آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات5؍ ربیع الثانی 1440ھ 13؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیسے جیسے دنیا ترقی کی منازل طے کررہی ہے اور دیگر سائنسی علوم میں پیش رفت ہو رہی ہے وہاں تشخیص کے دوران جدید علوم بھی ارتقاء پزیر ہو رہے ہیں ۔ مادی سائنس بھی انہیں سائنسی علوم میں سے ابھرتا ہواشعبہ ہے ، جس میں انتہائی حیرت انگیزدریافتیں اور تیز ترین پیش رفت شامل ہے ۔ اسمارٹ میٹریل کی دنیا ناقابل یقین ہے۔مثال کے طور پر آپ کی کار کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے ،اس پر خراش آجاتی ہے اور کار کا رنگ خراب ہو جاتا ہے لیکن کار Memory Alloy سے بنی ہوئی ہے اور یہ مادّہ اپنی گذشتہ حالت میں واپس آجائے گا ۔کار کو خود ٹھیک ہونے والے مواد سے رنگ کیا گیا ہے ،اس پرجب بھی کوئی خراش آئے گی یہ خود بخود بھر جائے گا۔ یہ کوئی سائنس فکشن یا سائنسی افسانہ نہیں اس طرح کے مواد اب حقیقت میں موجود ہیں۔

نینو ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اورتالیفی( Synthetic) کیمسٹری کے شعبہ میں ہونے والی تیز رفتار پیش رفت، انتہائی ذہین مواد کی ایک نئی دنیا کا راستہ کھول رہی ہے۔ نئے اسمارٹ مواد کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اس وقت تک خود بہ خود مرمت پذیر ہوسکتے ہیں جب تک انہیں گذشتہ شکل یاد رہے گی ۔یہ برقی کرنٹ یا مقناطیسی فیلڈ کے رد عمل میں اپنی شکل تبدیل کرتے ہیں اور یہ طاقت ور بلٹ پروف زندہ exo-skeleton کے طور پر کام کرتے ہیں جو ایک Robo-Cop فوجی جنگ کے دوران پہنتے ہیں ۔یہ سوٹ جب فوجی پہنتے ہیں تو یہ فوجی کے اعصابی نظام سے منسلک ہو جاتے ہیں اوراپنے کمانڈرکے احکامات کی فوری تعمیل کرتے ہیں۔ یہ پروگرام امریکا کے محکمہ دفاع کے ماتحت کام کرنے والی Defense Advance Research Project Agency (DARPA) کی نگرانی میں شروع کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق امریکی فوج کا تحقیقی ادارہ (ARO) آفس آف نیول ریسرچ (ONR) ناسا، رائٹ پیٹرسن ایئر فورس بیس کے Langley Research Center and Space operation vehicle technology officeمیں بھی کیا گیا ہے۔

جہازوں میں بھی اس نئی دھات کااستعمال کیا جارہا ہے جو دباؤ کی صورت میں ملنے والے برقی سگنل کے رد عمل میں اپنی شکل تبدیل کرلے گی اور جیسے ہی یہ دباؤ ختم ہوگا اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی۔ اسمارٹ میموری الائے انتہائی موثر اندا ز میں آواز کو چھپا دیتے ہیں اور یہ خاموش اسٹیلتھ ہیلی کاپٹر اور زمینی گاڑیوں کے لیے انتہائی کار آمد ہیں۔ یہ جاندار مواد حیاتیاتی نظام کی نقل کرتے ہیں ،تاہم ان کی ساخت میں زندہ خلیات کے بجائے نینو مشین نصب ہوتی ہیں۔Compact Hybrid Actuation Program (CHAP) کے تحت کاربن نینو ٹیوب جو کہ وزن میںاسٹیل سے 600گنا زیادہ طاقت ور ہوتی ہیں اورایک مرکب مادّے کی بنی ہوئی انتہائی پتلی Ultra thin فلم کا استعمال ہوائی جہازوں کی بیرونی سطح پر کیا جاتا ہے۔ یہ جہاز کو بے پناہ قوت دیتی ہے، جہاز کے وزن میں کمی کرتی ہے اور کسی نقصان کی صورت میں خود بخود درست ہو جاتی ہے۔ بعض سطحیں ہائیڈروجن کا ذخیرہ کرلیتی ہیں جو کہ Cosmic radiation کے مہلک ضرر رساں اثرات سے ڈھال کا کام کرتی ہیں۔ جن اشیاء کو نئے میٹا مٹیریل metamaterial سے روغن کیا جاتا ہے وہ نظر آسکتی ہیں۔

