اسلام آباد (نمائندہ جنگ )وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وطن عزیز کے سافٹ امیج کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کیلئے پاکستان فلم انڈسٹری کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے‘حکومت پاکستانی ڈراموں کو فروغ د ینے کی غرض سے ملک میں چلنے والے انٹرنیشنل ڈراموں پر ٹیکس لگا رہی ہے، سعودی عرب پاکستان سے فلمیں اور ڈرامے خرید رہا ہے جس سے فلم انڈسٹری اور معیشت میں بہتری آئے گی‘ ایک سال کے اندر میڈیا یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس میں اے پی این ایس اور براڈ کاسٹرز کو پارٹنر بننے کی آفر کی ہے‘ ‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کی شام مقامی ہوٹل میں پاکستان فلم پروڈیوسرز ونمائش کنندگان کی ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا‘ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستانی فلموں کی تعداد میں اضافہ بہت ضروری ہے جس کیلئے تھوڑی سی قربانیاں سینما والوں کو بھی دینی پڑیں گی اگر بھارت و دیگر ممالک کی فلموں کی نسبت پاکستانی فلم کیلئے زیادہ شیئرز رکھے جائیں تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کو ٹیکس سے استثنیٰ قرار دے دیں گے‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے چیئرمین ایف بی آر کو خط لکھا ہے کہ انٹرنیشنل ڈراموں پر ٹیکس لگایا جائے ‘ مصر اور پاکستان مشترکہ فلم سازی کی طرف جارہے ہیں ‘ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ بہت جلد پیمرا کو ختم کرکے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو بنایا جارہا ہے جس سے بہت سے مسائل ختم ہو جائیں گے‘ انہوں نے کہا کہ کاپی رائٹ ایکٹ میں ترمیم کیلئے جلد نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائیگا‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلم سنسر بورڈ کیخلاف کوئی بھی پراونشل بورڈ میں نہیں جاسکے گا‘ پاکستان فلم سنسر بورڈ کا فیصلہ حتمی تصور کیا جائیگا‘ اس موقع پر پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر کو پاکستان فلم انڈسٹری کے قیام سے لیکر اب تک کے عروج و زوال پر تفصیلی بریفنگ دی اور پاکستان فلم انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حوالے سے آگاہ کیا جس پر وفاقی وزیر نے پروڈیوسر و نمائش ایسوسی ایشن کے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے مسائل کے حل کیلئے تمام ضروری اقدامات کئےجائینگے‘ وفد میں جاوید شیخ‘ سید نور‘ عثمان پیر زادہ‘ ہمایوں سعید اور جگن کاظم و دیگر سینئر فنکار شامل تھے۔