آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیکسن ہول: سیم فلیمنگ

ناقدین جن میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں کے خلاف مرکزی بینک کی شرح سود میں اضافے کے تدریجی نکتہ نظر کا دفاع کرتے ہوئے چیئرمین جے پاؤل نے کہا کہ وفاقی ذخائر کو امریکا کی معیشت میں نمایاں افراط زر کا خطرہ نظر نہیں آتا۔

وفاقی ذخائر نے اشارہ دیا کہ وہ آئندہ ماہ دوبارہ شرح میں اضافہ کرے گا،دسمبر کے ساتھ بھی ویسع پیمانے پر توقع کی جارہی ہے۔ لیکن 2019 میں ممکنہ امکانات تاریک ہیں جیسا کہ شرح کے غیرجانبدار شرحوں کے موجودہ تخمینوں کے قریب ہے، جو وسیع پیمانے پر شرح سود کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو معیشت کو متوازن رکھتا ہے۔

جے پاؤل نے جمعہ کو سینٹرل بینکرز کیلئے سالانہ جیکسن ہول سمپوزیم میں خطاب کرتے ہوئے صدر کی تنقید کا براہ راست حوالہ نہیں دیا،اس کی بجائے شرح سود کے اضافے کی اپنے محتاط نکتہ نظر کیلئے اکیڈمک اور تاریخی جواز پر توجہ مرکوز رکھی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی ذخائر دو خطروں کے درمیان راستہ بنانے کی کوشش کررہا تھا، تیزی سے آگے بڑھنے اور اقتصادی توسیع کی غیر ضروری کمی اور اس کے برعکس بہت سست روی سے شرح میں اضافہ اور افراط زر کے عدم استحکام کا خطرہ لیں۔

جے پاؤل نے کہا کہ وفاقی ذخائر ان دونوں خطرات کو سنجدیگی سے لینے کے نکتہ نظر کے طور پر میں نے بتدریج شرح سود میں اضافہ کے موجودہ راستے کو دیکھا۔جبکہ افراط زر حال ہی میں 2 فیصد کے قریب اوپر چلا گیا، ہم نے 2 فیصد سے اوپر تیزی کو کوئی واضح اشارہ نہیں دیکھا اور ایسا لگتا ہے کہ نمایاں افراط زر کے خطرہ میں اضافہ دکھائی نہیں دیتا۔

چیئرمین کا مصالحت آمیز لہجہ نے ڈالر میں تخفیف قیمت ترغیب دے رہا تھا،جیسا کہ سرمایہ کاروں نے اطمینان کا اظہار کیا کہ حالیہ مضبوط اقتصادی اعداد وشمار جے پاؤل کو ان کے سست روی کے نکتہ نظر سے باز نہیں رکھیں گے۔دیگر کرنسیوں کیخلاف کرنسی ناپنے کا پیمانہ ڈالر انڈیکس ریپارکس پر 0.5 فیصد گرگیا اور تین ماہ کے 2.81 فیصد کمی سے 10 سالہ خزانہ کی پیداوار 2 بنیادی پوائنٹس تک ڈوب گئی۔

تاہم ایس اینڈ پی500 دن کے اختتام تک ریکارڈ کلوزنگ بلندی میں 0.6 فیصد بڑھا، جیسا کہ ٹیکنالوجی پر فوکس ناسڈیک انڈیکس اور رسل 2000 بنچ مارک نے کیا جو چھوٹی اور ملکی کمپنیوں سے بنے ہوئے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے امریکی بڑے تجارتی شرکات داروں کے ساتھ تنازعات میں اضافہ اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں سرکشی جے پاؤل کے منصوبوں کو پیچیدہ بنارہے ہیں۔ شرح سود کے اضافے کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کے وفاقی ذخائر پر حملے نے مارکیٹ کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔

جے پاؤل نے کنساس سٹی فیڈرل کے سالانہ سمپوزیم سے بطور چیئرمین اپنا پہلا خطاب کیا،وہ مسٹر ٹرمپ کے یہ کہنے کہ وہ فیڈرل کی مالیاتی سختی سے خوفزدہ نہیں ہوئے کے ایک صرف ہفتے بعد آئے۔

فیڈرل کے سربراہ نے امریکا کے لئے کھل کر مثبت توقعات کو پیش کیا، کہا کہ ٹھوس ملکی اور کاروباری اعتماد کے ساتھ ملازمتیں پیدا کرنے کی صحت مند سطح، آمدنی میں اضافہ اور مالیاتی محرک آرہے ہیں، امید کیلئے اچھی وجوہات ہیں کہ یہ اچھی کارکردگی جارہی رہے گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وفاقی ذخائرکا کام طویل عرصے سے بیروزگاری کی شرح یا سود کی غیر جانبدار شرح جیسے متغیرات کی نشاندہی نے مشکلات کو پیچیدہ بنادیا۔

فیڈرل پالیسی کی رہنمائی کے لئے جے پاؤل جس کیلئے آسمانی ستاروں کی اصطلاح دی، کا استعمال کرتا ہے، یعنی بے روزگاری، ممکنہ پیداوار کی ترقی اور غیر معین شرح سود کی قدرتی شرح کا تخمینہ ہے۔ان ستاروإ کا استعمال کرتے ہوئے معیشت کی رہنمائی زیادہ مشکل ہوگئی ہے کیونکہ ان ستاروں کی سطح نمایاں طور پر تبدیل ہوئی ہے۔

مثال کے طور پر بے روزگاری کی غیر معین شرح کا تخمینہ تیزی سے نیچے آیا جیسا کہ بے روزگاری کم افراط زر کے ساتھ نیچے گر گئی، جبکہ ممکنہ ترقی کی شرح کا تخمینہ بھی نیچے آگیا۔

جے پاؤل نے کہا کہ ایف او ایم سی صرف غیرواضح منظر جو راستہ کی رہنمائی کی تبدیلی نظر آتا ہے کے ساتھ نمایاں افراط زر کی کم گہرائی اور قبل از وقت سختی کے درمیان راستہ بنارہا ہے ۔

اپنے خطاب میں انہوں نے دیگر تاریخی ضمنی واقعات پر نظر ڈالی جب کلیدی متغیرات کا تخمینہ لگانا مشکل تھا، خاص طور پر 1960 اور 1970 جب مالیاتی پالیسی کی غلطی نے افراط زر کے خاتمے میں حصہ لیا،اور 1990 جب سابق فیڈرل چیئرمین الان گرین سپان نے سمجھا کہ اعلیٰ پیداواری، افراط زر کے خطرات میں کمی کی وجہ سے معیشت کی حد رفتار بڑھ رہی تھی ۔

وفاقی ذخائر جس غیر یقینی صورتحال سے نمٹ رہا تھا بتاتے ہوئے جے پاؤل نے شرح پالیسی اور خطرے کی نگرانی کے نکتہ نظر پر احتیاط کے حق میں دلیل دی، شرح کو بلند کرنے سے پہلے بلند افراط زر کے واضح شواہد کے لئے انتظار کی مسٹر گرین پاس کی 1990 کی سوچ کو سراہا۔

انہوں نے ولیم برینڈرڈ کے کام کا حوالہ دیا جنہوں نے سفارش کی کہ جب آپ اپنی کارروائی کے مؤثر ہونے کے حوالے سے متذبذب ہوں، آپ کو محتاط انداز میں حرکت کرنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہ الفاظ دیگر جب دوا کی طاقت کے بارے میں بے یقینی پائی جاتی ہو تو کسی حد تک چھوٹی خوراک کے ساتھ شروع کریں۔

رسک مینجمنٹ کا نکتہ نظر سے پتہ چلتا ہے کہ وفاقی ذخائر کے سربراہ زیادہ سختی سے خبردار ہوجائے گا جیسا کہ پالیسی غیر معین سطح کے قریب ہوجاتی ہے، اشارے کی وسیع حد کو دیکھنے کی بجائے ترجیح دیتے ہیں جیسا کہ انہوں نے افراط زر کے اضافہ کیلئے جائزہ لیا۔انہوں نے تجویز دی کہ ان اشاروں میں مالیاتی مارکیٹوں کی بہتات شامل ہیں ، جو سب سے تازہ ترین کساد بازاری کی جڑ رہا ہے۔

اس محتاط نکتہ نظر سے توقعات ہوں گی اگر بڑا بحران قریب آیا یا اگر افراط زر کی توقعات مادی طور پر اوپر یا نیچے بہاؤ ہو۔ اس معاملے میں، جے پاؤل نے کہا کہ وہ پراعتماد تھے کہ ایف او ایم سی جو کچھ بھی اقدام لیتا ہے وہ اس پر ثابت قدم رہے گا، یورو کے دفاع کے لئے 2012 میں یورپی سینٹرل بینک کے صدر ماریو ڈریگی کے عزم کو دہرایا۔

جے پاؤل نے مزید کہا کہ اگر آمدنی اور ملازمتوں میں مضبوط ترقہ جاری رہی، وفاقی فنڈز کی شرح کے لئے ہدف کی حد میں مزید تدریجی اضافہ شاید مناسب ہوجائے گا۔    

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں