• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام کا نظام عفت و عصمت…سورہ نور کی روشنی میں

تحریر:حافظ عبدالاعلیٰ درانی…بریڈفورڈ
پچھلے تین ماہ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسی حکومت آئی ہے جس کے وزیر اعظم ایک ایماندار ، اصلاح پسند ، مال دنیا کی طمع و حرص سے مبرا ہیں اور ان کا دعویٰ ہے وہ اسے مدینہ پاک کی طرح کی ریاست بنانا چاہتے ہیں ، بانی پاکستان قائد اعظم علیہ الرحمۃ کا بھی ارشاد تھا کہ ہم پاکستان کو اسلامی نظام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے ہیں تو آیئے مجوزہ ریاست مدینہ میں امن و امان اور عفت و عصمت کا کیا مقام ہے ۔ وہ دیکھتے ہیں سورہ نور کی روشنی میں۔اس امیدپر کہ ریاست مدینہ ایک نعرہ ہی نہیں عملی طور پر ان خطوط پر معاشرہ ترتیب دیا جائے گاتو دنیا والوں کیلئے ایک مثالی ملک بن سکے گا اور تاریخ وطن میں یہ پہلی دفعہ ہوا کہ خاتون اول مکمل حجاب میں دکھائی دیتی ہیں، جس میں قوم کی بیٹیوں اور بہنوں کیلئے ایک بہت بڑا اور صاف میسج ہے کہ ریاست مدینہ میں یہی نظام عفت و عصمت کامیاب ہوگا اور اس کی برکت عیاں ہوگی۔ ان شاء اللہ العزیز۔
اس مبارک سورہ نور کا ترتیب میں نمبر۲۴۔ اور آیات ۶۴ ہیں ۔ نام نامی ’’النور‘‘ ہے ، جو آیت ۳۵ سے ماخوذ ہے۔ اوراس کی معنوی مناسبت یہ ہے کہ اس سورہ میں جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ نور ہی نور ہیں ‘ نورایمان کو جلا بخشنے والے ‘ ہرقسم کی معصیت و تیرگی کو ختم کرکے اطاعت و عصمت کے راستوں کو روشن کردینے والے ‘ اور دنیا و آخرت میں مغفرت و نور ایمان سے منور کردینے والے ہیں۔نیز معصیت و منافقت کو جداجدا کردینے والے ہیں !
اہمیت و فضیلت سورہ نور
اگرچہ سارا قرآن اور اس میں نازل کئے جانے والے تمام احکام اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ہیں لیکن اس سورہ کے معاملے میں اس نے اہتمام خاص سے فرمایا۔ سورہ نور کی اہمیت اس پہلو سے بھی روشن ہے کہ عورتوں کو سورہ النور کی تعلیم دینے کی ہدایت کی گئی ہے ‘ اگرچہ اس موضوع کی احادیث سنداً معلول ہیں لیکن درایتاً حکمت کی باتیں ضرور ہیں کیونکہ اس قسم کی سورتوں میں عفت و عصمت کے حوالہ سے بڑی جامع تعلیمات دی گئی ہیں ! اس لئے عورتوں کے ساتھ ساتھ تمام مسلمان نوجوان بچوں اور بچیوں کو سورہ نور اور سورہ احزاب کی تعلیم دی جانی چاہئے تاکہ اسلام کے معاشرتی نظام کی بنیادیں سن شعور ہی سے راسخ ہوسکیں۔اس سورہ کا مرکزی مضمون مسلمان عورت کی عفت و عصمت ہے۔جو خانگی زندگی کی جان ہے۔ اوریہ بنیادی نکتہ ہے کہ اسلام نے معاشرہ کی بنیاد خاندان ہی کو قرار دیا ہے۔ اگر خاندان کا نظام صحیح اصولوں پر قائم ہوگیا تو سارے معاشرے کی اصلاح ہوجائے گی !
سورہ نور کے مضامین
سورہ نور میں زندگی کے اہم پہلواور صفت’’ عفت و عصمت‘‘ پر گفتگو کی گئی ہے۔صرف انفرادی ہی نہیں بلکہ پورا ایک معاشرہ اس بنیاد پر تشکیل دیا گیا اس لئے اس موضوع کو بہت تفصیل سے واضح کرنا ضروری تھا۔ گویا یہ سورہ سابقہ سورہ کے ان اشاراتی احکامات کو تفصیل سے بیان کرتی ہے !
(۳) مدینہ منورہ میں اسلامی مملکت کے تشکیل پاجانے کے ابتدائی مرحلہ (۲ ھ) ہی میں صنفی انتشار کو روکنے کیلئے سورہ نساء (۱۵؍۱۶)میں اس سلسلہ کے ابتدائی احکام دئیے گئے تھے’’ تمہاری عورتوں میں سے جو بے حیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو‘ اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو‘ یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے‘ یا اللہ ان کیلئے کوئی اور راستہ نکا لے۔ تم میں سے جو افراد ایسا کام کر لیں انہیں ایذا دو‘ اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے تعرض نہ کرو‘ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا اوررحم کرنے والا ہے!لیکن چونکہ اس وقت حالات حدود و تعزیرات کے نفاذ کیلئے سازگار نہیں ہوئے تھے۔ اور ساتھ ہی اشارہ کردیا کہ اس باب میں قطعی احکام بعد میں نازل ہوں گے۔چنانچہ اس سورہ کے نزول سے ان کی تکمیل ہوگئی !سورہ نور میں وقت کے خاص حالات کے مطابق اہل ایمان کو ان احکام و ہدایات سے آگاہ کیا گیاہے ! جو ان کے نو تشکیل معاشرے کو ایمان کے تقاضوں سے منور کرنے اور منافی ایمان مفاسد سے محفوظ رکھنے کیلئے ضروری تھے !
منافقین کاکردار اورسورہ نور کے احکامات کا پس منظر
جس زمانے میں یہ سورہ نازل ہوئی تھی۔ وہ مسلمانوں کیلئے بڑا کٹھن دور تھا کیونکہ مدینے اور اس کے گردو نواح میں منافقین کی ریشہ دوانیاں بہت بڑھ چکی تھیں۔ وہ مسلمانوں کے اخلاق و کردار کی بلندی و عظمت پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے بہت خطرناک کارروائیاں کیں۔اللہ تعالیٰ نے بجائے اس کے کہ ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے‘ خود مسلمانوں کے اخلاق کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی کہ ان رخنوں کو پورا کرو جو تمہارے اندر موجود ہیں۔ چنانچہ حضرت زیدؓکی مطلقہ سے نبی ﷺکے نکاح کے بعد سورہ الاحزاب کے آخری چھ رکوع نازل ہوئے ‘ اور واقعہ افک کے بعد سورہ نور اتری۔ اس پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر ان دونوں سورتوں کا مطالعہ کیا جائے تو وہ حکمت اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جو ان کے احکام میں پوشیدہ ہے !
مضامین سورہ کا اجمالی تعارف
اس سورہ میں جو احکام بیان ہوئے ان کا خلاصہ یہ ہے۔سورہ نور اور اس میں بیان شدہ احکام کی اہمیت کہ اسے ہم نے نازل کیا ہے اور اس کے احکام کو فرض کیا ہے ٭ تنبیات کی طرف توجہ کا حکم ٭ زنا کی سزا ٭ تنفیذ حدود اللہ میں مداہنت منافی ایمان ہے ٭دورجدید کا فلسفہ حمایت وتحفظ مجرمین منافقت کاشاخسانہ ہے ٭ حدود الٰہیہ کے نفاذ کی برکات۔۔ ایک مامون و محفوظ معاشرہ ٭فضیحت مجرماں نصیحت دیگراں یعنی تنفیذ حدود اللہ میں دوسروں کے لئے عبرت کا سبق ٭ رجم کی سزا کا انکار اجماع امت کے خلاف ہے ٭زنا اور شرک کی باہمی مشابہت ٭ معاشرہ کی ایمانی حس کو بیدار کرنے کی ضرورت ٭ قذف کی شہادت اور سزا ٭ لعان کا طریق کار اور سزا ٭فتنہ افک ایک بڑی آزمائش تھی ٭ واقعہ افک منافقین کی شرارت کے باعث پیدا ہوا ٭ شر میں خیر کے پہلو ٭ بانی فتنہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے لئے عذاب کی نوید ٭ ہر مسلمان کے بارے میں حسن ظن کا رواج دیا جائے ٭ الزام کے ثبوت کیلئے چار گواہوں کی شرط ٭ سادگی کی وجہ سے افک میں ملوث ہونے والوں سے درگزر کرنے کی ہدایت ٭ بھولی بھالی مومنہ خواتین پر کیچڑ اچھالنا سخت جرم ہے ٭ خبیث اور طیب معاشرہ کی جداگانہ حیثیت٭ خبیث مردوں کیلئے خبیث عورتیں اور ٭ کسی کے گھرمیں داخل ہونے کے آداب ٭ اذن کی برکات ٭غض بصر کی ہدایت ٭ گھروں کے اندر عورتوں کو اظہار زینت کے بارے میں تفصیلی ہدایات ٭ اجتماعی توبہ کا حکم ٭ نوجوانوں کے نکاح جلد کرنے کی ترغیب ٭نکاح کی عدم مقدرت کا علاج ٭ بے راہ روی اور رنڈی بازی کے پیشے کی مذمت٭ اللہ کے نور کی لطافت و ضرورت ٭ ایمان کی روشنی صالح فطرت لوگوں کو ملتی ہے ٭ مساجد اللہ کی اہمیت و فضیلت ٭ کفر واہل کفر کے ظاہر و باطن کی تمثیل ٭ کائنات کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کہتی اور عبادت کرتی ہے ٭اللہ و رسولؐ کی تابعداری کا حکم ٭ یاران نبی کے لئے خلافت ارضی کا وعدہ ٭ خلافت راشدہ کی حقانیت کا قرآنی ثبوت ٭ حضرت علی ؓ بھی خلفائے ثلاثہ کی خلافت کو خدائی اہتمام قرار دیتے تھے ٭پردے کے وہ تین اوقات جن میں نابالغ بچوں کو بھی اجازت لئے بغیر خلوت میں جانے کی اجازت نہیں٭بوڑھی عورتوں کیلئے اظہارزینت کی نرمی‘ ان رشتوں کا ذکر جن کے ہاں سے آدمی کو بلااجازت کھاپی لینا جائز ہے ٭ رسول اللہ ﷺکے ادب کا معیار اورنبی اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی ممانعت ٭خاتمہ سورہ۔ ارض و سماء کی ہر چیزاللہ کی ملکیت ہے۔
مضامین سورہ کاتفصیلی تجزیہ
{آیت ۱ - ۳}جرم زنا کی سزا کابیان کہ زانی مرد و عورت میں سے ہر ایک کو سو سو کوڑے مارے جائیں اور اللہ کی حدود کے نفاذ میں کسی قسم کی نرم دلی کا مظاہر نہ کیا جائے کیونکہ تم اللہ سے زیادہ حلیم نہیں ہو نیز یہ سزا برسر عام دی جائے ‘ کیونکہ اسلامی تعزیرات سے مقصد دوسروں کو عبرت دلانا بھی ہے !
جرم زنا کی سزا اس قدر سخت ہونے کی وجہ؟
دیگرجرائم کی نسبت زنا کو بہت شدت کے ساتھ فوجداری جرم قرار دیاگیا ہے اس لئے کہ معاشرے کے انتشار و فساد میں سب سے زیادہ دخل اسی فعل بد کوہے۔ جیسا کہ ہم شروع میں ذکر کر آئے ہیں کہ معاشرے کے استحکام کاانحصار رحمی رشتوں کی پاکیزگی اور اس کے ہرقسم کے اختلال و فساد سے محفوظ ہونے پر ہے۔ زنا اس رشتہ کی پاکیزگی کو ختم کرکے صنفی انتشار میں ڈال دیتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ ایک پاکیزہ معاشرہ کی بجائے ڈھور ڈنگروں کا ایک گلہ بن کررہ جاتا ہے۔ یہ اختلال و انتشار چونکہ صالح تمدن کی بنیاد کو اکھاڑ دینے والا ہے! اسی لئے عورت اور مرد کا ایسا آزادانہ تعلق ہر زمانے میں ایک سخت عیب ‘ ایک بڑی بداخلاقی اور مذہبی اصطلاح میں ایک شدید گناہ سمجھا جاتا رہاہے۔ اسی لئے ہر زمانے میں اس گناہ کو براجاننے کے ساتھ ساتھ اس کے سدّ باب کیلئے ممکنہ قانونی واخلاقی تدابیر بھی اختیار کی گئی ہیں !البتہ اسلام کے قانون اور دیگر قوانین کے درمیان مابہ الامتیاز چیز سابقہ شریعتوں کی طرح اسلام میں اس جرم کی سزا رجم یا کوڑے ہے !
تنفیذ حدود اللہ میں مداہنت ممنوع ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔’’اللہ کے دین کے بارے میں ان زانیوں کو سزا دینے کے سلسلے میں کوئی نرمی تمھیں دامن گیر نہ ہونے پائے‘‘۔ یہاں دین سے مراد اجرائے حد زنا ہے۔ اس سے بھی اس جرم کی شناعت اور اس پر سزا کے ترتب کی اہمیت سمجھ آجاتی ہے کہ حدود اللہ کا اجراء عین دین ہے۔ اسے وحشیانہ کہنے والے بے دین اور منافق ہیں ‘ اللہ کے باغی ہیں۔ دین ربانی سے باہر ہیں۔ جو حکمران ان حدود اللہ کا اجراء نہیں کرتے وہ دائرہ اسلام سے باہر ہیں ‘ ظالم اور فاسق ہیں!جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے ۔ (المائدہ ۴۴؍۴۷) اس دور میں اس بات کو ایک فلسفے کا روپ دیا جاچکا ہے کہ مجرم پیشہ لوگ کسی ذہنی بیماری کی وجہ سے اس قسم کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہیں سخت سزائیں دینے کی بجائے انہیں تربیت دی جائے اور انہیں اصلاح کا موقعہ ملنا چاہئے۔ اس شیطانی فلسفے کی وجہ سے آزاد معاشرے زناکاری ‘ اور بدمعاشی کے گڑھ بن چکے ہیں ۔ کسی شریف آدمی کی جان و مال یا عزت محفوظ نہیں رہی اور یہ فلسفہ آج یورپی قوانین کی بنیاد ہے !
اسلامی حدود کو وحشیانہ کہنے والوں کانفاق
دوسری بات یہ بھی محسوس ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ اسلام دشمنوں کے ساتھ ساتھ مغربی فکر سے متاثرمنافق مسلمان بھی اسلامی حدود کے اجراء کووحشیانہ سزائیں کہیں گے۔ ان بدکاروں کے نزدیک گویا اللہ تعالیٰ جس نے انہیں اپنی حدود قرار دیا ہے۔ وہ عادل نہیں ہے۔ ان کے دلوں میں ان مجرموں ‘ انسان نما ان درندوں ‘ چوروں ڈاکوؤں ‘ سمگلروں ‘ قاتلوں کیلئے تو رافت و رحمت ہے لیکن ان درندوں کے ہاتھوں تباہ ہونے والے گھرانے ‘ یتیم بچے بیوہ عورتیں مستحق رحم نہیں ہیں۔ ان کے دکھوں کا کوئی مداوا نہیں ہوسکتا۔ چوروں زانیوں ‘ ڈاکوؤں اور جرم پیشہ لوگوں کے ساتھ ان منافقوں کے جذبہ رأفت و رحمت کا یہ حال ہے کہ یہ لوگ خالق کائنات اور رب رحمن و رحیم سے بھی زیادہ مہربان بن گئے ہیں کہ ان کا ہاتھ کاٹنے اور ان کو کوڑے مارنا انہیں ایسے لگتا ہے جیسے ان کی پیٹھ پر برس رہے ہوں۔ لیکن ان مجرموں کے ہاتھوں برباد ہونے والے خاندانوں کی مظلومیت پر انہیں کوئی ترس نہیں آتا۔اسلامی حدود کے اجرا سے پہلو تہی کرنے والوں کی غفلت کے باعث امن و امان اور حفظ مال و جان ‘ یاچادر و چاردیواری کے تقدس کی پامالی کا عالم یہ ہے کہ آئے دن بلامبالغہ ہزاروں جانیں اور آبروئیں نہایت بے دردی اور بے رحمی سے غنڈوں اور بدمعاشوں ‘ وڈیروں اور جاگیرداروں کے ہاتھوں برباد ہوتی ہیں۔چونکہ اسلامی حدود کا قانون نہیں ہے اس لئے چار دن اخبارات میں شور مچتا ہے پھر ان کا کوئی پرسان ِ حال نہیں ہوتا ! حالانکہ اگر اس قسم کے منافق لوگ اس معاشرہ کو دیکھ لیں جہاں یہ حدود اللہ جاری وساری ہیں ! وہاں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں !یہ صرف اسلامی حدود و تعزیرات کے نفاذ کی برکت ہے !۔ اس لئے حدود اللہ کی پامالی پر جو سزائیں اللہ ارحم الراحمین نے تجویز کی ہیں۔ انہیں پبلک میں مسلمانوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں دئیے جانے کی ہدایت کی ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت ہو۔ اگر جیلوں کی کوٹھڑیوں میں چپ چپاتے دے دی جائیں تو ان کی یہ مصلحت فوت ہوجاتی ہے۔ امام ابن کثیر نے نصر بن علقمہ کایہ قول بھی نقل کیا ہے کہ جماعت کی موجودگی میں سزا دینے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ وہ ان لوگوں کیلئے جن پر حد جاری کی جارہی ہے دعائے مغفرت و رحمت کریں۔
رجم کی سزا
اسلام میں غیر شادی شدہ سے زنا کے ارتکاب پرسزا کوڑے مارنا ہے اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں سنگسار کرنا ہے۔ سورہ نور میں زنا کی جو سزا مقرر کی گئی ہے وہ دراصل محض زنا کی سزا ہے ۔شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کے ارتکاب کی سزا نہیں ہے جو اسلامی قانون کی نگاہ میں سخت ترجرم ہے ۔ یہ بات خود قرآن سے معلوم ہوتی ہے کہ یہاں اس زنا کی سزا بیان ہوئی ہے جس کے فریقین غیرشادی شدہ ہوں ۔ سورہ نساء میں اسے دو طرح بیان کیا گیا پہلے ارشاد ہوا:تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کریں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو اور اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یااللہ ان کیلئے کوئی راستہ نکال دے۔(آیت ۱۵)اورسورہ نور کا یہ حکم یہی وہ راستہ ہے جس کے نکالنے کاسورہ نساء میں وعدہ کیاگیاتھا۔خود نبی ﷺ نے یہی الفاظ استعمال فرمائے جیسا کہ مسلم ابوداود،ابن ماجہ ترمذی وغیرہ نے حضرت عبادہ بن صامت سے روایت کیاکہ نبی ﷺ نے فرمایا:۔ مجھ سے لو مجھ سے لو اللہ نے زانیہ عورتوں کیلئے طریقہ مقرر کردیا ہے ۔ غیرشادی شدہ مرد کی غیر شادی عورت سے بدکاری کیلئے سو کوڑے اورایک سال کی جلاوطنی اورشادی شدہ مرد کی شادی شدہ عورت سے بدکاری پر سو کوڑے اور سنگساری ہے۔اس حدیث کے پیش نظر بعض فقہاء اس امر کے قائل ہیں کہ رجم کے ساتھ سو کوڑے بھی لگائے جائیں لیکن یہ خاص احوال ہوگاورنہ سوکوڑے غیرشادی شدہ کیلئے اور شادی شدہ کیلئے صرف رجم ہی کافی ہوگا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا ۔گویاسورہ نساء کی آیت ۱۵ میں بتایاکہ غیرشادی شدہ لوگوں کے ارتکاب زنا کی سزا کیاہے ۔جبکہ سورہ نساء ہی میں مذکورہ آیت کے چند آیات کے بعد ارشاد ہوا تھا:
’’اورتم میں سے جو لوگ اتنی طاقت نہ رکھتے ہوں کہ محصنات مومنہ عورتوں سے نکاح کریں تو وہ تمہاری مومنہ عورتوں سے نکاح کرلیں۔۔۔۔پھر اگر وہ لونڈیاں محصنہ ہوجانے کے بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو محصنات کو ایسے جرم پردی جائے ۔(آیت ۲۵)یہاں شادی شدہ عورت مراد نہیں ہے بلکہ آزاد خاندان کی بن بیاہی عورت ہے۔ گویاشادی شدہ سے جرم کاارتکاب ہوجائے تو اس کی سزا اور ہے ۔جو قرآن نے متعین نہیں کی بلکہ حدیث و سنت سے معلوم ہوتی ہے ۔اور وہ ہے رجم کرنا،سنگسار کرنا۔یہ سزا خود رسول اللہ ﷺ نے بیان بھی فرمائی اور عملاً نافذ بھی کی تھی۔ نہ صرف آپ نے بلکہ خلفائے راشدین نے بھی اپنے اپنے دور میں اسے نافذ کیاتھا۔یاد رہے کہ صحابہ کرام اورتابعین میں یہ مسئلہ بالکل متفق علیہ تھا۔ کسی ایک شخص کابھی کوئی قول اس کی مخالفت میں موجود نہیں ہے ۔تا بعین کے بعد تمام زمانوں اورملکوں کے فقہائے اسلام اس بات پر متفق رہے ہیں کہ یہ ایک سنت ثابتہ ہے ۔ (جاری ہے)
تازہ ترین