آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پانی خدا کا انمول تحفہ ہے جس کے بغیر انسانی زندگی کا وجود ممکن نہیں ۔ جبکہ وطن عزیز پانی کے ایسے شدید بحران کا شکار ہے جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے صورتحال کی سنگینی کا ادراک نہ کیا اور نہ ہی اس بحران پر قابو پانے کے لئے کوئی مؤثر منصوبہ بندی کی، جبکہ عالمی آبادی میں بے تحاشا اضافےکی وجہ سے قدرتی وسائل دبائو کا شکار ہیں اور پانی کی ضروریات پوری کرنا بنی نوع انسان کے لئے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لئے مختلف ممالک کوشاں ہیں۔ ڈیمز کی تعمیر بھی ان میں سے ایک ہے۔ ڈیمز بارش کے موسم میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے علاوہ سیلاب سے بچائو کے لئے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ڈیموں میں ذخیرہ کیا گیا پانی خشک سالی کے دوران زراعت اور پینے کے لئے دستیاب ہوتا ہے۔ یہ ڈیم صرف پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے استعمال نہیں ہوتے بلکہ ان سے سستی اور ماحول دوست بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو پانی کی شدید قلت اور توانائی کے بحران کا شکار ہیں اس لئے پاکستان میں ڈیمز کی اہمیت دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے لیکن سیاسی، صوبائی اختلافات، بعض تکنیکی مسائل اور مسئلے کی سنگینی کا ادراک نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر ایک خواب بن گئی ہے۔ایسے

عالم میں، پاکستان کو بڑی تعداد میں چھوٹے اور بڑے آبی ذخائر کی ضرورت ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے جس کام کی طرف قوم کی رہنمائی کی اس میں پاکستانی عوام کی بھرپور دلچسپی اس بات کی علامت ہے کہ قوم اس ڈیم کی اہمیت کو پوری طرح سمجھتی ہے۔ اس باب میں یہ اطلاعات حوصلہ افزا ہیں کہ مختصر مدت میں عوام کی طرف سے خاصی بڑی رقم جمع کی جاچکی ہے۔ تاہم منصوبے کی نوعیت اس بات کی متقاضی ہے کہ قوم کے تمام طبقے اس باب میں مزید متحرک ہوں تاکہ نئے ڈیم کی تعمیر کی صورت میں ایک بڑا آبی ذخیرہ میسر آجائے۔ مقامی سطح پر چھوٹے کم خرچ ڈیموں کی افادیت بھی بہرطور نظرانداز نہیں کی جانی چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں