آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسان کا پہلا مسکن غار تھا،جو کہ ایک محفوظ ٹھکانہ تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ غار سے نکل کر کھلے میدانوں میں آیا اور اپنے لیے جھونپڑیاں بنائیں۔ پھر جب کھلے آسمان تلے بانس، لکڑی اور گھاس کے گھروندے اسے محفوظ ٹھکانہ لگے تو طرز تعمیر کے ایسے شاہکار سامنے آئے کہ پھر انسان نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ تعمیراتی شاہکاروں پر ایک نظر ڈالی جائے تو انسان نے پہاڑوں کوکاٹ کر عظیم الشان پیٹرا جیسے محلات تعمیر کیے اور بابل کے معلق باغات بنائے۔ اس کے علاوہ دنیا کے عجائبات اور بہت سی قدیم و تاریخی عمارتوں کے نقوش آج بھی موجودہیں۔انسان کے قدیم و جدید تعمیراتی عجائبات عالم انسان کی فن تعمیرات کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔

خوبصورت طرز تعمیر کے لیے انسان نے تعمیراتی مٹیریل کے طور پر مٹی اور گارے، لکڑی، سرخ پتھر، سنگ مرمر، موزائیک، ٹائلز، کنکریٹ، گلاس اور اسٹیل کا استعمال کیا۔ ان مٹیریل کو استعمال کرتے ہوئے جب تعمیرات کی گئیں تو ایک سے ایک شاہکار بنتے چلے گئے۔ چین، بابل و نینوا، مصر، یوکتان، شام، یونانی، رومی اور عربی طرز ہائے تعمیرات نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ بیسویں صدی نے جدید تعمیرات کی صورت حیرت کدے تعمیر کئے۔ فطرت سے اخذ کردہ تعمیراتی مواد سے انسان نے عجائبات عالم کی بنیاد ڈالی اور پھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہا۔

اس وقت ہم ماحول دوست اور سانس لیتی عمارات کے دور میں جی رہے ہیں، جہاں آرکیٹیکچراور ڈیزائن میں شیشے اور اسٹیل کا دانشمندانہ استعمال انسان کو حیرت میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ بلٹ پروف گلاس ٹاورز جیسی فلک بوس عمارتیں، اڑن طشتری و آبشار کے خمیدہ ڈیزائن اس زمین کے طرز تعمیر نہیں لگتے۔ مستقبل میں تعمیراتی شعبے میں موجودہ مٹیریلز کے استعمال کے علاوہ انوکھے مٹیریل بھی متعارف کرائے جائیں گے تاکہ جدت بھی آئے اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافے سے بھی بچا جاسکے۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے، وہ وقت دور نہیں جب پلاسٹک کے مکانات کے ساتھ آپ کوبرقی کاٹھ کباڑ سے بنائے گئے خوبصورت ٹیک دفاتر اور ٹاورز حیران کرتے نظر آئیں گے۔ برقی کاٹھ کباڑ کو ٹھکانے لگانے کا یہ تصور فیوچر آرکیٹیکچر سے وابستہ ہے۔

برقی کاٹھ کباڑ (E-waste)

2016 ء تک44.7ملین میٹرک ٹن برقی کاٹھ کباڑ جمع ہوا، جو تقریباً 4.5ایفل ٹاورز کے مساوی ہے۔ اب اتنے بڑے کاٹھ کباڑ کو کیسے ٹھکانے لگایا جائے؟ یہیں سے یہ تصور سامنے آیا کہ بےکار ہارڈ ویئر اور مدر بورڈزکے اس ذخیرے کو نئے مستحکم تعمیراتی مٹیریل کے طور پر استعمال کیا جائے۔ ٹیکنالوجی صرف ہارڈ ویئرز تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں باڈی انٹرفیس بھی شامل ہیں، جن پر ہارڈ ویئر لگائے جاتے ہیں۔ ان ہی ہارڈ ویئرز اور مدر بورڈز کو نئے تعمیراتی مٹیریل کے طور پر استعمال کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ مدر بورڈز، عمارت کی بنیاد، گرائونڈ اور پبلک مقامات کے لئے استعمال ہوں گے، جنہیں کسی بھی تعمیراتی صورت میں ڈھالنے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہیں مربع اور سیدھی شکل میں گرائونڈ فلور پر اس طرح بچھایا جائے گا کہ یہ ستون، دروازوں، کھڑکیوں اور دیواروں کا کام دیں گے۔ ڈیجیٹل کنکشن سے پوری عمارت حقیقی معنوں میں اسمارٹ سٹی کا سماں پیش کرے گی۔ برقی کاٹھ کباڑ کے ابتدائی ماڈل حیران کن ہیں۔ ہارڈ ویئر کو ٹرانسپرنٹ گوند(Resin) کے ساتھ ملاکر ٹائلز کا کام لیا جائے گا۔ بےکار ہونے والے برقی کاٹھ کباڑ کو کاٹ کر دیواروں، ستونوں، دروازوں، کھڑکیوں اورراہداریوں کی شکل میں اس طرح جوڑا جائے گا کہ الیکٹرانک گھر اورآفس کی مکمل تصویر اُبھرکر سامنے آئے گی۔

اس کا جیتا جاگتا ثبوت کورین پویلین ایکسپو ہے، جسے مکمل طور پر برقی کاٹھ کباڑ سے بنایا گیا۔ یہ نیا ای ویسٹ آرکیٹیکچر ٹیک کمپنیوں کے لئے کسی عجوبے سے کم نہیں۔ اس پویلین کو 20خالص ہارڈ ویئر سرکٹس سے تیار کیا گیا۔ اس کے کامیاب اطلاق کے بعد جمع ہونے والے برقی کاٹھ کباڑ کو مستقبل میں تعمیرات کیلئے استعمال کرنے کی راہیں ہموار ہوگئی ہیں۔ اس کے بعد یہ سوال ختم ہوجائے گا کہ برقی کاٹھ کباڑ کو سمندر برد کیا جائے، زمین بوس کیا جائے یا پھر جلا دیا جائے۔ برقی کاٹھ کباڑ کو ری سائیکل کر کےتعمیراتی ماڈلز میں تبدیل کرنے کی یہ کورین کاوش، امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک کو انگشت بدنداں کئے ہوئے ہے کہ کہیں ٹیکنالوجی کا مرکز ہم سے چھن کرایشیا میں تو منتقل نہیں ہورہا۔ کوریا، چین اورجاپان نے جس طرح موبائل مارکیٹ میں ڈرون اسمارٹ فونز اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس اور کوانٹم کمپیوٹر بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے، وہ وقت دور نہیں جب آئی ٹی کے حکمران ایشیائی ہوںگے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں