آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند روز قبل میں ایک ’’بابا جانی‘‘ سے ملا جن کی تقریباً ایک سو بیٹیاں اور پانچ سو بیٹے ہیں۔ اگر ایک بچہ بلوچستان کے دور دراز علاقے سے تعلق رکھتا ہے تو دوسرا باجوڑ یا وزیرستان سے آیا ہو گا، کسی کا تعلق کشمیر سے ہے تو کوئی لاہور، راولپنڈی سے آیا ہو گا۔ ’’بابا جانی‘‘ کے ان بیٹے بیٹیوں میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے بچے بھی شامل ہیں۔ ’’بابا جانی‘‘ سے ان بچوں کے متعلق سوال کریں تو اُن کا جواب ہمیشہ ’’میرے بیٹے‘‘، ’’میری بیٹیاں‘‘ ہی ہو گا۔ دوسروں کے لیے یہ بچے ایک یتیم خانے میں رہتے ہیں لیکن جب کوئی وہاں کا دورہ کرتا ہے تو دل خوش ہوتا ہے اور واقعی ایک سویٹ ہوم آپ کو ملتا ہے جہاں ہر بچہ آپ کو ہشاش بشاش نظر آئے گا۔ اُن کی مکمل دیکھ بھال، تعلیم و تربیت، صحت کا بہترین خیال رکھا جاتا ہے۔ آپ کو اسلام آباد میں قائم سویٹ ہوم اُس کے بالکل برعکس ملے گا جیسا نقشہ ذہن میں یتیم خانہ اور وہاں رہنے والے بچوں کا سن کر ابھرتا ہے۔ اس سویٹ ہوم کے ’’بابا جانی‘‘ زمرد خان ہیں۔ زمرد خان کو بہت سے لوگ سیاست اور پاکستان پیپلز پارٹی کی نسبت سے جانتے ہیں لیکن یہ وہ شخص ہے جو ایک بہت بڑا آدمی ہے، جس نے کئی سال قبل سیاست کے بجائے اپنے آپ کو سویٹ ہوم کے لیے وقف کیا اور اسے ایسا مثالی گھر بنایا کہ شاید آپ کو ایسا کوئی دوسرا سویٹ ہوم نظر نہ آئے۔ کئی ایکڑ میں پھیلے اس سویٹ ہوم میں بابا جانی کے بیٹے، بیٹیوں کو نہ صرف تعلیم دینے کے لیے اسکول بنے ہوئے ہیں بلکہ مسجد، لائبریری، کھیل کود کے لیے بڑے بڑے میدان حتیٰ کہ ایک چڑیا گھر بھی موجود ہے۔ بابا جانی کے کئی بیٹے بیٹیاں راولپنڈی اسلام آباد کے چند ایک اچھے اسکولوں اور کالجوں میں بھی پڑھنے کے لیے جاتے ہیں۔ سویٹ ہوم کو دیکھ کر وہاں بچوں، اساتذہ اور دوسرے خواتین و مرد volunteers کو مل کر کہیں ایسا اشارہ نہیں ملا کہ اُن میں کوئی کمی ہے۔ سویٹ ہوم میں کئی عماتیں قائم ہیں، کچھ نئی بھی بن رہی ہیں۔ میں نے سویٹ ہوم کے بابا جانی سے پوچھا کہ وہ لاکھوں کروڑوں کے اخراجات کیسے پورا کرتے ہیں تو اُنہوں نے آسمان کی طرف اپنی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے کہا: میں خرچے کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرا رب کوئی نہ کوئی وسیلہ بنا دیتا ہے۔ ایک صاحب آئے انہوں نے مسجد، لائبریری بنا دی، ایک اور صاحب نے بڑے بیٹوں کے لیے اسکول کا بلاک بنوا دیا، ایک مشہور ریسٹورنٹ سویٹ ہوم کے لیے دو وقت کا کھانا فراہم کرتا ہے، اسلام آباد کا ایک پرائیویٹ اسپتال بابا جانی کے بچوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرتا ہے، راولپنڈی کے ایک بہترین اسکول کی انتظامیہ نہ صرف سویٹ ہوم کے اسکولز کو اپنے معیار کے مطابق چلا رہی ہے بلکہ سیکنڈری سے اوپر سویٹ ہوم کے تقریباً سو بچے، بچیوں کو بھی اپنے اسکول میں بغیر فیس کے پڑھا رہی ہے، جس کی وجہ سے بابا جانی کے بیٹے بیٹیاں بہت اچھے رزلٹ بھی دے رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ ان شاء اللہ پڑھ لکھ کر یہ بچے اپنا بہترین کیریئر بنا پائیں گے۔

زمرد خان نے اس کارِ خیر کے لیے اپنے سیاسی اور ذاتی اثر و رسوخ کا بہت بہتر استعمال کیا اور آج سویٹ ہوم کے ساتھ کئی ایسے ڈونرز منسلک ہیں جنہوں نے اس ادارے کی ذمہ داری اٹھائی اور بابا جانی کے بیٹے بیٹیوں کو ایک اچھی زندگی گزارنے اور اچھا مستقبل بنانے کا موقع فراہم کیا۔ سویٹ ہوم میں کئی لوگ صرف اللہ کی رضا کے لیے بابا جانی کے ساتھ مل کر اُن کے بیٹے بیٹیوں کا خیال رکھتے ہیں۔ ان میں مَیں ایک ایسی بزرگ خاتون سے ملا جن کے اپنے تین بچے ملک سے باہر settledہیں، ایک بیٹا ڈاکٹر ہے جس کے ساتھ وہ خود راولپنڈی میں رہتی ہیں لیکن گزشتہ کئی سال سے وہ صبح آٹھ بجے سویٹ ہوم آ جاتی ہیں اور شام سات بجے تک یہیں ان بچوں کا خیال رکھتی ہیں۔ ایک ڈاکٹر صاحبہ وہاں مجھے ملیں جن کی فیملی کو میں جانتا ہوں۔ اُن کا تعلق ایک سیاسی خاندان سے ہے، شوہر ایک اہم سیاسی ذمہ داری اور بھائی ایک اہم انتظامی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ یہ ڈاکٹر صاحبہ روزانہ سویٹ ہوم آتی ہے اور تین چار گھنٹے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے وقف کرتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے مجھے بتایا کہ اپنے گھر والوں کے علاوہ وہ کسی کو نہیں بتاتیں کہ وہ روزانہ کہاں جاتی ہیں اور کیا کرتی ہیں۔ ایک وکیل صاحب ملے جنہوں نے بتایا کہ اُنہوں نے وکالت چھوڑ دی اور سویٹ ہوم کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ ایک آئی ٹی پروفیشنل بچوں کو قرآن پاک کا ترجمہ انتہائی آسان طریقہ سے سکھاتے ہیں۔ کئی دوسروں کے علاوہ یہ تمام لوگ خاموشی سے بابا جانی کے ساتھ مل کر سویٹ ہوم میں موجود بیٹے بیٹیوں کی خدمت کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ہی گولڑہ شریف کے علاقہ میں رہنے والے ایک میاں بیوی نے 2005ء کے زلزلہ کے بعد تین یتیم بچیوں کو اپنے گھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں جب دیکھا کہ ایسی بچیاں تو اور بھی کئی ہیں اور اُن کا کوئی خیال رکھنے والا نہیں تو انہوں نے اسی علاقہ میں کرایہ پر جگہ لے کر ’’ہمارا گھر‘‘ بنایا۔ طارق ستی اور اُن کی اہلیہ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ مل کر اپنی مدد آپ کے تحت یہ کام شروع کیا اور آج ’’ہمارا گھر‘‘ میں تقریباً اسّی کے قریب بچیاں بس رہی ہیں۔ سویٹ ہوم کے بابا جانی کی طرح اپنا گھر کی تمام بچیاں ستی صاحب کو بابا اور اُن کی اہلیہ کو ماما کہہ کر بلاتی ہیں۔ ’’ہمارا گھر‘‘ سے میرا تعارف ایک قریبی عزیر کے توسط سے بہت پہلے کا ہے۔ ہمارا گھر کی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کا خیال بہت اچھے انداز میں رکھا جاتا ہے۔ ہمارا گھر کے ساتھ منسلک ایک کرائے کی بلڈنگ میں ان بچیوں کے لیے اسکول قائم ہے۔ سویٹ ہوم کے برعکس ہمارا گھر کی بیٹیوں کو کھیلنے کے لیے ہمارا گھر کی چھت ہی میسر ہے۔ ابھی تک تو ہمارا گھر کے اخراجات ماما بابا اپنے، اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور جاننے والوں کے تعاون سے ہی اٹھا رہے ہیں لیکن سویٹ ہوم کی طرح ہمارا گھر کی بیٹیوں کو بھی مخیر حضرات کے تعاون کی ضرورت ہے۔ جو حضرات اس کارِ خیر میں دلچسپی رکھتے ہوں وہ طارق ستی صاحب سے موبائل نمبر 03217928888 پر رابطہ کر کے، اپنی جانچ پڑتال کرنے کے بعد ان بیٹیوں کے لیے جو کرنا چاہیں، کر سکتے ہیں۔

ہمارا گھر کے ماما بابا نے ایک بیٹی کی شادی بھی کر دی ہے۔ اگرچہ اکثر بیٹیاں ابھی چھوٹی ہیں لیکن دوسری مائوں کی طرح ہمارا گھر کی ماما بھی اپنی دوسری تمام بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اُن کی شادیوں کے لیے بھی فکر مند رہتی ہیں۔ ہمارا گھر ابھی کرائے کی بلڈنگ میں ہی قائم ہے اور اسکول کے اخراجات بھی کافی زیادہ ہیں۔ چند روز قبل ایک اور بڑے آدمی سے ملا۔ اُن کے سامنے ہمارا گھر کے معاملات رکھے اور یہ درخواست کی کہ ہمارا گھر کی مستقل بلڈنگ اور اسکول بنانے کے لیے چھ کنال زمین درکار ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اُس بڑے آدمی نے یہ زمین دلوانے کا وعدہ کر لیا۔ اس بڑے آدمی کی صرف ایک درخواست تھی کہ اُنہوں نے جو کیا یا جو وہ کر رہے ہیں اُس کی تشہیر نہ کی جائے۔ بحیثیت پاکستانی ہم اپنے آپ کو اکثر کوستے رہتے ہیں، یقیناً ہم میں بہت خرابیاں بھی ہیں لیکن اللہ کا کرم ہے کہ یہاں بڑے اور اچھے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ ایسے لوگ جو لاکھوں، کروڑوں انسانیت پر خرچ کرتے ہیں، اپنا وقت انسانی خدمت کے لیے دیتے ہیں اور پھر یہ بھی تقاضا کرتے ہیں کہ اُن کا نام بھی نہ لیا جائے۔ ان اچھے اور بڑے آدمیوں میں سے ایک بڑے آدمی نے بہت خوبصورت بات کی کہ وہ جو کر رہے ہیں، اپنی آخرت سنوارنے کے لیے کر رہے ہیں، اُن کا کسی پر کوئی احسان نہیں بلکہ احسان تو اُن پر اللہ تعالی کا ہے کہ اُنہیں اس نیک کام کے لیے چُنا گیا۔ ایسے بڑے اور اچھے لوگوں کو میرا سلام۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں