آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
 
ویزا ایمنسٹی اسکیم
ایمنسٹی اسکیم کائونٹرپر قونصل جنرل سید جاوید حسن پاکستانیوں سے ان کے مسائل اور مشکلات کے بارے میں پوچھ رہے ہیں

یو اے ای حکومت نے امارات میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کے لئے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے۔ اب وہ کسی جرمانے اور سزا کے بغیر اپنے وطن جا سکتے ہیں۔ یہ ویز۱ ایمنسٹی اسکیم 3ماہ کے لئے ہے۔ 2018یو اے ای میں ائیر آف شیخ زائد کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ شیخ زاید بن النہیان سلطان النہیان مرحوم جدید امارات کے بانی ہیں۔ یہ ایمنسٹی اسکیم یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زائد النہیان اور دبئی حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم و دیگر ریاستوں کے حکمرانوں کی جانب سے انسانی دوستی اور حقوق پاسداری کی اعلیٰ مثال ہے۔ اس اسکیم کا اعلان ہوتے ہی ہزاروں لوگ سہولت مراکز پہنچ گئے۔ حکومت نے سہولت کے لئے یو اے ای کی تمام ریاستوں میں 9مراکز قائم کئے جس پر صبح سے ہی رش ہو جاتا ہے،لیکن انتظامات شاندار اور طریقہ کار اتنا آسان ہے کہ کاغذات پورے ہونے کی صورت میں مختصر عرصہ میں مطلوبہ سہولت فوراً مل جاتی ہے۔ ائیر لائنوں کے دفاتر میں بھی رش ہو گیا ہے۔ رش کا فائدہ اٹھا کر ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں سفارت خانہ پاکستان ابوظہبی اور پاکستان قونصلیٹ میں خصوصی کائونٹر قائم کیے گئے ہیں،جس سے یہاں مقیم غیر قانونی بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔ پاکستانی مشن بھی ہر قسم کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ابوظہبی میں سفیر پاکستان معظم احمد خان اور دبئی میں قونصل جنرل سید جاوید حسن، عاصمہ علی اعوان اور مسز صولت پورے عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں جب قونصلیٹ آف پاکستان کا دورہ کیاگیا تو وہاں لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ قونصلیٹ کا عملہ مستعدی سے کام کر رہا تھا۔ وہاں کچھ لوگوں سے پوچھا کہ آپ کس کام کے لئے قطار میں لگے ہوئے ہیں تو زیادہ تر افراد کے پاس پاسپورٹ نہیں تھے۔ ان سے شناختی کارڈ یا کاپی لے کر تصدیقی سرٹیفکیٹ جاری کئے جا رہے تھے کہ یہ پاکستانی شہری ہیں۔ انہیں آئوٹ پاس جاری کر دیا جائے۔ پاکستانی مشن کا آئوٹ پاس کے عوض غیر قانونی تارک وطن کو ائیر لائن کا ٹکٹ دکھا کر یو اے ای سے جانے کی اجازت مل جاتی ہے۔ قطار میں لگے ایک پاکستانی محمد اسلم سے جب میں نے پوچھا، کہ وہ کس سلسلہ میں قطار میں کھڑے ہیں تو انہوںنے بتایا کہ ’’میں6سالوں سے یو اے ای میں غیر قانونی طور پررہ رہا ہوں۔ میرا پاسپورٹ میرے اسپانسر کے پاس ہے۔ وہاں سے بھاگ کر مختلف جگہوں پر کام کرتا رہا۔ اب میں واپس پاکستان جانا چاہتا ہوں ،یو اے ای صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے جو اسکیم کا اعلان کیا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جرمانے اور سزا سے بچ کر باعزت وطن جا رہا ہوں ۔ میرے پاس پاسپورٹ نہیں تھا، اب سفارت خانے نے مجھے عارضی پاسپورٹ جاری کرنے کا کہا ہے۔ وہ میں امارات کے حکام کو دکھا کر واپس چلا جائوں گا‘‘۔

اس اسکیم کے تحت جرائم میں ملوث لوگ اس سے فائدہ اٹھانے کے اہل نہیں ہوں گے۔ جن کے خلاف سنگین الزامات اور مقدمات ہیں۔ان کو عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا ان کا نام بلیک لسٹ سے نہیں نکالا جائے گا۔ غیر قانونی طور پر مقیم رحیم اللہ جان نے بتایا کہ ’’میں 11سال قبل مستقبل کے سہانے خواب لے کر لانچ کے ذریعے غیر قانونی طور پر امارات میں داخل ہوا۔ ایجنٹ نے مجھے ایران کے ذریعے لا کر امارات کے ساحل پر رات کے اندھیرے میں چھوڑ دیا، میں غیر قانونی طور پر محنت مزدوری کرتا رہا، لیکن گزشتہ گیارہ سال میں نے جس کرب اور مشکل میں گزارے ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں۔یہاں رہتے ہوئے پاکستان میں اپنے والد اور ہمشیرہ کی وفات پر نہیں جا سکا۔ جس کا ہمیشہ مجھے غم رہے گا۔ میں اسی امید پر سختی برداشت کرتا رہا کہ میرے گھر خوشحالی آئے گی، لیکن خوشحالی تو نہ آئی،میں کسی عزیز ،رشتہ داری اور گھر والوں کی خوشیوں اور غم میں شریک نہ ہو سکا۔ میں ہر کسی سے درخواست کرتا ہوں کہ کبھی بھی غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک نہ آئیں ، میرےپاس صرف شناختی کارڈ کی کاپی ہے جس کے ذریعے قونصلیٹ نے مجھے آئوٹ پاس جاری کر دیا ہے‘‘۔ دبئی قونصلیٹ میں میری ملاقات نوجوان سمیر شہزاد سے ہوئی اس سے میں نے پوچھا، کہ آپ بھی غیر قانونی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ’’مجھے کسی جاننے والے نے وزٹ ویزےپر بھاری رقم لے کر بھیج دیا۔ امارات میں آیا تو قانونی تھا۔ ویزے کی مدت ختم ہونے پر میں واپس نہیں گیا تو اب یہاں غیر قانونی ہو گیا ہوں، میں نے بہت کوشش کی کہ مجھے نوکری مل جائے ،لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس طرح اب مجھے امارات میں غیر قانونی رہتے ہوئے ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے۔‘‘۔

