• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احتساب ،فوج کا کوئی تعلق نہیں،انتخابات شفاف تھے،مگر فوج پر دھاندلی کا الزام لگا دیا گیا،ن لیگ نے ہماری ہر ضرورت پوری کی،مضبوط جمہوریت چاہتے ہیں،فوجی ترجمان

لندن (خبرایجنسیاں، مرتضیٰ علی شاہ)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ کرپشن کے خلاف مہم میں فوج کا کوئی کردار نہیں،انتخابات شفاف تھے مگر فوج پر دھاندلی کا الزام لگایاگیا، ن لیگ نے ہماری ہر ضرورت پوری کی، مضبوط جمہوریت چاہتے ہیں،کسی کو نہیں کہا کہ کس کو ووٹ دو کس کو نہ دو، ووٹ کی طاقت کے ذریعے پہلے مسلم لیگ ن نے حکومت کی، پھر تحریک انصاف نے اور مستقبل میں کوئی اور کریگا، فوج کا احتسابی نظام ملک میں لاگو کردیا جائے تو تمام مسئلے حل ہو جائینگے،سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن لیکن اخلاقیات کے دائرے میں ہونے چاہئیں، سرحد پر باڑ لگانے سے افغانستان، پاکستان میں امن آئیگا ،بھارت نے ایک سرجیکل اسٹرائیک کی توہم 10کرینگے،فوج کا احتساب سب سے قوی اور سخت ہے، فوج کا مشرف کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ،جنرل (ر) راحیل شریف حکومت کے منظور شدہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں ہیں، فوج یقین رکھتی ہے کہ جمہوریت آگے بڑھنے کا راستہ ہے، آرمی چیف بیرون ملک جب بھی کسی سے بات کرتے ہیںپاکستان کی بات کرتے ہیں فوج کی نہیں،پاک فوج سی پیک کی محافظ ہے،پاکستان میں امن و استحکام کیلئے 76ہزار جانیں دی گئیں، پہلے دو سے تین دھماکے معمول ہوتے تھے ،کراچی میں جرائم میں کمی آئی ہے، انٹرنیشنل میڈیا میں پاکستان سے متعلق مثبت خبروں کو اجاگر نہیں کیا جاتا،مغربی میڈیا میں ہمیشہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی الزامات لگائے جاتے رہے، سرحد پر باڑ 2 ملکوں کے درمیان تقسیم نہیں، ہم اپنی سرحد کھلی نہیں چھوڑ سکتے ۔ہفتےکو لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ عام انتخابات میں فوج نے ممکن بنایا کہ ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دے، پاکستان کے متعدد حصوں سے ریکارڈ ووٹرز ٹرن آؤٹ رہا ۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ تبدیلی کے سال سے متعلق میری ٹوئٹ کو غلط معنوں میں لیا گیا، بیورو کریسی اور نظام سے متعلق پاکستان مسلم دنیا میں واحد ملک ہے جس نے کامیابی حاصل کی، 5سال سے نظام نے بہتر کام کرنا شروع کیا ہے لیکن اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں معاشرے کے ہر طبقے نے حصہ لیا اور پاکستان میں امن و استحکام کیلئے 76ہزار جانیں دی گئیں، بیورو کریسی اور دیگر اداروں نے کراچی کے امن کے لیے مل کر کام کیاتاہم مزید بہتری کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ آج کا پاکستان ماضی سے بہتر ہے، ہم اچھے حالات کی جانب گامزن ہیں، پاکستان میں خرابیوں سے زیادہ اچھائیاں ہیں جو دنیا کو بتانا ہے، بطورادارہ پاکستان کا تشخص بلند کرنا ہمار اولین فرض ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ (ن )لیگ کی حکومت نے ہماری ہر ضرورت پر توجہ دی اور سرحد محفوظ بنانے کے لیے رقم فراہم کی، ن لیگ کی حکومت نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی منظوری دی اور مکمل تعاون کیا۔ترجمان پاک فوج نے کہاکہ ہماری فوج اور پولیس دہشتگردوں کے خلاف کئی سالوں سے لڑ رہی ہے، فوج دہشتگردوں سے لڑ سکتی ہے لیکن یہ کام پولیس کا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سبب ملک کا نظام خراب ہو گیا، ہمیں اس نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اور گزشتہ 5سالوں میں اس نظام نے صحیح طریقے سے کام کرنا شروع کردیا ہے۔انہوںنے کہا کہ احتساب کے لیے فوج کا اپنا میکنزم ہے، فوج کا احتساب سب سے قوی اور سخت ہے، فوج کا احتسابی نظام کثیرجہتی ہے جس سے کوئی ماورا نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر پورے ملک میں فوج میں رائج احتساب کا نظام لاگو کردیا جائے تو تمام مسئلے حل ہو جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ کہا گیا7آرمی جنرلز پاکستان سے باہر ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے، صرف پرویز مشرف اور جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف ملک سے باہر ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جنرل (ر) راحیل شریف حکومت کے منظور شدہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں ہیں جبکہ پرویز مشرف اس لیے پاکستان سے باہر ہیں کہ ان پر الزامات ہیں اور وہ سیاست میں بھی آئے۔انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ مشرف ایک فوجی جنرل ہیں لیکن فوج کا ان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوںنے کہاکہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی، جنرل (ر) کاکڑ اور جنرل (ر)کرامت پاکستان میں ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق میجر آصف غفور نے کہا کہ عدالتی اصلاحات ہوجانی چاہئیں تھیں تاہم اصلاحات اورقانون سازی حکومت کاکام ہے۔ سرجیکل اسٹرائیک پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ صرف دیومالائی کہانی ہے،بھارت جھوٹ بول رہا ہے،کوئی بھی مہم جوئی کی گئی تو 10 گنازیادہ طاقت سے جواب کی صلاحیت رکھتے ہیں، کسی بھی مہم جوئی کے جواب میں پاکستان کی طاقت پرکوئی شک نہیں ہوناچاہیے، اس وقت پاک فوج کے پاس زیادہ تر وہ افسرہیں جوجنگوں میں لڑچکے ہیں، ایک اور سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ سی پیک سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی، پاک فوج سی پیک کی محافظ ہے ۔پاکستان میں سیاسی تقسیم کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں جس میں سیاسی اختلافات نہ ہوں ،یہ جمہوریت کا حسن ہے اور پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے لیکن یہ اختلافات اخلاقیات کے دائرے میں ہونے چاہئیں اور کسی کو بھی دوسرے کی تضحیک یا ذاتیات پر حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوںنے کہاکہ ووٹ کی طاقت کے ذریعے پہلے مسلم لیگ ن نے حکومت کی، پھر پاکستان تحریک انصاف نے اور مستقبل میں کوئی اور کریگا۔ایک اور سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سرحدپرباڑلگانے سے افغانستان،پاکستان میں امن آجائیگا ۔انہوں نے کہا کہ فوج بھی کفایت شعاری پریقین رکھتی ہےجب تک ادارے ساتھ نہیں کھڑے ہونگے ترقی ممکن نہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ پاک فوج سے متعلق گاڑیوں کی خریداری کا خط جعلی تھا۔مدارس سے متعلق ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہر مسئلے کے پیچھے فوج نہیں ہوتی۔لاپتہ افراد سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شناخت کوئی نہیں بتاتا کہ کون مسنگ پرسن ہے، وضاحت کوئی نہیں دیتا۔برطانیہ کے دورے سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ باہمی تعلقات میں بہتری کے معاملات پر بات چیت ہوئی۔ ایک سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کو پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ان کے کام کے طریقہ کار اور ان کے پیغام سے اختلاف ہے جس سے وہ پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کا رہنما ایک پاکستانی جس نے آرمی کے اسکول میں تعلیم حاصل کی اور کسی بھی موقع پر فوج نے ان کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔آصف غفور نے کہا کہ یہ مسئلہ گہرا اور کسی فرد سے بڑھ کر ہے ،فاٹا اور دیگر علاقوں کو دہشت گردوں نے پاکستان ہی کے خلاف محفوظ پناہ گاہ بنایا ہوا تھا اور ان علاقوں کو شدت پسندوں سے پاک کرنے کے لیے ہماری فوج نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہم نہیں بھول سکتے کہ ان علاقوں میں پاک فوج اور پاکستانیوں پر حملے کیے گئے اور پھر ان کے سروں سے فٹبال کھیلی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب ان علاقوں میں دہشت گردی ہو رہی تھی تو اس وقت یہ لوگ کہاں تھے؟۔ تب کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی تھی لیکن جب ہم نے ان علاقوں کو محفوظ اور امن کا گہوارہ بنا دیا ہے تو ہمارے دشمن پاکستانیوں کے درمیان اختلافات کے بیج بونے کیلئے اپنی کوششیں کر رہے ہیں۔فوج کے ترجمان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ منظور پشتین کے پاس بیرون ملک منظم احتجاج کرنے کی کوئی طاقت نہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ ان احتجاجوں کے پیچھے کون ہے اور ان کو ملنے والی مالی امداد کے ذرائع کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کشمیریوں کے ڈی این اے میں شامل ہے، کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد میں بیرونی سپورٹ شامل نہیں، بھارت جانتا ہے کشمیریوں کی جدوجہد حق پر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان چاہتاہے غیر ملکی افواج افغانستان میں کامیاب ہو جائیں۔

تازہ ترین