آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈپٹی نذیر احمد، بڑے بذلہ سنج اور حاضر جواب تھے۔ ایک مرتبہ علماء میں یہ بحث چلی کہ اجمیر شریف، تونسہ شریف اور بغداد شریف کہنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض علماء اس کے حق میں تھے، بعض مخالف۔ ایک شخص نے مولانا کی رائے بھی دریافت کی۔ انہوں نے جواب دیا: ’’اگر مزاج شریف کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں تو اجمیر شریف بھی کہنا درست ہے‘‘

……O……

ڈپٹی نذیر احمد، حیدرآباد میں ڈپٹی کلکٹر تھے، ان کا تبادلہ کسی دوسرے شہر ہوگیا۔ وہاں کے ایک رئیس، ان سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔ دورانِ ملاقات انہوں نے جیب سے اپنا شجرۂ نسب نکالا اور پڑھ کر بتانے لگے: ’’فلاں رشتے میں ہمارے دادا لگتے ہیں، فلاں ماموں لگتے ہیں‘‘۔

نذیر صاحب، ان کی گفتگو سن کر طیش میں آگئے اور کہنے لگے: ’’معاف کیجئے گا، اس وقت میرا شجرۂ نسب ہمراہ نہیں، ورنہ میں آپ کو بتاتا کہ ہمارا شجرۂ نسب بھی باوا آدم سے ملتا ہے‘‘۔

……O……

دہلی میں منعقدہ ایجوکیشنل کانفرنس میں نذیر احمد تقریر کررہے تھے، اتنے میں لارڈ کچز تشریف لےآئے، ڈپٹی صاحب چند منٹ تقریر کرکے بیٹھ گئے، تھوڑی دیر کے بعد جب لارڈ صاحب رخصت ہوئے تو پھر تقریر کرنے کھڑے ہوئے اور اس آیت کے ساتھ تقریر شروع کی:

ترجمہ:’’حق آیا… اور باطل چلا گیا۔ بے شک باطل کو چلا جانا ہے‘‘۔

لارڈ کچز عربی جانتے تھے، سمجھ گئے کہ بڈھے نے کیا خوب چوٹ کی ہے۔

……O……

مولانا عبدالحلیم شرر کا ناول ’’بدر النساء کی وصیت‘‘ شائع ہوا، تو خواجہ حسن نظامی نے ڈپٹی نذیر احمد سے پوچھا ’’حضرت! پردے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘

ڈپٹی صاحب نے فرمایا: ’’ کس کے پردے کے متعلق جواب دوں، زمانہ وہ آگیا ہے کہ اب تو لڑکوں کو بھی پردہ کرنا چاہیے‘‘۔

……O……

ڈپٹی نذیر احمد کے پاس عربی کی ایک کتاب تھی، دلّی کے ایک مولوی صاحب اس کتاب کو دیکھنے کے شائق تھے، تعلقات کچھ اس قسم کے تھے کہ ڈپٹی صاحب نہ انکار کرسکتےتھے، نہ دینا چاہتے تھے، مولوی صاحب کے اصرار پر آخر انہیں ایک دن کتاب دینی پڑی۔ کتاب مولوی صاحب کی طرف بڑھاتے ہوئے ڈپٹی صاحب نے فرمایا ’’کتاب تو بڑی اچھی ہے، لیکن اس کی جلد سوّر کے چمڑے کی ہے‘‘۔ مولوی صاحب نے یہ الفاظ سنے تو لاحول پڑھتے ہوئے فوراً پیچھے ہٹ گئے اور کتاب لینے سے انکار کردیا۔

……O……

شمس العلماء، مولانا ذکاء اللہ، وقت کے بڑے پابند تھے، ان کا معمول تھا کہ روزانہ دن کے ٹھیک نو بجے اپنے گھر سے نکل کر کہیں جایا کرتے تھے، مولوی صاحب،دہلی کے کوچۂ ٔچیلاں میں رہتے تھے، ایک دن جو باہر نکلے تو سرسید کے بیٹے سید محمود گھڑی لئے اپنے مکان کے آگے ان کے انتظار میں ٹہلتے نظر آئے، مولانا نے پوچھا: ’’میاں! یہاں کیوں ٹہل رہے ہو؟‘‘

سید محمود نے جواب دیا: ’’جی! میں اپنی گھڑی کو چابی دینا بھول گیا تھا، اس لئے وہ بند ہوگئی، میں آپ کے انتظار میں ٹہل رہا تھا، تاکہ اپنی گھڑی درست کرلوں‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں