آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جے آئی ٹی نے اختیارات سے تجاوز کیا، عام سی انکوائری، پیچیدگیاں پیدا کیں، ہم رپورٹ کے پابند نہیں، جرم بنتا ہے یا نہیں یہ ہم طے کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا نام ای سی ایل میں، ان کی عزتِ نفس مجرو ح کی گئی، بلاول ’معصوم‘ وہ تو اپنی ماں کا مشن آگے بڑھا رہا، جے آئی ٹی نے بلاول کو بدنام کیا، رپورٹ کا وہ حصہ ’ڈیلیٹ‘ کر دیں جس میں بلاول کا نام، یہ ریمارکس منی لانڈرنگ کیس کے دوران دیئے محترم چیف جسٹس نے، بلاول، مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے کر چیف جسٹس نے جے آئی ٹی سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا ’’احسان صادق صاحب آپ کا کام صرف تفتیش تھا، جے آئی ٹی رپورٹ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں‘‘، جے آئی ٹی کی 16ریفرنسز دائر کرنے کی سفارشات مسترد، آصف زرداری، فریال تالپور، انور مجید سب جائیداد ضبطگی سے بچ گئے، زرداری صاحب کی خوش نصیبی کہ نااہلی سمیت کوئی سخت فیصلہ نہ آیا، آصف زرداری کی صرف 5جائیدادیں ڈکلیئر، حالانکہ ان کی صرف اندرونِ سندھ ہی 61جائیدادیں، چیف جسٹس نے کیس نیب کو بھیجتے ہوئے کہا ’’نیب دو ماہ میں مزید تفتیش کرے‘‘۔

چونکہ فیصلہ عدالت کا، مجھے اپنی عدالتوں کا ہر فیصلہ قبول، لیکن سچ یہ کہ منی لانڈرنگ عام سی انکوائری نہیں، یہ کرپٹ ایلیٹ کی ہولناک، خوفناک، شرمناک انکوائری، سچ یہ بھی کہ جو الزامات مراد علی شاہ پر، اگر 10فیصد بھی سچ نکلے تو پھر عزتِ نفس مراد علی شاہ کی نہیں پاکستان کی مجروح ہوئی، یہ بھی سچ کہ اختیارات سے تجاوز جے آئی ٹی نے نہیں آصف زرداری اینڈ کمپنی نے کیا، کیا عوام نے ان کو انہی کاموں کیلئے ووٹ دیئے تھے یا یہ یہی کچھ کرنے آئے تھے، مان لیا بلاول کا مبینہ کرپشن، لوٹ مار سے تعلق نہیں ہو گا مگر گزشتہ 10برس سے بلاول ماں کے کس مشن میں اتنا گم کہ جعلی اکاؤنٹس، منی لانڈرنگ، شوگر مل مافیا، ہنڈی، حوالہ داستانیں، پانچ براعظموں میں بنتی جائیدادوں کا اسے پتا ہی نہ چلا، بلاول کی اپنی گزشتہ 10سالہ کارکردگی دیکھیں تو چند خوبصورت تقریروں کے علاوہ صفر بٹا صفر، بی بی مشن تو چھوڑیں، گزشتہ 10سال میں بلاول کا کوئی ایک ایسا منصوبہ نہیں جس سے محروم، بے بس سندھیوں کی زندگیوں میں بہار آئی ہو، بلاول اگر خفیہ خفیہ بی بی صاحبہ کے مشن پر لگا ہوا تو یہ علیحدہ بات، ورنہ بلاول کا عملی طور پر کوئی ایک کام بھی نظر نہ آئے۔

پھر حیرت یہ بھی کہ بلاول نے کبھی اپنے والد محترم سے نہ پوچھا کہ ہمارے پاس اتنا پیسہ، جائیدادیں کہاں سے آ گئیں، انور مجید سے ایان علی تک یہ کون لوگ، ہمارے اتنے قریب کیوں، کیا یہ سب بھٹو کے ساتھی یا بی بی کے جیالے، یہ اومنی اومنی کیا، کیا واقعی اومنی گروپ کے 98فیصد اثاثے ہمارے 10سالہ اقتدار کے دوران بنے، یہ تاثر کیوں کہ سندھ کا اصل حکمران انور مجید اینڈ گروپ، ہم اومنی گروپ کے وسائل، جہاز کیوں استعمال کرتے ہیں، ہمارے سارے گھروں کا خرچہ اومنی گروپ کیوں اٹھائے ہوئے، چلو پچھلی باتیں رہنے دیں، جے آئی ٹی رپورٹ پڑھنے کے بعد بھی اگر معصوم بلاول نے والد محترم سے کچھ نہیں پوچھا تو پھر نہ بلاول معصوم اور نہ اپنی ماں کا مشن جاری رکھے ہوئے۔

یہ بھی سن لیں، پانامہ جے آئی ٹی بنی تو کچھ عرصہ بعد جے آئی ٹی کے پانچوں اراکین نے سپریم کورٹ کو تحریری درخواست دے دی کہ ’’نامعلوم افراد ہمارا پیچھا کر رہے، ہمیں دھمکیاں مل رہیں، ہمارے خاندانوں کی زندگیوں کو خطرہ، سیکورٹی فراہم کی جائے‘‘، سپریم کورٹ نے ان اراکین کو رینجرز سیکورٹی مہیا کی، اب منی لانڈرنگ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد نہ صرف جے آئی ٹی اراکین بلکہ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی کے جے آئی ٹی معاونین اور گواہوں سمیت 54افراد سپریم کورٹ میں یہ تحریری درخواست دے چکے کہ ’’ہماری اور ہمارے خاندان کی جانوں کو خطرہ، ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے‘‘، یہ ہے ہمارا پو لیٹکل مافیا، ویسے تو انہیں گاڈ فادر، سسلین مافیا کہہ دو تو چیخ چیخ کر آسمان سر پر اُٹھا لیں مگر حرکتیں، کرتوت اور سوچ گاڈ فادروں کے بھی والد محترم والی، لیکن بات وہی کہ جہاں نوگو ایریاز ہوں، سپریم کورٹ پر حملہ ہو چکا ہو، جج نظر بند رہ چکے ہوں، اہم کیسوں کے ر یکارڈ جلائے، چرائے جا چکے ہوں، بوری بند لاشیں، بھتے، تاوان، ٹانگوں سے بم باندھ کر رقمیں وصول ہو چکی ہوں، دن دہاڑے سڑکوں پر خلقت ماری جا چکی ہو، سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سے سانحہ ماڈل ٹاؤن تک ہو چکا ہو، ذاتی جیلیں، نجی ٹارچر سیل عام بات ہو، گلی گلی، محلے محلے بابے لاڈلے اور منشا بم موجود ہوں، جہاں نہال ہاشمی ججز کو عرصہ حیات تنگ کرنے کی دھمکی دے رہے ہوں، جہاں نواز شریف سے آصف زرداری، شہباز شریف سے بلاول تک سب صبح و شام کہہ رہے ہوں، ہم سے اثاثوں، جائیدادوں کے سوال کرنے والو، ہم سے حرام، حلال کا پوچھنے والو، سنو، ہم ہمیشہ کیلئے آئے، تم تین تین سال والے، اوئے بے وقوفو ہوش کرو، اتناہی کرو، جتنا سہہ سکو، اندھو، گونگو، بہرو، ابھی بھی وقت سنبھل جاؤ، ورنہ پچھتاؤ گے۔

قصہ مختصر جہاں پولیٹکل ایلیٹ ایسی طاقتور کہ ادارے کچھ بگاڑ نہ سکیں، جج صاحبان کو سرعام دھمکیاں ملیں، چیئرمین نیب، جے آئی ٹی ارکان کو سرعام دھمکایا جائے، قدم قدم پر ڈیل، ڈھیل ملے، اسٹے پر اسٹے، ضمانتوں پر ضمانتیں اور نت نیا ریلیف ملے، وہاں احتساب کی بات مخول (مذاق) لگے، یہ مخول پہلے بھی ہوا اور یہ مخول ایک بار پھر آج کل ہو رہا، ان دنوں تو ایسا مخولیا احتساب کہ بلاول معصوم، مراد علی شاہ کی عزتِ نفس ملک سے بڑی، شہباز شریف کی اسیری منسٹر کالونی کے بنگلے میں، قیدی نواز شریف کو وہ سہولتیں حاصل جو 95فیصد آزاد پاکستانیوں کو بھی میسر نہیں، ایسا مخولیا احتساب کہ جب جی چاہے قومی اسمبلی یا پی اے سی کا اجلاس بلا کر سرکاری خرچے پر جیل سے سیدھے اسمبلی ہال پہنچو، اخلاقی بھاشن جھاڑو اور دو چار دن کی انجوائے منٹ کے بعد اگلے اسمبلی اجلاس تک واپس جیل، حوالات میں، ایسا مخولیا احتساب کہ جیلوں میں بیڈ، گدے، کمبل، ہیٹر، ٹی وی، اخبارات، گھر کے کھانے، مرضی کی ملاقاتیں، پارٹی صدارتیں، فزیو تھراپیاں، روزانہ ڈاکٹری معائنے، صبح و شام واک، اب بتائیے اس ’مخولیے احتساب‘ سے بھلا کیا نکلے گا، یہ تو ایسا گدگدیوں بھرا احتساب کہ بندہ ہنس ہنس کر پاگل ہو جائے، اندازہ کریں اس مخولیے احتساب کی برکتیں کہ ملزم، مجرم دندناتے پھر رہے جبکہ چیئرمین نیب سے جے آئی ٹی ارکان تک سب کو جان کے لالے پڑے ہوئے، نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر سمیت ہر ادارے پر ایسی منظم چڑھائی کہ ادارے ملزموں، مجرموں کو صفائیاں دے رہے، کہیں لکھ کر رکھ لیں کہ یہ مخولیا احتساب اگلے سو سال تک بھی جاری رہے، تب بھی لٹیروں نے کچھ ماننا نہ لٹا مال واپس ملنا۔