آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرینکفرٹ: کلیئر جونز

لندن : گے شازان

ہفتہ کو اینگلا مرکل اور ولادیمیر پیوٹن نے شام کے تنازع ، یوکرائن اور روس سے یورپ گیس کی منتقلی پر بات چیت کیلئے ملاقات کی۔

اینگلا مرکل نے کہا کہ بین الاقوامی بحران حل کرنے کیلئے روس اور جرمنی کو مل کر کام کرنے کی ذمہ داری تھی، جوڑے نے اس سے قبل چانسلر کے شولوز میسبرگ میں ملاقات کی۔

جرمن چانسلر شام پر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ پیشرفت کرنے کیلئے آرزومند ہیں،کچھ اشاروں کے درمیان کہ اس بات کا یقین کرنے پر کہ جرمنی میں شام کے پناہ گزین جلد از جلد وطن واپس لوٹ جائیں گے جنگ کے بعد ملک کے نظم و نسق کیلئے روس کے حمایت یافتہ شام کے رہنما بشار الاسد کے کردار کو قبول کرنے کیلئے برلن شاید تیار ہوسکتا ہے ۔

ملاقات سے قبل پریس کانفرنس میں ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ شام کی تعمیر نو کیلئے یورپ کی امداد کی ضرورت ہے۔ اینگلا مرکل نے آئینی اصلاحات اور انتخابات کیلئے مطالبہ کیا۔

اینگلا مرکل نے نارڈ اسٹریم 2 گیس پائپ لائن کی تعمیر کے بعد بھی یوکرین کے ذریعے گیس کی گزر گاہ کی ضرورت کا بھی اعادہ کیا، جس سے جرمنی روس سے براہ راست زیادہ گیس حاصل کرنے کے قابل پوجائے گا۔ ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ یوکرائن کے ذریعے یورپ تک پہنچنے والی گیس کا تسلسل اقتصادی دلیل پر منحصر ہے۔

ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ نارڈ اسٹریم 2 یوکرائن کے ذریعے روسی گیس کی گزرگاہ کے لئے کسی بھی امکان کو بند نہیں کرتا۔میں صرف زور دینا چاہتا ہوں کہ اہم بات یہ ہے کہ یوکرائن کے ذریعے یہ گزرگاہ اقتصادی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔

اینگلا میرکل سے ملاقات کے راستے پر ولادیمیر پیوٹن نے آسٹریا کی وزیرخارجہ کیرن کینیسل کی شادی میں بھی شرکت کی۔

برلن کے شمال میں مؤقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے مذاکرات 2014میں یوکرائن میں تنازع پیدا ہونے کے بعد سے، جرمنی کی سرزمین پر دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی اور روس کے تعلقات میں ایک اہم موڑ کے طور پر مشتہر کیا گیا تھا۔

خارجہ تعلقات پر جرمن کونسل کے اسٹیفن میسٹر نے کہا کہ مشرقی یوکرائن میں تنازع پر بات چیت میں جبکہ کوئی پیش رفت متوقع نہیں تھی، مسائل جیسے نارڈ اسٹریم2، شام میں خانہ جنگی، ایران کا جوہری معاہدہ اور عالمی تجارتی جنگ کا آغاز دونوں طرفین پر ایک عملی دلچسپی کی سیاست کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اسٹیفن میسٹر نے کہا کہ امریکی پالیسی کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس متناسب تعلقات کے اہم محرک ہیں۔ دونوں واشنگٹن کو سگنل بھیجنا چاہتے ہیں کہ وہ بلیک میل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملاقات کام کی سطح پر جرمن اور روس کے تعلقات کو معمول پر لانے کا ایک موقع ہے۔

ماسکو اور برلن کے مابین تعلقات حالیہ مہینوں میں شدت اختیار کرگئے تھے۔ مئی میں اینگلا مرکل نے سوچی میں ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی اور پھر جولائی کے آخر میں وزیر خارجہ سرگری لاروف اور روس کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف نے ملاقات کی۔

دونوں ممالک کیلئے بڑی تشویش ہے کہ نارڈ اسٹریم2 پروجیکٹ کے امریکی پابندیوں کا شکار ہونے کا امکان ہے،ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ جرمنی روس کا اسیر ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ روسی گیس خرید رہا ہے۔

ملاقات سے قبل اینگلا مرکل نے یوکرائن کے صدر پیٹرو پورسوینکو کو کال کی۔ ان کے آفس نے کہا کہ دونوں سربراہان نے مشرقی یوکرائن میں غیرقانوی طور پر قید یوکرائن کے یرغمالیوں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی اور اولیگ سینستو کی فوری رہائی کی ضرورت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

اولیگ سینستو یوکرائن کے فلمساز اور سماجی کارکن ہیں،جو 2014 سے دہشت گردی کے الزمات پر روس میں قید اور وسط مئی سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

مسٹر پورشینکو کے مطابق دونوں سربراہان نے مشرقی یوکرائن کے علاقے دون باس کی صورتحال، جو اب روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے پاس ہے، اور علاقے میں بین الاقوامی امن قائم کرنے والوں کی تعیناتی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں