• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی ،لندن
ایک ادیب و شاعر سچے ادب کے ساتھ مخلص ہو کر کس طرح معاشرتی و سماجی روایات کی ترجمانی کر سکتا ہے۔ وہ کون سا ادب ہے جو سچائی کیساتھ اپنا لوہا منوا لیتا ہے ظاہر ہے جس تخلیق کار میں سماجی فکر ہوگی وہ ہی دوسروں کے لئے پرکشش ہوتا ہے۔ حساس قسم کے تخلیق کار حساس ذہنوں میں تادیر زندہ رہتے ہیں کیونکہ ان کی وابستگی معاشرے میں رہنے والوں کیساتھ ہوتی ہے۔ مگر کچھ ادیب ایسے بھی ہوتے جو افسانوی طرز تحریر میں توانا اور معرکت الآرا ہوتے ہیں یہ ہی ادیب علم و ادب کا بیش بہا خزانہ ہوتے ہیں۔ جن کی ازلی سرگرمیاں کبھی ماند نہیں پڑتیں یا یوں کہہ لیجئے کہ ان کا قلم لکھتے تھکتا نہیں ہے۔ ان کی متعدد ادبی سرگرمیاں صرف شاعری یا افسانوں تک محدود نہیں ہوتیں وہ کہانی اور ڈراموں میں بھی رجحانات رکھتے ہیں۔ ان کی تخلیق کا دائرہ وسیع تر ہوتا ہے وہ فنون لطیفہ کی ادبی فضا سے لے کر ہر واقف و ناواقف تک میں معتبر کر دیتی ہے۔ ان کی ذات و شخصیت ان کے کام سے مزید نکھرتی ہے۔ جدید ڈراموں میں عوام کو تفریح فراہم کرنے والے چند مشہور و معروف اہل قلم ڈرامہ نگاروں میں جہاں بڑے بڑے باقاعدہ نام ہیں، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، انور مقصود، انتظار حسین، اصغر ندیم سید، یونس جاوید، حمید کاشمیری، امجد اسلام امجد، فاطمہ ثریا بجیا، حسینہ معین اور خواتین ڈرامہ نگاروں میں ابھر کر آنے والا نام سیما غزل کا بھی ہے۔جو سیما کا مختصر ’’سیم‘‘ ہو تو چاندی، نقرہ اور دولت معنی رکھتا ہے۔ سیما کا مطلب ماتھا، پیشانی اور چہرہ ہے۔ چہرے مہرے سے ذہانت کا پر تو نظر آنے والی سیما کی کشادہ پیشانی بھی ان کے لائق فائق ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ سیما غزل اسم بامُسمیٰ ہیں۔ ’’غزل‘‘ کا مطلب بھی شاعری کی وسیع صنف ہے غزل عشق و محبت کے ذکر کو بھی کہتے ہیں۔ جیسے غزل کا ہر شعر جداگانہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اسی طرح سیما غزل بھی مختلف صلاحیتوں کا پرتو اور پیکر دکھائی دیتی ہیں۔ غزل کا ایم معنی عورتوں کے حسن و جمال کی تعریف کرنا ہے تو سیما کے پاس غزلِ مسلسل کی کیفیت ہے۔سیما غزل کا تعلق نہایت ادبی خاندان سے ہے۔ والد شاعر اور ریڈیو سکرپٹ رائٹر تھے۔ ریڈیو پر سیما غزل نے بچوں کی کہانیاں لکھنے سے آغاز کیا۔ اس کے بعد خواتین کے مشہور رسالے  کی ایڈیٹر رہیں۔ غزل نے شاعری، ڈرامے، کہانی اور افسانوں کے علاوہ ایک ماہر کے طور پر رسالے کی ادارت سنبھال کر علم و ادب کے فروغ میں نمایاں کارنامہ بھی انجام دیا وہ بھی چند سال نہیں پورے 12 سال یہ ذمہ داری نبھائی۔ ہر بزم ہنر میں قلم کا جادو جگانے والی سیما غزل نے پھر ٹی وی کے لئے ڈرامے لکھنے شروع کئے۔ جنہیں دیکھتے دیکھتے ہی بامِ عروج حاصل ہوگیا۔ ٹی وی ڈراموں میں ایسی روشنی پھیلائی کہ ایک زمانے میں انہیں کے نام کا طوطی بولتا رہا۔ اس روشنی میں ان کے قدم اور قلم خوب چلے۔ سیما غزل یہاں کامیابی کی علامت سمجھی جانے لگیں۔ اب تک ان کے 400 سے زیادہ ڈرامے آن ایئر ہوچکے ہیں۔ ان کے مشہور ڈرامے چاندنی راتیں، انا، مہندی، ہم سے جدا نہ ہونا کو مسلسل لکس ایوارڈ حاصل ہوتے رہے۔ اس سے علاوہ کئی حالیہ پسندیدہ ڈرامے دل نہیں مانتا، دے اجانت جو تو، شدت، میرا سایہ، ناآشنا اور چاہت شامل ہیں۔ سیما غزل اپنے قلم کے ساتھ سچا انصاف کرتی ہیں تبھی ہم انہیں سچی تخلیق کار کہتے ہیں کہ جنہوں نے ناول نگاری میں بھی کئی شمعیں روشن کیں۔ ان کے سات ناول منظر عام پر ہیں۔ چند کے قیدی، کمند، زرد پتوں کا بھنور، کوری آنکھیں،، کالی بیل، اندھی رات کا بیٹا اور آدھا وجود شامل ہیں۔ہم سیما غزل کی ہر قسم کی ادبی خدمات سے نہایت متاثر ہیں۔ ابھی ان کی لکھی نثر سے متعلق ہی بات ہو رہی ہے ان کی شاعری پر بات کرنے کے لئے ایک وسیع کینوس چاہئے پھر شاعری کے بھی انفرادی رجحانات ہیں مختلف موضوع ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ سیما غزل وہاں بھی طرح طرح کی جہتیں روشن کرتی ہیں۔ تبھی کئی ایوارڈز کی حقدار ٹھہریں۔ سیما غزل کا ذہنی افق ادب کے ہر میدان میں وسیع تر ہے۔ اسی میدان میں انہوں نے کئی رنگ بکھیرے۔ مگر ان کی شائستہ سوچ اور دل کے گوشے میں خواتین کے لئے بھی نرم و گداز جذبات ہیں تبھی ان کی ہمدردی میں کہتی ہیں کہ مرد نے اپنی ذمہ داریاں بھی عورت کے کندھوں پر ڈال دی ہیں۔ عورت آج بھی روایات میں، خواہشات میں اور اپنی خواب گاہ میں دفنائی جا رہی ہے۔ سیما غزل ہمت کا نام ہے یہ ہی ہمت دوسری خواتین کے لئے مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم ایسی خواتین ہی سے متاثر ہوتے ہیں جن کو اپنا قد بڑھانے کے لئے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی وہ اپنی ہی صلاحیتوں اور ہمت کے بل پر کھڑی ہوتی ہیں۔ بوسیدہ قسم کے معاشرتی اقدار سے دور رہتی ہیں۔ ہم سیما غزل کی تمام ترجیحات سے تقریباً واقف ہیں۔ انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع بھی حاصل ہوا۔ ان کی علمی استعداد ادب تک محدود نہیں بلکہ وہ حالیہ دنوں میں سیاسی ماحول پر جرأت مندانہ باتیں اور تبصرے بھی کرتی ہیں۔ سیاسی موضوعات پر ظرافت کے طنز اور ٹوٹے لکھتی رہتی ہیں۔ فنون لطیفہ کی ادبی اقسام پر بات کرنے سے علاوہ آپ کی دسترس میں دوسری معاشرتی و سماجی پہلوئوں پر بات کرنے کی چاشنی بھی ہے طنز بھی۔ بحیثیت انسان سیما غزل بے لوث، ہمدردانہ روئیے کی خوبو رکھنے والی ہیں۔ بیدار مغز بھی ہیں تبھی فنون لطیفہ کی کئی اقسام پر گرفت رکھتی ہیں۔ روایتی بھی خوب نظر آتی ہیں لباس میں ساڑھی انہیں پسند ہے جس کی وجہ سے باوقار اور لکھاری خاتون لگتی ہیں نفاست کا پیکر ہم انہیں کہہ سکتے ہیں۔ شخصیت انسان کے باطنی اور ظاہری روپ کو خوب دکھاتی ہے جب انسان سچے جذبوں سے سرشار ہو۔ سیما غزل سیاس معاملات میں کھرے کھوٹے کی پہچان رکھتی ہیں۔ ان کا بیشتر رویہ ملی امنگوں سے ہم آہنگ ہے۔ حقوق نسواں کی حامی اگر ہیں تو اس ملک کی ترقی میں خواتین کا بھرپور کردار دیکھنا بھی چاہتی ہیں۔ ادب سے علاوہ ملکی سیاست میں ان کی گہری دلچسپی انہیں ملک سے محبت ہے کا ثبوت دیتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ سیما غزل نے اردو ادب کی بے حد خدمت کی ہے تو سائنس اور فلسفے سے دور ہونگی مگر ان کی شخصیت اگر مقناطیسی ہے تو فلسفہ بھی کہیں ان کے پیکر میں چھپا ہے۔ قابل گھرانے کی نہایت قابل خاتون ہمارے لئے نہایت محترم ہیں۔
تازہ ترین