نظر نہ آنے والی اشیاء کی سائنس

سائنس دانوں نے بعض خصوصی ’’میٹا مٹیریل‘‘ تیار کیے ہیں جو کسی بھی شے کو ’’غائب‘‘ کر سکتے ہیں اور یہ موجوں کی صورت میں سفر کرتے ہیں۔ روشنی اور آواز دونوں موجوں کی شکل میں ہوتی ہیں اور Sub Atomic سطح پر مادہ بھی موجوں کی شکل میں پایا جاتا ہے۔ ان میٹا مٹیریل کی ایک حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ اپنی ساخت اورجسامت کی وجہ سے اپنی طرف آنے والی موجوں کو موڑ کر دور پھینک دیتے ہیں جب ان میٹا میٹریل کے چھوٹے مرتکز لچھے (Rings) کسی شے کے گرد رکھے جاتے ہیں تویہ مواد روشنی کی موجوں کو جذب اور منعکس کیے بغیر جھکا دیتا ہے ۔اس طرح روشنی کی لہریں اس شے کے گرد اس طرح گھومتی ہیں، جس طرح پہاڑ کے گرد پانی آبشار کی شکل میں گھومتا ہے اور اس طرح وہ شے مکمل طور پر ناقابل بصارت ہو جاتی ہے۔اس قسم کا پہلا قبائی مواد (Cloaking Material) امپریل کالج لندن کے جان پینڈری اور ڈیوک یونیورسٹی کے David Smith نے تیار کیا تھا جنہوں نے صرف مائیکرو ویوز پر کام کیا تھا، مگر برکلے میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے Xiang Zhang اور ان کے ساتھی نظر آنے والی روشنی کی لہروں کو واپس موڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس تجربے میں آبدوزوں کو سونار لہروں کا غلاف پہنانے کا ڈیزائن تیار کیا گیا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ایٹمی لہریں بھی مڑ سکتی ہیں، کیوں کہ Subatomic اجزاء موجوں کی شکل میں سفر کرتے ہیں۔ ان محققین کی تحقیقی اشاعتیں واضح طور دفاع کے میدان میں ہیں۔ بلاشبہ امریکا میں ہونے والی 50فی صد تحقیق کو دفاعی ایجنسیاں امداد فراہم کر رہی ہیں۔یہ اہم ترین وقت ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنے بڑے فنڈز جامعات، اہم مطالعاتی مراکز اور تحقیقی اداروں کی طرف منتقل کریں، تا کہ نینو ٹیکنالوجی، صنعتی مائیکرو الیکٹرانکس، روبوٹکس، بائیو ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنس کے میدان میں اہم کردار ادا کر سکے۔

