ماہرین صحت نے نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح سگریٹ نوشی ڈیمنشیا (دماغی تنزلی اور نسیان کی بیماری) کے خطرات کو بڑھاتی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ پھیپھڑے براہ راست دماغ سے منسلک ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے امریکا کی یونیورسٹی آف شکاگو میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق نکوٹین ایک ایسا نیا حیاتیاتی راستہ متحرک کر سکتی ہے جو اس تعلق کی وضاحت کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اس سے قبل ہونیوالی تحقیق سے ظاہر ہوا تھا کہ درمیانی عمر میں زیادہ سگریٹ نوشی کرنے والوں میں کئی دہائیوں بعد ڈیمنشیا، بشمول الزائمر کی بیماری کا خطرہ دوگنا سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے تحقیق کے دوران دریافت کیا کہ پھیپھڑوں کے مخصوص خلیات، جنہیں پلمونری نیورواینڈوکرائن سیلز کہا جاتا ہے، نکوٹین کے ردعمل میں نہایت چھوٹے ذرات خارج کرتے ہیں جنہیں ایکسوسومز کہا جاتا ہے اور یہ دماغ میں فولاد کے توازن کو کنٹرول کرنے کے عمل میں مداخلت کرتے ہیں جو کہ صحت مند عصبی خلیات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اسکے نتیجے میں آئرن کے توازن میں بگاڑ نیورونز (عصبی خلیات) کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ان کے توانائی کے نظام پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور ایسے عمل کو جنم دے سکتا ہے جو الزائمر اور پارکنسن جیسی نیورو ڈی جنریٹو بیماریوں سے منسلک ہیں۔
اس تحقیقی ٹیم کے شریک مصنف اور پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق کوئی ژانگ کے مطابق یہ تحقیق ایک واضح پھیپھڑے و دماغ کے تعلق کو ثابت کرتی ہے، جو اس بات کی وضاحت کر سکتی ہے کہ سگریٹ نوشی کو ذہنی کمزوری سے کیوں جوڑا جاتا ہے۔
یہ تحقیق جو کہ طبی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی، لیبارٹری ماڈلز اور اسٹیم سیلز سے تیار کردہ پی این ای سیز پر مبنی تھی۔ اگرچہ یہ نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن محققین نے خبردار کیا ہے کہ انسانوں میں اس طریقہ کار کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