(ر) دوست محمّد کو کے پی کے، پروفیسر حسن عسکری رضوی کو پنجاب اور علاؤ الدّین مَری کو بلوچستان کا نگران وزیرِ اعلیٰ مقرّر کردیا۔

شیڈول جاری ہوا

الیکشن کمیشن نے31 مئی کو عام انتخابات کے لیے شیڈول جاری کیا، جس کے مطابق2 سے 6 جون تک کاغذاتِ نام زَدگی جمع کروائے جاسکتے تھے، تاہم کاغذاتِ نام زدگی کا معاملہ عدالت میں جانے کے سبب انتخابی شیڈول میں دو بار تبدیلی کی گئی اور امیدواروں سے 11 جون تک کاغذاتِ نام زدگی وصول کیے گئے۔

نام زَدگی فارم پر تنازع

لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے امیدواروں کے نام زَدگی فارم کے خلاف دسمبر 2017ء میں دائر کردہ درخواست پر یکم جون کو فیصلہ سُناتے ہوئے فارمز کو کالعدم قرار دے دیا، جس پر الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی، سردار ایّاز صادق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نام زَدگی کے فارم اے اور بی میں تمام خامیاں دُور کرے اور نئے کاغذاتِ نام زدگی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی روشنی میں بنائے جائیں، تاہم سپریم کورٹ نے دو روز بعد ہی اس حکم کو معطّل کردیا، البتہ عدالتِ عظمیٰ نے 6 جون کو نام زَدگی فارمز کو بحال رکھتے ہوئے امیدواروں کے لیے بیانِ حلفی داخل کرنا لازمی قرار دے دیا، جس میں اپنے اثاثوں وغیرہ کی معلومات دینا تھیں۔ چیف جسٹس، ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ’’ اپنے اور بچّوں کے غیر مُلکی اثاثے، بینک اکاؤنٹس اور دیگر تفصیلات بتانے میں آخر کیا حرج ہے۔‘‘

انتخابی مہم کے دَوران اہم عدالتی فیصلے

سپریم کورٹ نے یکم جون کو سابق وفاقی وزیر، خواجہ آصف کی نااہلی ختم کرتے ہوئے اُنھیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔ اُنھیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقامہ کیس میں تاحیات نااہل قرار دیا تھا۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے13 جون کو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ، شیخ رشید احمد کے خلاف محفوظ فیصلہ سُنایا، جس میں اُن پر لگائے گئے الزامات غلط قرار پائے اور یوں وہ نااہلی سے بچ گئے۔ اس ضمن میں سابق صدر، پرویز مشرف کا معاملہ بھی خاصا دِل چسپ رہا۔ اُنھوں نے چترال اور کراچی کے دو حلقوں سے کاغذات داخل کیے تھے۔ 

الیکشن 2018ء: کب، کیا ہوا...؟

سپریم کورٹ نے اُنھیں عدالت میں پیش ہونے کی شرط پر اس بات کی اجازت دی تھی، تاہم وہ طلبی کے باوجود نہیں آئے، جس پر عدالتِ عظمیٰ نے14 جون کو اُنھیں انتخابی دَوڑ سے باہر کردیا۔ اس فیصلے کے بعد پرویز مشرف اپنی جماعت’’ آل پاکستان مسلم لیگ‘‘ کی صدارت سے بھی مستعفی ہوگئے۔ علاوہ ازیں، سابق وفاقی وزیر اور نون لیگی رہنما، دانیال عزیز 28 جون کو توہینِ عدالت کیس میں 5 سال کے لیے نااہل قرار پائے۔ انتخابی مہم کے دَوران سب سے بڑا فیصلہ6 جولائی کو سامنے آیا۔ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم، میاں نواز شریف کو 10، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن( ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سُنائی، جب کہ بھاری جرمانہ عاید کرنے کے ساتھ، لندن جائیداد کی ضبطگی کا بھی حُکم دیا گیا۔نیز، 21 جولائی کو راول پنڈی کی انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت نے 2006 ء سے زیرِ سماعت ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ سُنایا، جس کے نتیجے میں این اے 60 سے مسلم لیگ نون کے امیدوار، حنیف عباسی کو عُمر قید کی سزا ملی اور وہ الیکشن لڑنے کے لیے بھی نااہل ہوگئے۔

دربار سیاست

پاکستان کی سیاست میں خانقاہوں، درباروں کا اثر ورسوخ کسی سے مخفی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی رہنما اپنی کام یابی کے لیے زیادہ سے زیادہ گدّی نشینوں کی حمایت کے حصول کے لیے سرگرم رہتے ہیں، خاص طور پر انتخابات کے دَوران تو اُن کی درباروں پر آمد ورفت بہت بڑھ جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ، عمران خان اور اُن کی تیسری اہلیہ، بشریٰ بی بی بھی روحانی شخصیات سے خاصی دِل چسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے عمران خان نے انتخابی مہم کے دَوران سیال شریف اور گولڑہ شریف کے گدّی نشینوں سے ملاقاتیں کیں، تاہم 28 جون کو پاک پتن میں حضرت فرید الدّین گنج شکرؒ کے مزار پر اپنی اہلیہ کے ساتھ حاضری کے موقعے پر دربار کی چوکھٹ چومنے یا مبیّنہ طور پر سجدہ کرنے کی ویڈیو کئی روز میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث رہی۔

امیدواروں کے گھیراؤ کا نیا ٹرینڈ

اس بار انتخابی مہم کے دَوران کچھ نئے رجحانات بھی دیکھنے میں آئے۔ مُلکی تاریخ میں پہلی بار بااثر امیدواروں کو اپنے حلقوں میں عام ووٹرز کی سخت باتیں سُننا پڑیں، یہاں تک کہ کئی حلقوں میں تو باقاعدہ اپنے حلقے کے سابق رُکنِ اسمبلی کے خلاف بینرز تک آویزاں کیے گئے۔ ووٹرز نے شاہد خاقان عبّاسی، خورشید شاہ، مُراد علی شاہ، عارف علوی، سکندر بوسن، سردار اویس لغاری اور دیگر رہنماؤں کا گھیراؤ کیا اور اُن سے اپنے مسائل حل نہ ہونے پر احتجاج کیا۔ دراصل، یہ میڈیا کا کمال ہے، جس نے عوام کو اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کا شعور دیا۔

’’جیپ‘‘ نے مچائی ہلچل

کسی بھی امیدوار کے لیے انتخابی نشان انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور بڑی پارٹی کے نشان کے لیے تو امیدوار جان لڑا دیتے ہیں، مگر اس بار یہ عجیب منظر بھی دیکھنے کو ملا کہ پنجاب کے کئی حلقوں سے مسلم لیگ نون کا انتخابی نشان،’’ شیر‘‘ حاصل کرنے والوں نے اچانک شیر کی بجائے، جیپ کا نشان الاٹ کروالیا۔ اس طرح کے امیدواروں کی تعداد تین درجن کے لگ بھگ تھی اور سب نے نشانات جاری کرنے کے لیے مقرّر آخری روز یعنی 30 جون کو ایسا کیا، جس نے مُلکی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ کہا گیا کہ یہ کوئی نیا گروپ قائم ہو رہا ہے، جس کی سربراہی چوہدری نثار کر رہے ہیں، جن کا انتخابی نشان بھی جیپ تھا، تاہم اُنھوں نے اس کی تردید کی۔

خواجہ سرا بنے نگران

الیکشن کمیشن نے مُلکی تاریخ میں پہلی بار خواجہ سراؤں کو بھی بہ طورِ مبصّر تعیّنات کیا تھا، جنھوں نے پولنگ کے روز اسلام آباد سمیت کئی شہروں میں انتخابی عمل کی نگرانی کی۔ لاہور کی خواجہ سرا، سونیا ناز کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ’’ کسی نے دھاندلی کی تو ٹھمکے لگا کر باہر کر دیں گے۔‘‘ نیز، مائیکل گیلر کی سربراہی میں آنے والے یورپی یونین کے مبصّرین نے بھی مختلف شہروں کے 85 پولنگ اسٹیشنز کے دَورے کیے اور ووٹرز کے شناختی کارڈز کی چیکنگ، انگوٹھے پر نشانات لگانے، بیلٹ پیپرز پر اسٹیمپ اور بیلٹ پیپرز کی پولنگ بوتھ تک پہنچانے کے عمل کا جائزہ لیا۔

خفیہ شادیاں ہوئیں بے نقاب

اس بار امیدواروں کو’’ عدالتی سختی‘‘ دیکھتے ہوئے کاغذاتِ نام زَدگی میں تقریباً ٹھیک ٹھیک معلومات فراہم کرنا پڑیں، جس سے کئی ایک کی خفیہ شادیاں بھی بے نقاب ہوئیں۔ اس ضمن میں سابق وفاقی وزیر، خواجہ سعد رفیق کی دوسری شادی کا خاصا چرچا رہا، جو اُنھوں نے سرکاری ٹی وی کی ایک اینکر، شفق حرا سے کر رکھی تھی۔ اسی طرح ایک ٹی وی اینکر کی بھی خفیہ شادی سامنے آئی، تاہم اُنھوں نے اس کا انتخابی حلف نامے میں کوئی ذکر نہیں کیا اور وہ اس حوالے سے مختلف تاویلات کا سہارا لیتے رہے۔ نیز، پی ٹی آئی کے ترجمان، فواد چوہدری کی خفیہ شادی کا معاملہ بھی عدالت تک پہنچا۔

جہاں پولنگ نہ ہو سکی

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلیوں کے چھے حلقوں میں پولنگ ملتوی کردی تھی۔ این اے 103 فیصل آباد اور پی پی 103 سے آزاد امیدوار، مرزا محمّد احمد مغل نے اہلِ خانہ کی جانب سے حمایت نہ کرنے پر خود کُشی کر لی تھی۔ این اے 60 راول پنڈی میں حنیف عبّاسی کی نااہلی کے سبب پولنگ نہ ہوسکی۔ پی کے78 ،پشاور میں ہارون بلور، پی بی 35 ،مستونگ میں سراج رئیسانی اور پی کے 99 ،ڈی آئی خان میں اکرام اللہ گنڈا پور کی خود کُش حملے میں شہادت کی وجہ سے انتخابات ملتوی کیے گئے۔ نیز، پی پی 87 ،میاں والی اور پی ایس 87 ،ملیر میں بھی پولنگ بعد میں ہوگی۔ علاوہ ازیں، پی ایس 8 ،کشمور سے امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہوچکے تھے۔

واحد بلامقابلہ جیت

ہمارے ہاں بلامقابلہ جیت کو بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں اس حوالے سے کئی ناخوش گوار واقعات بھی رُونما ہوتے رہے ہیں۔تاہم الیکشن 2018 ء میں پورے مُلک سے صرف ایک ہی امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے اور وہ تھے، پی ایس 8 ،کشمور سے پیپلزپارٹی کے شبیر بجارانی۔ اس بلا مقابلہ جیت کے لیے بھرپور سیاسی جوڑ توڑ کیا گیا تھا۔

مہنگے ترین انتخابات

2013 ء کے انتخابات میں 4 ارب 73 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے، جب کہ 2018 ء کے انتخابات میں اخراجات بڑھ کر 21 ارب تک جا پہنچے۔ یوں اس بار ایک ووٹر پر 198 روپے خرچ ہوئے، جب کہ 2013 ء میں ایک ووٹر پر صرف 58 روپے خرچ ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، اخراجات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ تو بیلٹ پیپرز کے لیے مہنگے امپورٹڈ کاغذ کا استعمال تھا، جب کہ اس بار انتخابی عملے کے معاوضے میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا۔

کرنٹ لگا اور اسٹیج گرے

الیکشن مہم کے دَوران سیاسی رہنماؤں کے ساتھ کچھ حادثات بھی پیش آئے، تاہم خوش قسمتی سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ 16 جولائی کو سابق وزیر اعلیٰ، پرویز خٹک نوشہرہ کے علاقے میاں عیسیٰ میں انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے کہ اچانک اسٹیج گر گیا، جس کے نتیجے میں اُن سمیت چھے افراد معمولی زخمی ہوئے۔ دو روز بعد اسی طرح کا واقعہ تحصیل صافی میں پیش آیا، جہاں امیر جماعتِ اسلامی، سراج الحق کی موجودگی میں اسٹیج زمین بوس ہوگیا، تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کے امیدوار، ابرار الحق کو نارووال میں جلسے سے خطاب کے دَوران ہاتھ میں پکڑے مائیک سے کرنٹ لگا، لیکن وہ محفوظ رہے۔ اسی طرح عمران خان کو بھی ایک پروگرام سے خطاب کے دَوران مائیک سے کرنٹ لگا۔

نواز شریف کی وطن واپسی

مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور اُن کی صاحب زادی، مریم نواز کو جس وقت سزا سُنائی گئی، وہ لندن میں تھے۔ سو، وہ دونوں 13 جولائی کو لاہور پہنچے، جہاں سے اُنھیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ اس دَوران لاہور میں ریلیاں نکالیں گئیں، جن کی قیادت مسلم لیگ نون کے صدر، شہباز شریف اور دیگر نے کی۔ نواز شریف کی مُلک واپسی اور ریلیوں سے مُلکی انتخابی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتّب ہوئے۔

اچھی خبریں

اس الیکشن کی ایک اہم خبر تو یہ رہی کہ 2002 ء کے بعد پہلی بار کالعدم تحریکِ طالبان کے سابق سربراہ، حکیم اللہ محسود کے گاؤں’’ مرغی بند‘‘ میں بھی پولنگ ہوئی اور عوام نے جوش وخروش کے ساتھ اپنا قومی فریضہ ادا کیا۔ اس گاؤں میں 2008 ء اور 2013 ء کے انتخابات میں پولنگ نہیں ہو سکی تھی۔ بلاشبہ یہ دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی کام یابی ہے۔ اسی طرح، اس بار کئی ایسے علاقوں میں بھی خواتین نے ووٹ کاسٹ کیے، جہاں اس کا تصوّر تک محال تھا۔ شمالی وزیرستان اور خوشاب میں خواتین کے پولنگ میں حصّہ لینے کی خبروں کو عالمی میڈیا نے بھی نمایاں جگہ دی۔

نتائج کا انتظار

الیکشن کمیشن نے اس بار نتائج کی تیز تر ترسیل کے لیے’’ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم‘‘ متعارف کروایا تھا، لیکن عین موقعے پر اُس نے کام چھوڑ دیا، جس کی وجہ سے قوم کو ذہنی اذیّت کا جو سامنا ہوا، سو ہوا، اس کوتاہی نے انتخابی نتائج پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم میں پیچیدگیوں کے سبب الیکشن کمیشن رات دو بجے تک کسی ایک بھی حلقے کا مکمل نتیجہ دینے میں ناکام رہا، حالاں کہ پریزائیڈنگ افسران کو رات دو بجے تک ہر صورت نتائج، کمیشن کو دینے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر نے پہلے نتیجے کا اعلان صبح چار بجے کیا۔