…شفاف المونیم… ٹھوس مادّے کے پار دیکھنا

آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ طبیعات کے پروفیسر Jastin Wark اور ان کے ساتھیوں نے ایک دل چسپ چیز دریافت کی ہے۔ ان کے مطابق جب طاقت ور نرم ایکس رے لیز رکی المونیم پر بمباری کی جاتی ہے تو ہر ایٹم کا Core الیکٹران اپنی جگہ چھوڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور المونیم مکمل طور پر شفاف ہو جاتی ہے۔ یہ دریافت انتہائی طاقت ور لیزر کے درونی دھماکے کے ذریعے بونے سیاروں Miniature Stars کی تخلیق کے بارے میں روشنی ڈالے گی اور نیو کلیر فیوژن کی طاقت کو لگام دینے کےحوالےسے ہمارے فہم میں اضافہ کرے گی۔اس سے ہی منسلک ایک اور اہم کام میں امپریل کالج آف لندن اور یونیورسٹی آف Neuchatel (سوئزرلینڈ) کے سائنس دان مصروف عمل ہیں ۔ان کے مطابق لیزر کو ٹھوس اجزاء کے آر پارگذارا جا سکتا ہے۔ ماہرین نے بعض نینو فلمیں بھی تیار کی ہیں اور جب لیزران نینو فلموں سے گزاری جاتی ہے تو نینو فلمیں شفاف ہو جاتی ہیں۔اس ایجاد کی بدولت ہم ٹھوس اشیاء کے پار بھی بآسانی دیکھ سکیں گے۔مثلاًکسی تباہ شدہ عمارت کے ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کو دیکھنا آسان ہو جائے گا اسی طرح طب کے میدان میں ایکس رے پر انحصار بھی ختم ہو جائے گا۔

اشیاء کو غائب کرنا

جادوگر صدیوں سے چیزوں کو غائب کرنے کے فن کامظاہرہ کر رہے ہیں۔ اب سائنس حقیقت میں اشیاء کو نظروں سے اوجھل کرنے کے قابل ہو گئی ہے۔2006 ء میں پروفیسر جان پینڈری اور ان کے ساتھیوں نے ایک عبا یا غلاف کی تجویز پیش کی تھی، جو کسی شے کے گرد روشنی کو خاص سمت میں سفرکرواسکتا ہے اور اس طرح یہ شے نظروں سے غائب ہو سکتی ہے۔ بعدازاں ہی ڈیوک یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈیوڈ اسمتھ بعض غیر معمولی میٹا مٹیرل Metamaterials کو استعمال کرتے ہوئے ایسا غلافی آلہ تیار کیا،جس میں غیرمعمولی برقی مقناطیسی صلاحیت تھیں۔ یہ پہلا غلاف صرف دو رخی Two Dimensional اشیاء کو غائب کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور وہ بھی اس وقت جب اس شے کو ایک خاص فریکوئنسی سے دیکھا جائے۔ تمام فریکوینسیز پر یہ اشیاء غائب نہیں ہوتی تھیں۔ یہ کام چار سال قبل کیا گیا تھا اب یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے اور فورنل یونیورسٹی اتھا کا، نیویارک کے ماہرین طبیعیات نے بصری غلاف چڑھانے والا آلہ تیار کر لیا ہے۔

یہ قالینی غلاف جب کسی شے کے اوپر رکھے جاتے ہیں تو وہ شے ایک رخ سے دیکھنے پر نظروں سے غائب ہو جاتی ہے اور یہ قالین بالکل چپٹا ہو جاتا ہے۔ صرف ایک زاویہ سے شے کو غائب کرنے کے مسئلے کو Karlsruhe Institute of Technology Tolga Ergin نے حل کرنے کوشش کی ہے۔ انہوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔ اس طریقے سے شے کئی زاویوں سے نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ اس دریافت کے بعد 3D ا وجھل پن کی منزل قریب محسوس ہو رہی ہے۔یہ ٹیکنالوجی دفاع کے شعبہ میں استعمال کی جا سکتی ہے، تا کہ فوجیوں، ہتھیاروں، جنگی جہازوں اور توپوں کو دشمن کی نظروں سے اوجھل رکھا جا سکے۔

اب نظروں سے اوجھل رہنے والے دھاگے تیار اور تالیف کیے جارہے ہیں جو کہ روشنی کی طول موج سے بھی چھوٹے ہیں۔ یہ روشنی کی موجوں کو موڑتے ہیں اور ایسی بصری خصوصیات دیتے ہیں جو عام موادمیں نہیں ہوتی۔ کمپیوٹر کے ماڈل کے مطابق ان دھاگوں کوایک مائیکرو میٹرسے موٹا نہیں ہونا چاہیے اس حوالے سے سڈنی آسٹریلیا کے انسٹی ٹیوٹ آف فوٹونکس اینڈ آپٹکل سائنسز کے سائنس دان Alessandro Tuniz کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مستقبل میں نظر نہ آنے والے فوجی جہاز، ہوائی جہاز، اور آبدوزیں ہوں گی جن پر میٹا مٹیریل کا غلاف چڑھا ہو گا۔ ذہین مادّے Intelligent material اور خود صحیح ہونے والے رنگ و روغن گزشتہ کچھ سالوں کے دوران ذہین مادّوں کی تیاری میں غیر معمولی پیش رفت نظر آئی ہے۔ جب برقی کرنٹ، مقناطیسی میدان یا حرارت کا استعمال کیا جاتا ہے تو یہ مادّے اپنی شکل تبدیل کر لیتے ہیں۔

اس حوالے سے نئی بھرت (alloy) تیار کی جارہی ہے۔ جو کہ اپنی سابقہ شکل کو یاد رکھے گی اور کسی چوٹ یا ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں خود اپنی گذشتہ شکل میں واپس آجائے گی ۔ امریکی حکومت ایک نئے قسم کے ہوائی جہاز کے لیے مالی امداد فراہم کر رہی ہے جس پر اسمارٹ ونگز (Smart wings) لگے ہوں گے اور ان کے اندر کسی کیڑے کی طرح اپنے پر،پرگھمانے کی صلاحیت ہو گی اور وہ Bombers سے خود کو تیز رفتار اور سبک رفتار لڑاکاطیارے میں تبدیل کر لیں گے۔ نکل سے پاک ٹیٹینئم بھرت (Ni Ti nol) اپنی شکل کو یاد رکھ سکتی ہے اور اس کو مقناطیسی فیلڈ کے ذریعے ضرورت کے مطابق بھی شکل اختیار کروائی جا سکتی ہے۔ لوہے اور پلاڈئم کی بھرت میں بھی شکل تبدیل کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت موجودہوتی ہے اس کی یہ خصوصیت اس میں اندرونی طور پر موجود نینو مشین کی وجہ سے ہے۔ کاربن نینو ٹیوب کے اندر اسٹیل کے مقابلے میں 600گنازیادہ طاقت پائی گئی ہے۔ مستقبل میں خلائی جہاز اور ہوائی جہاز ان مواد سے تیار کیے جائیں گے۔مستقبل میں ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ ایک گاڑی چلا رہے ہوں اور گاڑی میں خراش آنے کی صورت میں وہ خراش خود بخود ٹھیک ہو جائے، کیوں کہ گاڑی کا رنگ اسی یادداشت والی بھرت سے بنا یا گیاہو گا اور گاڑی کو خود درست ہونے والے پینٹ سے رنگ کیا گیا ہو گا۔

لوہے سے زیادہ مضبوط کاغذ

شاید آپ نے کبھی یہ سوچا ہو کہ کاغذ بھی لوہے سے مضبوط ہو سکتا ہےلیکن ایسا اب حقیقت میں ممکن ہے ۔رائل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اسٹاک ہوم میں کام کرنے والے محققین نے ایک نینو کاغذ تیار کیا ہے جو اس قدر مضبوط ہے کہ اس سے گولی بھی نہیں گزر سکتی۔ یہ کاغذ مضبوطی سے بنے ہوئے نینو جسامت والے(موٹائی میں ایک ملی میٹر حصہ) سیلی لوز فائبر سے بنے ہیں۔اصل میں سیلی لوز کپاس اور لکڑی کا مرکزی جُز ہوتے ہیں۔ یہ بلٹ پروف کاغذ، خامروں (انزائم) کی مدد سے فائبر کو ہضم کرتے ہیں اور پھر ان فائبر کو بلنڈر میں پیس کر خاص نینو کاغذ کی شیٹ تیار کی جاتی ہے ،جس میں سیلولوز فائبر ایک طاقتورجال میں اچھی طرح گندھے ہوئے ہیں۔ یہ مواد کیلوار kelvar سے بھی زیادہ مضبوط ہے جو کہ ریسنگ والے ٹائروں میں اسٹیل کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں