جان نثاران نبی کریم رئوف الرحیمﷺ کی ایمان افروز داستان بڑی قدیم اور بہت طویل ہے۔ مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں ایک بدمست اور بدزبان سردار کعب بن اشرف اپنی حویلی میں رہتا تھا، وہ گستاخی رسول میں اس قدر بڑھ گیا کہ میرے آقا کریمﷺ نے ایک دن خواہش ظاہر فرمائی کہ ’’کوئی اس شخص کا خاتمہ کر دے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے‘‘۔ اس مالدار اور شخصی وجاہت والے شخص کو جو اپنے علاقے کا بہت بڑا سیاسی لیڈر تھا بڑا گھمنڈ تھا، اس کا تعلق دو مشہور قبیلوں سے تھا، اس کا باپ اعرابی تھا جس کا تعلق بنو ہنہان سے تھا اور ماں بنونظیر سے تعلق رکھتی تھی۔ مدینہ منورہ کے جنوبی علاقے میں ایک قلعہ نما حویلی میں ہر وقت محافظین (سیکورٹی گارڈز) کے حصار میں رہتا تھا۔ اس نے نبی کریمﷺ کو شہید کرنے کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ آپﷺ کو اس کے ارادے کے متعلق معلوم تھا لیکن آپ پیغمبرانہ شان کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے۔ حضرت جبرئیل کو میرے آقا کے علاوہ اور کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام جب تک اس گستاخ رسول کے گھر میں رہے حضرت جبرئیل نے اپنے پر تان کر میرے آقا اور گستاخ رسول اور اس کے ساتھیوں کے درمیان دیوار کھڑی کر رکھی نہ وہ میرے آقا کو دیکھ سکتے تھے اور نہ ہی اپنے عزائم میں کامیاب ہو سکے۔ نبی کریمﷺ نے جب مدینہ منورہ میں اپنے جاں نثاروں سے دریافت فرمایا ’’کون ہے جو کعب کو قتل کرنے کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہتا ہے؟‘‘ یوں تو بہت سے غلامان مصطفیٰ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس حکم کی تعمیل کیلئے تیار تھے لیکن محمد بن مسلمہ نے اکیلے یہ کام کرنے کی خواہش ظاہر کی تو میرے آقا نے اس جاں نثار کو کعب کو قتل کرنے کی مہم کی قیادت کی اجازت دے دی اور انہیں اس سلسلے میں سعد بن معاذ سے مشورہ کرنے کا حکم دیا۔ آپ نے عباد بن بشر اور ابو نائلہ کو بھی اعتماد میں لینے کا حکم دیا۔ محمد بن مسلمہ نے اپنی حکمت عملی کے تحت سب سے پہلے کعب بن اشرف کا اعتماد حاصل کیا اور حضور علیہ السلام کی اجازت سے وہ کعب بن اشرف کے ہاں آنے جانے لگے تاکہ وہاں کی صورتحال اور اس کی سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ کعب بن اشرف حیران تھا کہ ایک صحابی رسولﷺ کس طرح میرا اچانک دوست بن گیا ہے لیکن یہ ایک چال تھی جس کی میرے آقا علیہ السلام نے پہلے سے اجازت دے دی تھی۔ اس دوستی کی وجہ سے محمد بن مسلمہ اور ابو نائلہ کو جب کعب بن اشرف کا اعتماد حاصل ہوگیا تو وہ بلاجھجک اس کی حویلی میں آنے جانے لگے۔ دراصل وہ اس کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتے تھے اور مناسب وقت کی تلاش میں تھے۔ یہ ماہ ربیع الاول تھا، ہجرت کے تیسرے سال چودہویں رات کی چاندنی میں میرے آقاﷺ کی عزت و ناموس کے لئے اپنے آپ کو قربان کرنے اور گستاخ کو ختم کرنے والا یہ کمانڈوز دستہ آقا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور مہم کی کامیابی کے لئے دعا کی درخواست کی۔ حضور ان جانثاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے شہر سے باہر بقیع کے علاقے تک ان کے ساتھ تشریف لے گئے اور وہاں سے ان کو رخصت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’تمہیں اللہ کی حفاظت میں دیا، وہی تمہاری مدد فرمائے گا۔ اس کے بعد آپ حجرہ مبارک میں تشریف لائے اور مصلے پر سجدہ ریز ہوگئے اور مسلسل اپنے ان جاں نثاروں کی کامیابی اور بحفاظت واپسی کے لئے دعا فرماتے رہے۔ کعب بن اشرف کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ حجلہ عروسی میں اپنی نوبیاہتا دلہن کے پاس تھا کہ اسے ابو نائلہ کی آواز سنائی دی جو حویلی کے باہر سے کعب بن اشرف کو صدائیں دے رہے تھے۔ وہ جلدی سے اٹھا تو اس کی دلہن نے اس کو روک دیا اور کہا کہ ان آوازوں سے مجھے خون ٹپکتا ہوا نظر آرہا ہے لیکن کعب نے کہا ’’تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں یہ تو میرا بھائی ابو نائلہ ہے اور میرا منہ بولا بھائی محمد بن مسلمہ بھی اس کے ساتھ ہے۔ شاید انہیں اس وقت میری مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ کعب نے باہر نکل کر پوچھا اس وقت کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے کہا اگر تم ہم پر اعتماد کرتے ہو عجوز کی پہاڑی گھاٹی میں ہمارے ساتھ چلو تم سے کچھ ضروری باتیں کرنا ہیں‘‘۔ وہ ساتھ چل پڑا۔ اس وقت کوئی حفاظتی دستہ اس کے ساتھ نہیں تھا وہ آپس میں گفتگو کرنے لگے۔ ابو نائلہ نے کہا ’’خوشبوئوں کے حوالے سے تمہارے ذوق کی داد دینا پڑتی ہے اگر تمہیں برا نہ لگے تو قریب آکر تمہارے سر میں استعمال ہونے والی خوشبو کو سونگھ لوں؟ ابوکعب نے کہا بالکل اجازت ہے، آئو سونگھ لو‘‘ جونہی ابو نائلہ کعب بن اشرف کے قریب ہوئے تو اس کے بالوں کو سونگھتے کے بہانے اس کے لمبے لمبے بانوں کو سختی سے اپنے شکنجے جیسے ہاتھ میں جکڑ لیا اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن کو چھوڑنا نہیں۔ اس کو ختم کردو‘‘۔ کعب زور زور سے چیخنے لگا، مسلمان جانثاوں نے یکبارگی تلواروں سے اس پر حملہ کر دیا لیکن وہ ابھی مرا نہیں تھا، محمد بن مسلمہ نے کدال اٹھائی اور اس زور سے اس کو مارا کہ وہ کعب کے سینے کو چھلنی کرتی ہوئی زمین میں پیوست ہوگئی۔ اس کے سر کو کاٹ کر جاں نثاران رسول مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جیسے وہ بقیع کے قریب پہنچے تو انہوں نے بلند آواز سے نعرہ لگایا۔ میرے آقا علیہ الصلوۃ والسلام ابھی تک مصلے پر اپنے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے جاں نثاروں کی بحفاظت واپسی کے لئے دعائیں فرما رہے تھے۔ اپنے جاں نثاروں کا نعرہ مستانہ سنا تو آقا کو یقین ہوگیا کہ بدبخت کعب کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا۔ آپؐ نے مصلے پر تشریف فرما ہوتے ہوئے نعرے کا جواب دیا اور پھر آپؐ ؐجانثاروں کا استقبال کرنے کیلئے باہر تشریف لائے اور انہیں کامیاب دیکھ کر دعا دی کہ یا اللہ یہ چہرے ہمیشہ کامیاب رہیں‘‘۔ غلاموں نے آقا کی یہ دل نواز دعا سنی تو وہ سب پکار اٹھے ’’یارسول اللہ آپ کا چہرہ مبارک اسی طرح پرنور رہے‘‘۔ تاریخ اسلام سے واضح ہوتا ہے کہ غلامان رسولﷺ کے چہرے ہمیشہ پرنور اور کامیاب رہتے ہیں۔ برٹش ایمپائر کے دور میں جب لاہور میں ایک گستاخ ہندو راج پال نے شان رسالتﷺ میں گستاخانہ کتاب لکھی تو ایک نوجوان علم الدین نے جسے تاریخ غازی علم الدین شہید کہتی ہے اس گستاخ کو قتل کر دیا۔ علامہ محمد اقبال اس سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے اور واپسی پر بے ساختہ روتے اور کہتے تھے۔ اسی گلاں کردے رہے تے مُنڈابازی لے گیا‘‘۔ ہم باتیں کرتے رہے اور نوجوان بازی لے گیا۔ اس کو پھانسی دیئے جانے کے بعد وہ دو ہفتوں بعد میاں والی جیل سے اس کی تروتازہ نعش لائے اور ایک عظیم اجتماع میں لاہور میں اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مقام اور آپؐ کے نظام کے لئے جو قربانیاں دیتے ہیں وہ شہید ہوتے ہیں اور شہید مرتے نہیں زندہ رہتے ہیں۔ بھٹو دور حکومت میں جو حکومتی کارندوں کے مظالم بڑھے اور مساجد میں مذہبی لوگوں کی بے عزتی کی گئی اور ان کو داڑھیوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا تو پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ علامہ سید احمد سعید کاظمی نے فتویٰ دیا کہ اس تحریک نظام مصطفیٰ میں جو بھی حکومتی اہلکاروں کے تشدد سے فوت ہوگا وہ شہید ہوگا۔ بلاشبہ لوگوں نے اس تحریک میں جان قربان کرنے کی لازوال داستان رقم کی۔ غازی علم الدین شہید سے غازی ممتاز قادری شہید کی داستان تاریخ کا ایک تسلسل ہے، شہیدوں کے جنازے بھی تاریخ سازہوتے ہیں۔