آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور ہائیکورٹ میں غداری کے دو کیس دائر کیے گئے۔ ایک کیس تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر کے خلاف دائر کیا گیا جبکہ دوسرا غداری کا کیس سابق وزرائے اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور دیگر کے خلاف دائر ہوا۔ دونوں مقدمات کو دو روز قبل 12 نومبر کو ایک ہی دن لاہور ہائیکورٹ کی دو مختلف عدالتوں نے لاہور میں سنا۔ خبروں کے مطابق خادم رضوی وغیرہ کے خلاف مقدمہ‘ جس کو مقامی شہری شبیر نے دائر کیا تھا، کی سماعت جسٹس عاطر محمود نے کی۔ اس مقدمہ میں تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف ریاست کے خلاف بیان دینے اور عوام کو تشدد پر اُکسانے کے جرم میں غداری کی کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ مسیح کی رہائی کے فیصلے کے بعد تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کی جانب سے ریاست اور مسلح افواج کے خلاف بیانات دیئے گئے اور لوگوں کو تشدد پر اکسایا گیا، تین دن تک ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کیا گیا اور آئین کو معطل کرنے کی کوشش کی گئی۔ 12 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عاطر محمود نے خادم رضوی وغیرہ کے خلاف غداری کی کارروائی کے لیے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔ غداری کے مقدمہ کی اس درخواست کو خارج کرتے ہوئے جسٹس عاطر محمود نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ اس معاملہ پر از خود نوٹس لے چکی ہے۔ ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو یہ بھی باور کروایا کہ احتجاج اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف حکومت کارروائی کر رہی ہے۔ جسٹس عاطر محمود نے افسوس کا بھی اظہار کیا کہ اس طرح کی درخواستیں دائر کرنے سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھتا ہے لیکن اس کے باوجود اس طرح کی درخواستیں دائر کی جاتی ہیں۔ ہائیکورٹ کے جسٹس عاطر محمود نے یہ بھی نشاندہی کی کہ غداری کی کارروائی کرنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے، عدالت کا نہیں۔ اس کیس کو دوسری تاریخ میں ہی مسترد کر دیا گیا اور عدالت عالیہ کو خادم رضوی وغیرہ کو بلانے کی بھی ضرورت نہیں پیش آئی۔

اسی روز 12 نومبر 2018 کو لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف، شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کیس کی سماعت کی، جو گزشتہ چند ماہ سے چل رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کیس کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس چوہدری مسعود جہانگیر پر مشتمل تین رکنی بینچ سن رہا ہے۔ خبروں کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے دو سابق وزرائے اعظم میاں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف حلف کی پاسداری نہ کرنے کے معاملے پر نواز شریف کے وکیل پر واضح کیا کہ وہ آئندہ سماعت پر سابق وزیراعظم کی عدالت میں پیشی کو یقینی بنائیں تاکہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر بحث ہو سکے۔ درخواست گزار کے مطابق نواز شریف نے سرل المیڈا کو اپنے ایک انٹرویو میں غیر ذمہ دارانہ بیان دیا اور شاہد خاقان عباسی نے اس مسئلہ پر نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس کی کارروائی کے بارے میں نواز شریف کو بتایا۔ خبر کے مطابق فل بینچ کے روبرو شاہد خاقان عباسی اور سرل المیڈا پیش ہوئے اور نواز شریف کی استثنیٰ کیلئے درخواست دی گئی، جس پر بینچ کے سربراہ نے باور کرایا کہ درخواست کے ساتھ بیانِ حلفی نہیں دیا گیا۔ سماعت کے موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شاہد خاقان عباسی اور صحافی سرل المیڈا آئے ہیں؟ اس پر شاہد خاقان عباسی اور صحافی سرل المیڈا نے حاضری لگائی جبکہ نواز شریف پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے سابق وزیراعظم کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔ عدالت نے سابق وزرائے اعظم کیخلاف درخواست پر کارروائی 19 نومبر تک ملتوی کر دی۔ اس سے قبل 22 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف غداری کے الزام میں بغاوت کی کارروائی کے لیے درخواست پر سماعت نواز شریف کی عدم حاضری کے باعث 12 نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔ واضح رہے کہ24 ستمبر کو لاہور ہائیکورٹ نے بغاوت کے مقدمے میں سرل المیڈا کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہوئے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ نواز شریف نے ممبئی حملوں کے خلاف دائر مقدمے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’غیر ریاستی عناصر کہلانے والی عسکری تنظیمیں اب تک سرگرم ہیں، کیا ہمیں انہیں سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 افراد کو قتل کرنے کی اجازت دینی چاہیے؟‘‘

میری طرف سے بغیر کسی تبصرہ کے ان دونوں مقدمات کے حقائق قارئین کے پیشِ خدمت ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)