ویزا ایمنسٹی اسکیم کے متعلق جب ہم نے سفارت خانہ پاکستان ابوظہبی سے رابطہ کیا ۔ توسیکرٹری عزیز احمد نے بتایا کہ سفیر پاکستان معظم احمد خان پورے عمل کی خود نگرانی کررہےہیں۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر ان کو بتاتے ہیںکہ آج کتنے پاکستانیوں نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اسکیم کی تاریخ کا جب اعلان ہوا تو اس سے پہلے ہی ہزاروں پاکستانیوں نے ہم سے رابطہ کیا۔ روزانہ تقریباً 200 غیر قانونی مقیم رابطہ کررہے ہیں۔ سفارت خانہ کا عملہ امیگریشن سنٹر کا بھی دورہ کرتاہے، کسی بھی پاکستانی کو جو بھی مسئلہ ہواس میں قانونی مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔ہمارے پاس 12ہزار پاکستانیوں کا ڈیٹا موجود ہے جوکہ اپنے اسپانسرز سے بھاگ گئے ہیں۔ انہوں نے پاسپورٹ سفارت خانہ کے حوالہ کردیئے ہیں۔ پہلے ہم ان بارہ ہزار پاسپورٹوں کو چیک کرتے ہیں اگر کسی کا ان میں سے پاسپورٹ مل جاتا ہے ۔ تو زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اگر کسی کےپاس پورٹ اور شناختی کارڈ کاپی دیکھ کر تصدیق کردیتے ہیں کہ یہ شخص واقعی ہی پاکستانی ہے۔ تصدیق کےبعد نیا عارضی پاسپورٹ جاری کردیا جاتا ہے۔ جس پر وہ غیرقانونی شخص سفر کرسکتا ہے اور باعزت پاکستان چلا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں دبئی قونصلیٹ اور پاکستان میں عملہ صبح سے رات گئے تک آئوٹ پاسپورٹ اور کاغذات بنارہاہے۔ ہم نے 24گھنٹے ٹیلی فون سروس ہیلپ لائن بھی قائم کر رکھی ہے۔ کسی بھی مشکل وقت میں ہم سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ امارات حکام سے بھی ہم رابطہ میں ہیں۔ جو پاکستانی امارات میں غیرقانونی مقیم ہیں۔ وہ 31اکتوبر 2018ء تک یو اے ای کو چھوڑ دیں۔ امارات حکام نے غیرقانونی تارکین وطن کے لئے جو سہولت دی ہے،اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ یواے ای حکومت نے مختلف ریاستوں میں 9سینٹر قائم کئے ہیں، جہاں آنے جانے کے لئے فری ٹرانسپورٹ فراہم کردی گئی۔خواتین اور مردوں کے لئے علیحدہ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ ان سینٹر پر تقریباً روزانہ 3000 افراد آکر کاغذات بنوارہے ۔ قوانین کے بارے میں مختلف زبانوں میں سوشل میڈیا ، اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر آگاہ کیا جارہا ہے۔ جن کے خلاف جرائم سنگین ہیں۔ انہیں اپنی سزا کے بعد ہی ملک سے جانے کی اجازت ملے گی۔ اس اسکیم کے تحت 6ماہ کا عارضی ویزا بھی دیا جارہا ہے۔ غیرقانونی تارکین وطن کو 6ماہ ویزا پر ملازمت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس ویزا کی 6ماہ کے بعد تجدید بھی نہیں ہوگی۔ یہ عارضی ویزا وفاقی اتھارٹی شہریت وشناخت جاری کررہی ہے۔ اگر اس ویزا مدت کے دوران غیرقانونی شخص نئی جاب حاصل کرتا ہے تو اس کو ورک ویزا جاری کردیا جائے گا۔ اگر یہ 6ماہ کے اندر ملازمت نہیں حاصل کرتا تواسے امارات سے جانا ہو گا۔ اور پھر وہ دوبارہ وزٹ ویزا پر آسکتا ہے۔ یہ حکومت یو اے ای کی جانب سےا چھی سہولت ہے۔ اس سے ہر پاکستانی جو غیرقانونی مقیم ہے، فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ یہ ایمنسٹی اسکیم متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ زایدبن سلطان النہیان کی طرف سے انسان دوستی اور حقوق کی پاسداری کی اعلیٰ مثال ہے۔ اس اسکیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیرقانونی افراد 31 اکتوبر سے قبل واپس چلے جائیں۔ یا اسپانسر سے نیا ویزا ملازمت لے لیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں