آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں تعلیم تفریق کا خاتمہ ضروری ہے اور ایسا نہیں چلے گا کہ امیر کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے اور غریب کے بچے ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں نئے جذبے اور واضع حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ہوگا صرف ڈیٹا ادھر ادھر کرنے سے بہتری نہیں آئے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کی جانب سے ان کو دی گئی محکمے کی پہلی بریفنگ کے موقع پر کیا۔ اجلاس میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن عالیہ شاہد اور متعلقہ ایڈیشنل سیکریٹریز، سیکریٹریز اور ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔ اس موقع پر اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری اسکول ایجوکیشن نے وزیر تعلیم کو بتایا کہ صوبے میں کل 45555 اسکولز ہیں، جن میں سے 41132 پرائمری اسکولز 1640 مڈل اسکول،601 الیمینٹری، 1719 سیکنڈری اور 291 ہائیر سیکنڈری اسکولز موجود ہیں۔

ان اسکولز میں داخل بچوں کے متعلق سیکریٹری اسکولز ایجوکیشن نے بتایا کہ ہمارے پاس کل 42 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں، جن میں 25 لاکھ 77 ہزار لڑکے اور 16 لاکھ 52 ہزار لڑکیاں شامل ہیں جن کے لئے ہمارے پاس اساتذہ کی تعداد 150,787 ہے جن میں سے 103422 مرد اساتذہ اور 47365 خواتین اساتذہ شامل ہیں۔اس موقع پر وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ مجھے صوبے میں تعلیم کو بہتر کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے اور میں نو کمپرومائیز پالیسی کے تحت کام کرونگا۔

انہوں نے اجلاس کے شرکاء سے سوال کیا کہ کیا ہم سب کو کبھی یہ احساس ہوا ہے کہ امیر کا بچہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور غریب کا بچہ در در کی ٹھوکریں کیوں کھائے۔ ہمیں پورے صوبے کے بچوں کو اپنا بچہ تصور کرکے یہ سوچنا چاہیے کہ ہم سب کے اپنے بچے بھی کیوں نہ سرکاری اسکولوں میں پڑھیں۔

سردار شاہ نے کہا کہ ہمارے تعلیمی نصاب بوسیدہ ہونے کی اور کیا مثال دی جائے کہ آج کے پام ٹاپ کے جدید دور میں بھی ہم نویں کلاس کے طلبا کو ریڈیو کے معجزات پڑھا رہے ہیں۔ بوسیدہ نصاب، طلبا ء اور اساتذہ کی غیر متوازن سراسری، اور اسکولز کی خستہ حالی سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ جب سیکشن آفیسر ہی تعلقہ ایجوکیشن آفیسر ہوگا تو سسٹم کیسے ٹھیک ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ میں ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر نہیں بلکہ نچلی سطح تک جاکر خود جائزہ لونگا، نہ خود آرام سے بیٹھونگا اور نہ آپ کو بیٹھنے دوں گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں