صحرائے تھر میں چلنے والی سرد ہوائوں نے سردی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے، سردی بڑھنے کے ساتھ علاقہ مکینوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں ۔
تھر کے صحرا میں پہلے ہی سردی نے قحط زدہ مکینوں کو مشکلات میں مبتلا کر رکھا تھا کہ گزشتہ دو روز سے چلنے والی تیز اورسرد ہوائوں نے سردی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے، اب سردی ہے اور بھوک پیاس کے مارے مکینوں کا حوصلہ ہے۔
اکثر دیہی علاقوں میں مکینوں کو پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں ہوتا، گرم کپڑے کہاں سے آئیں؟
تھر کی خواتین کے لیے پہلے ہی پانی کا حصول بہت مشکل اور ضروری تھا، اب جنگل اور ویرانوں سے خشک لکڑیاں اکٹھی کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہو گئی ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ موسمی امراض بھی پھوٹ پڑے ہیں جن کے متاثرین میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے ۔
تھر کے اسپتالوں میں قحط، غذا و پانی کی کمی، غربت اور بیماریاں پہلے ہی انسانی جان کی دشمن بنی ہوئی ہیں اور آئے دن وہاں معصوم بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھورہے ہیں ، اب رہی سہی کسر سرد موسم کی سختی نے پوری کر دی ہے۔
تھر کے باسی جو گرمیوں میں جھلسا دینے والی دھوپ، گرم ہواؤں سے لڑتے ہیں، اب ان سے موسم سرما میں چلنے والی سرد ہوائیں بھی امتحان لے رہی ہیں۔