• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’عہود بنتِ خلفان الرومی‘‘ وزیر مسرت و خوشحالی متحدہ عرب امارات

بین الاقوامی سطح پر کاروبار کی جنت کہلائے جانے والے متحدہ عرب امارات نے جہاں ملک میں کئی اہم اقدامات کیے ہیں، ان میں سے ایک وزارتِ مسرت و خوشحالی کا قیام بھی ہے، جس کا مقصد چہروں پر مسکراہٹ لاکر متحدہ عرب امارات کو دنیا کا سب سے مسرور ملک بنانا ہے۔ یہ وزارت اس وقت بنائی گئی، جب 2016ء میں دنیا کے مسرور ممالک کی عالمی فہرست میں متحدہ امارات کا نام مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پہلے اور عالمی ممالک میں 28ویں نمبر پر آیا، جبکہ2015ءمیں یہ 20ویں نمبر پر تھا۔

وزارتِ مسرت و خوشحالی کا قیام

متحدہ امارات نے جب مشرق وسطیٰ میں مسرور ممالک میں پہلی پوزیشن حاصل کی تو اسے دنیا بھر میں پہلی پوزیشن پر لانے کے لیے حاکم دبئی اورنائب صدر متحدہ عرب امارات شیخ محمدبن راشد المکتوم نے 10فروری 2016ء کو وزارتِ مسرت و خوشحالی کی داغ بیل ڈالی،جس میں عزت مآب عہود بنتِ خلفان الرومی کو وفاقی وزیر بنایا گیا ۔وہ دنیا کی پہلی خاتون ہیں، جو اس منفرد وزارت کی وزیر بنی ہیں۔ وہ گلوبل انٹرپرینیورشپ کونسل(GEC) کی پہلی عرب رکن بھی ہیں۔

وزارتِ مسرت و خوشحالی

وزارتِ مسرت و خوشحالی کی کابینہ اراکین میں بھی خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میںوفاقی وزیر تحمل و برداشت شیخا لبنیٰ بنتِ خالد القاسمی، وزیر کمیونٹی ڈویلپمنٹ نجلہ محمدالعصور، وزیرِ تعلیم جمیلہ سلیم المہیری، وزیر فیڈرل نیشنل کونسل افیئرزنورا الکعبی اور چیئرمین یوتھ نیشنل کونسل شمع المزروئی شامل ہیں۔

ابتدائی زندگی، تعلیم و کیریئر

عہود الرومی کےوالدخلفان محمد الرومی کا شمار امارات کے اہم سیاستدانوں میں ہوتا ہے،جو امارات کےوزیرِ اطلاعات و ثقافت بھی رہے۔ اس طرح ایک سیاسی و علمی ماحول میںعہود الرومی نے آنکھ کھولی۔ متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کے اسکول آف بزنس اینڈ اکنامکس سےاکنامکس میں بیچلر کیا جبکہ شارجہ یونیورسٹی سےبزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز ڈگری(ایم بی اے) حاصل کی۔ وہ محمد بن راشد پروگرام فار لیڈر شپ ڈویلپمنٹ سے گریجویٹ بھی ہیں۔

انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کی ابتدا دبئی ایوانِ صنعت و تجارت میں بحیثیت مینجر بزنس ریسرچ کی۔2012ء میں جب ان کا نام ورلڈ اکنامک فورم کے’’ 40برس سے کم عمرنوجوان عالمی قائدین‘‘ کی فہرست میں آیا تو وہ خود کو سیاست سے دور نہ رکھ سکیں۔ انھوں نے ’مستقبل میں سرکاری رہنما سازی‘ کے پروگرام میں شمولیت اختیار کرکے جلد ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے خوشی کو فروغ دینے کے لیے بنائی جانے والی وزارتِ مسرت و خوشحالی کے لیے انھیں وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ یہاں وہ کئی پروجیکٹس، پروگراموں اور پیش رفتوں کی ترقی و فروغ کا جائزہ لیتی ہیں، جس میںمتحدہ عرب امارات کے وژن 2021ء پر کام قابلِ ذکر ہے۔ الرومی ورلڈ گورنمنٹ سمٹ آرگنائزیشن کی نائب صدر ہیں، جس کےتحت ہر سال ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کا انعقاد ہوتا ہے اور حکومتی نمائندے، پالیسی ساز اور نجی شعبہ مل بیٹھ کر مستقبل کی حکومتوں کے وسیع امکانات پر غور و خوض کرتے ہیں۔

خوشی و خوش حالی کیسے حاصل کی جائے؟

یہ وہ سوال ہے، جس کی تلاش میں انسان جنم جنم سے سرگرداں رہا ہے۔ خوشی کو پانے کے لیے پیسے سے زیادہ قلبی سکون درکار ہے،جو اچھی سوچ، مراقبہ، یوگا اور صحت بخش غذائیں کھانے سے ملتا ہے،جس کے لیے متحدہ امارات کی حکومت نےمثبت نفسیات(Positive Psychology) کے نام سے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا ہے،جس میں ان تمام باتوں کا دھیان رکھا گیا ہے، جو حقیقی خوشی کے لیے ناگزیر ہیں اور عہود الرومی ان تمام معاملات پر بھرپور کام کررہی ہیں۔

مثبت انداز فکر سے جینے کا سلیقہ

وزیرِ مسرت و خوشحالی کا عہدہ عہود الرومی کی ہر وقت ہنستی مسکراتی شخصیت سے بہت میل کھاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں،’’ بچپن ہی سے مجھےمسکراہٹیں بکھیرنے کی عادت ہے۔ وزارتِ مسرت و خوش حالی اپنی نوعیت کی پہلی وزارت ہے،جس کا مقصد اپنے شہریوں کو خوشی اور روحانی سکون مہیا کرناہے، جس کے لیے ہم ماہرین کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ کسٹمر سروس سینٹرز اب ’’مراکز السعادۃ‘‘ کے نام سے پکارے جائیں گے، جہاں ہماری مکمل توجہ لوگوں کے مسائل حل کرکے ان کے لبوں پر مسکراہٹ لانے پر ہوگی۔ انہیں مثبت انداز فکر سے جینے کا سلیقہ دیا جائے گا۔ 90ہزارسرکاری ملازمین میں مسرت و روشن خیالی کو پروان چڑھانے کے لیے باقاعدہ مثبت نفسیات و سوچ کی تربیت دی جائے گی۔50سرکاری محکموں کو آدابِ مسرت و سعادت سکھائے جائیں گے اور اچھی سوچ کو فروغ دیا جائے گا۔ ہر ایک کو خوش رکھنے کا کوئی طریقہ نہیں، لیکن معاشرے کے مختلف طبقات کو کیسے خوش رکھا جاسکتا ہے،ہم اس کی اخلاقی تربیت مہیا کرسکتے ہیں۔ ہم سرکاری دفاتر کا ماحول مسرور بنا رہے ہیں، اس کے علاوہ طالب علموں اور ماؤں کو خوش رکھنے کی مہم پر نکلے ہیں،جس کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ 

خوشگوار خواتین و حضرات نہ صرف بیمار کم ہوتے ہیں بلکہ ان کی عمر میں دس برس اضافہ ہوتا ہے۔ وزارتِ مسرت کا بنیادی کام حکومت کی ذمہ داری اور فرضِ منصبی پر مبنی ہے کہ وہ عوام کو ایسی سہولتیں دیں جس سے انھیں خوشی ملے۔ اس میں کام کا خوشگوار ماحول،مناسب تنخواہ اور ایک دوسرے سے حسنِ سلوک شامل ہیں۔ عوام کو خوش و خوش حال رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہم نے خوشی کو ناپنے والا آلہ بھی متعارف کرایا ہے۔ عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا حکومت کی اولین ترجیح ہے‘‘۔

تازہ ترین