بڑے بڑے بُرج الٹ گئے

انتخابات کی ایک خاص بات یہ بھی رہی کہ مُلکی سیاست پر چھائے کئی بڑے ناموں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جے یو آئی کے سربراہ، مولانا فضل الرحمٰن اپنے آبائی علاقے میں قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر پی ٹی آئی کے امیدواروں سے ہار گئے۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ، شہباز شریف لاہور سے تو کام یاب رہے، لیکن ڈی جی خان، کراچی اور سوات سے جیت نہ پائے۔ ان تینوں حلقوں پر اُنھیں پی ٹی آئی کے امیدواروں نے شکست دی۔ اسی طرح سابق وزیراعظم، یوسف رضا گیلانی کو بھی پی ٹی آئی کے امیدوار، ابراہیم خان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ملتان سے اُن کے بیٹے بھی ہار گئے۔ پیپلزپارٹی کے چئیرمین، بلاول بھٹّو لاڑکانہ کی نشست تو نکالنے میں کام یاب رہے، تاہم اُنھیں پیپلز پارٹی کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے، لیاری سے پی ٹی آئی کے امیدوار سے اَپ سیٹ شکست ہوئی۔ بلاول بھٹّو یہاں تیسرے نمبر پر رہے، دوسرا نمبر تحریکِ لبیک کے امیدوار کا رہا۔ نیز، وہ مالاکنڈ سے بھی پی ٹی آئی کے امیدوار سے ہار گئے۔ سابق وزیر اعظم، شاہد خاقان عبّاسی بھی قومی اسمبلی نہ پہنچ پائے۔ اُنھیں اسلام آباد سے عمران خان نے شکست دی، تو آبائی حلقے میں پی ٹی آئی کے صداقت عبّاسی سے ہارے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما، ڈاکٹر فاروق ستّار کراچی کے دو حلقوں سے الیکشن لڑے اور دونوں ہی سے ہار گئے۔ کراچی کے سیاسی منظرنامے پر چند برس قبل ابھرنے والی، پاک سرزمین پارٹی کے لیے بھی یہ الیکشن اچھے نہیں رہے۔ پارٹی سربراہ، مصطفیٰ کمال سمیت تمام امیدوار ناکام رہے۔ لاہور کے حلقے این اے 131 سے سعد رفیق نے مقابلہ تو خُوب کیا، لیکن وہ عمران خان سے محض چند سو ووٹوں سے ہار گئے۔ لاہور ہی میں ایاز صادق اور علیم خان کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا، جس میں اسپیکر قومی اسمبلی فتح یاب رہے، تاہم علیم خان پنجاب اسمبلی کی نشست اپنے نام کرنے میں کام یاب ٹھہرے۔ پورے مُلک کی نظریں راول پنڈی کی اُن دو حلقوں پر لگی ہوئی تھیں، جہاں سابق وزیرِ داخلہ، چوہدری نثار پی ٹی آئی کے غلام سرور خان سے آزاد حیثیت میں پنجہ آزمائی کررہے تھے، لیکن وہ ان دونوں نشستوں پر بُری طرح شکست کھا گئے۔ جماعتِ اسلامی کے حلقوں میں یہ خبر انتہائی افسوس سے سُنی گئی کہ اُس کے امیر، سراج الحق، دیر میں پی ٹی آئی سے ہار گئے۔ 

الیکشن 2018ء: کب، کیا ہوا...؟

واضح رہے کہ اس حلقے میں جماعتِ اسلامی کو پہلی بار شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اے این پی کے سربراہ، اسفند یار ولی بھی چار سدّہ سے اپنی سیٹ نہ نکال پائے۔ نون لیگ کے اہم رہنماؤں عابد شیر علی، طلّال چوہدری، تہمینہ دولتانہ، طارق فضل چوہدری، شیخ آفتاب، اویس لغاری کو بھی کام یابی نہ مل سکی، جب کہ جمشید دستی بھی دونوں نشستوں سے ہار گئے۔ پشتون خواہ ملّی عوامی پارٹی کے سربراہ، محمود خان اچکزئی اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ، آفتاب شیرپاؤ بھی اپنی نشست نہ بچا سکے۔ علاوہ ازیں، ارباب غلام رحیم، لیاقت جتوئی، پیر صدر الدّین شاہ راشدی، ذوالفقار مرزا، سردار دوست محمّد کھوسہ، غوث علی شاہ، قمر زمان کائرہ، فردوس عاشق اعوان، ندیم افضل چَن، غلام احمد بلور، مولانا عبدالغفور حیدری کو بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ عائشہ گلالئی چار حلقوں سے کھڑی ہوئی تھیں اور چاروں ہی میں بُری طرح ہار گئیں۔

ایک گھر، کئی نشستیں

پاکستان میں کئی گھرانے سیاست پر چھائے ہوئے ہیں، اس کی ایک جھلک الیکشن 2018 ء میں بھی دیکھنے کو ملی۔ اس الیکشن میں آصف زرداری، صاحب زادے بلاول، بہنیں فریال تالپور اور عذرا، جب کہ بہنوئی میر منّور تالپور کام یاب رہے۔ لاہور میں شہباز شریف کے ساتھ اُن کے بیٹے، حمزہ نے بھی کام یابی حاصل کی۔ دیگر میں ملک پرویز، علی پرویز( باپ، بیٹا)، شاہ محمود، زین قریشی( باپ، بیٹا)، مصطفیٰ محمود، مرتضیٰ محمود( بھائی)، ریاض فتیانہ، آشفہ ریاض( میاں، بیوی)، پرویز الہٰی، حسین الٰہی( چچا، بھتیجا)، ریاض شیرازی، اعجاز شیرازی( بھائی)، فہمیدہ مرزا، حسنین مرزا( ماں، بیٹا)، پرویز خٹک، عمران خٹک( سسر، داماد)، چوہدری افتخار نذیر، حاجی عطا الرحمٰن( بھائی) اور عمر ایوب، ارشد ایوب، اکبر ایوب( ایوب خان کے پوتے) وغیرہ شامل ہیں۔

بڑے شہر کس کے نام رہے

لاہور کو مسلم لیگ نون کا گڑھ کہا جاتا ہے اور 2018 ء کے الیکشن سے بھی یہی ثابت ہوا۔ قومی اسمبلی کی 14 نشستوں میں سے 10 پر نون لیگ اور 4 پر پی ٹی آئی کے امیدواروں نے کام یابی حاصل کی۔ صوبائی اسمبلی کی 30 نشستوں میں سے 22 مسلم لیگ نون اور 8 پی ٹی آئی کو ملیں۔ کراچی کے حصّے میں قومی اسمبلی کی21 نشستیں آئی تھیں، جن میں سے 14 تحریکِ انصاف، 4 ایم کیو ایم اور تین پیپلز پارٹی نے جیتیں۔ پشاور نے ایک بار پھر پی ٹی آئی ہی کے حق میں فیصلہ دیا۔ تحریکِ انصاف وہاں سے قومی اسمبلی کی پانچوں نشستیں لے اڑی، جب کہ صوبائی اسمبلی کی 14 میں سے 13 نشستیں بھی اسی کے نام رہیں، ایک نشست پر ہارون بلور کی شہادت کے سبب پولنگ نہیں ہوئی۔ اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے پی ٹی آئی کو فتح ملی۔ کوئٹہ کی تین نشستوں میں سے ایک متحدہ مجلسِ عمل، ایک پی ٹی آئی اور ایک بلوچستان نیشنل پارٹی کے حصّے میں آئی۔

معذور اور ضعیف شہری بھی پیچھے نہیں رہے

انتخابات کے روز شہریوں کا جوش وخروش دیدنی رہا۔ کئی پولنگ اسٹیشنز پر تو شہری صبح 8 بجے سے بھی پہلے پہنچ گئے۔ اس موقعے پر ضعیف اور معذور شہریوں نے بھی گھروں میں بیٹھنے کی بجائے اپنا قومی فریضہ ادا کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز کا رُخ کیا۔ لاہور کی ایک معذور لڑکی، فجر کی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی۔ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچی تھیں۔ فجر ووٹ دینے کے بعد شدّتِ جذبات سے بُری طرح رو پڑیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ’’ مَیں نے پاکستان کی بہتری کے لیے ووٹ دیا۔‘‘ اسی طرح ایک رپورٹ کے مطابق، 3844 ایسے افراد نے بھی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جن کی عُمریں ایک سو برس سے زاید ہیں۔

یورپی یونین اور فافن کا اظہارِ اطمینان

یورپی یونین کے مبصرین اور فافن نے اپنی رپورٹ میں الیکشن 2018 ء کو گزشتہ انتخابات سے بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’ ووٹوں کی گنتی کے دَوران پولنگ ایجنٹس کو باہر نہیں نکالا گیا اور کہیں بھی فوج کو انتخابی عمل میں مداخلت کرتے نہیں دیکھا، بلکہ فوجی جوان ووٹرز کی مدد کرتے رہے۔ پولنگ کے دوران چھوٹی چھوٹی بے ضابطگیاں تو ہوئیں، لیکن کوئی بڑی بدنظمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ نتائج میں تاخیر کی وجہ الیکشن کمیشن کا آر ٹی نظام تھا، جسے کسی آزمائش کے بغیر ہی استعمال کیا گیا، مگر اس کے باوجود انتخابی نتائج اطمینان بخش ہیں۔ تاہم، الیکشن سے پہلے تمام جماعتوں کو یک ساں مواقع نہیں ملے۔‘‘

الیکشن 2018ء: کب، کیا ہوا...؟

کچھ مختصر اعداد وشمار

* مُلک بھر میں 85 ہزار 307 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے، جن میں سے 17 ہزار پولنگ اسٹیشنز حسّاس قرار دیے گئے۔

* پاک فوج کے 3 لاکھ 71 ہزار اور پولیس کے 4 لاکھ 49 ہزار 465 اہل کاروں نے سیکوریٹی کے فرائض سر انجام دیے۔

* انتخابی عملے کی تعداد 16 لاکھ کے لگ بھگ رہی۔

* قومی اسمبلی کی 272 جنرل نشستوں میں سے 270 اور صوبائی اسمبلیوں کی 577 جنرل نشستوں میں سے 570 پر پولنگ ہوئی۔

* ووٹرز کی کُل تعداد 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 تھی، جب کہ 2013 ء میں ووٹرز کی تعداد 8 کروڑ 61 لاکھ 89 ہزار 802 تھی۔

* ایک کروڑ سے زاید ووٹرز نے الیکشن کمیشن کی ایس ایم ایس سروس کے ذریعے پولنگ اسٹیشن کی معلومات حاصل کیں۔

* 12 ہزار سے زاید امیدواروں نے کاغذاتِ نام زَدگی جمع کروائے، لیکن میدان میں 3507 امیدوار ہی اُترے۔

* مجموعی طور پر 95 جماعتوں نے اپنے امیدوار میدان میں اتارے۔ ان 95 میں دو انتخابی اتحاد، متحدہ مجلسِ عمل اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس بھی شامل تھے۔

دہشت گرد قوم کو خوف زَدہ نہ کرسکے

پاکستان دشمن قوّتوں نے نہ صرف انتخابی مہم کے دَوران بلکہ پولنگ کے روز بھی خود کُش حملوں اور دھماکوں کے ذریعے قوم کو خوف زَدہ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں بُری طرح ناکام رہے۔ 10 جولائی کو پشاور میں ایک کارنر میٹنگ کے دَوران اے این پی کے امیدوار، ہارون بلور پر خود کُش حملہ کیا گیا، جس میں وہ 14 ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے، جب کہ 65 افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس واقعے کے تین روز بعد بلوچستان کے علاقے، مستونگ کے قریب درینگڑھ میں اُس وقت خود کُش حملہ ہوا، جب بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار، سراج رئیسانی جلسہ گاہ پہنچے۔ اس حملے کے نتیجے میں سراج رئیسانی سمیت 150 افراد شہید اور 186 زخمی ہوئے۔ اُسی روز بنّوں میں ایم ایم اے کے امیدوار، اکرم خان درّانی کے قافلے کے قریب بارود سے بَھری موٹر سائیکل کو ریموٹ کنٹرول سے اُڑا دیا گیا، جس میں 5 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، تاہم اکرم درّانی محفوظ رہے۔ اُن پر اس واقعے کے چند روز بعد فائرنگ بھی کی گئی ،لیکن وہ محفوظ رہے۔ انتخابات سے تین روز قبل ڈی آئی خان میں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوا، جس میں پی ٹی آئی کے امیدوار، اکرام اللہ خان گنڈا پور شہید ہوئے۔ 

الیکشن 2018ء: کب، کیا ہوا...؟

انتخابی مہم کے دوران کئی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کے دفاتر پر دستی بم حملے اور فائرنگ کی گئی، جس میں دو درجن سے زاید لوگ زخمی ہوئے۔ انتخابات کے روز بھی مُلک دشمن سرگرم رہے اور اُنھوں نے کوئٹہ میں ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب ڈی آئی جی کے قافلے پر خُود کُش حملہ کیا، جس میں پولیس اہل کاروں سمیت 32 افراد شہید اور 84 زخمی ہوئے۔ اسی روز بلوچستان کے علاقے بلیدہ میں انتخابی عملے کی سیکوریٹی پر مامور فوجی جوانوں پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں تین جوانوں سمیت چار افراد شہید ہوئے۔ ان تمام واقعات کے باوجود بلوچستان سمیت پورے مُلک میں عوام نے جمہوری عمل میں بھرپور حصّہ لیا۔

تازہ ترین