آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر:حافظ عبدالاعلیٰ درانی… بریڈفورڈ

(قسط نمبر 35)

نظم کائنات بامر ربانی رواں دواں ہے

ایمان باللہ کی اہمیت اس حقیقت سے بھی عیاں ہے کہ یہ کائنات کوئی الل ٹپ چیز نہیں ہے، بلکہ دست قدرت ہر جگہ اور ہر لمحہ کارفرما ہے ۔انسانی محسوسات اور مشاہدات تو اس کے علم و قدرت کے سامنے تو رتی برابر بھی حیثیت و اہمیت نہیں رکھتے۔قرآن پر ایمان رکھنے والے کیلئے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں ، چیونٹی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کو پہچان لیا تھا وہ آپ کے نام سے بھی واقف تھی ،اس نے اپنی قوم کو آنے والے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے جو تقریر کی وہ بھی قرآن مجید میں موجود ہے ۔چیونٹی کے علاوہ ھد ھد کی تقریر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ پھر اسی واقعہ میں ایک مرد صالح کاپل بھر میں یمن سے ملکہ بلقیس کاتخت یروشلم لے آنا بھی قرآن کریم کی ایک ہی سورہ {النمل} سے ثابت ہے ۔ سورہ الکہف میں حضرت خضر علیہ السلام کے ایک بچے کو قتل کردینے اور ایک گرتی دیوار کو نیا بنادینے کا ذکر بھی ہے جس کا سبب انہوں نے خود ہی بتایاکہ یہ کام میں نے بامر الہی کیے ہیں ۔قتل ہونے والا بچہ اگر زندہ رہتا توماں باپ کو کفر میں لیجاتا اوراس دیوار کے نیچے یتیم بچوں کا مال تھا اور ان کا مرحوم باپ بہت صالح تھا ۔ اس لیے اللہ عزوجل کا فیصلہ تھا کہ اس کو محفوظ

کردیاجائے۔صحیح احادیث کے مطابق جو انسان علم دین حاصل کرنے کیلئے گھر سے نکلتاہے سمندروں کی مچھلیاں ، اور زمین پر بسنے والی جاندار مخلوق اس کیلئے دعائیں کرتی ہیں وغیرہ غرضیکہ کائنات کی سبھی مخلوقات اپنے خالق کی تابعدری میں ہر آن ڈیوٹی دے رہی ہیں۔{الم ترا ان اللہ یسجد لہ من فی السموات ومن فی الارض… سورہ الحج} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کائنات کی مخلوقات حجر وشجر ، شمس وقمراللہ کے حضور سر جھکائے ہوئے ہے ۔{الم تر ان اللہ یسبح لہ من فی السموات ومن فی الارض… سورہ نور} اسی کی تسبیح میں مشغول ہے ۔نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقبل کے بارے بہت کچھ بیان فرمایا وہ سب اللہ کے حکم اور علم سے ہے ۔ کوئی ایک ارشاد بھی جھٹلایا نہیں جاسکا اور نہ جھٹلایا جاسکے گا ۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ ایک وقت آئے گا جب دنیا کی ہر چیز یہود کے خلاف ہوجائے گی اور کسی یہودی کو کہیں پناہ نہیں مل سکے گی ماسوا ایک ’’غرقد‘‘ نامی درخت کے کہ صرف وہی درخت یہودیوں کی حمایت کرے گا ہمدردی جتائے گا انہیں چھپائے گا۔ جیسا کہ صحیح مسلم حدیث نمبر(2838 ) میں ہے۔

غرقد یہودیوں کا خیرخواہ درخت

’’غرقد‘‘ ایک کانٹے دار جنگلی خود رو جھاڑی ہے ۔ اس کی اونچائی چار سے چھ فٹ تک ہوتی ہے ۔ اسے عربی میں عسویج ۔ انگریزی میںBosthronاور یونانی میںLyciumکہا جاتا ہے ۔ اس کی ستر کے قریب اقسام ہیں ۔ ان میں سے Lyciumنامی قسم متحدہ عرب امارات میں کثرت سے پائی جاتی ہے۔ عہد نبوی میں غرقدکی یہی قسم مدینہ اور اطراف مدینہ میں بکثرت موجودتھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکھڑوا دیا تھا ۔ سعودی حکومت اب بھی اس کا پتہ چلنے پر فوراً ختم کروادیتی ہے ۔مدینہ منورہ کے قبرستان ’’جنت البقیع ‘‘کا اصل نام’’ بقیع الغرقد‘‘ اسی لیے تھا کہ جس جگہ یہ قبرستان ہے پہلے غرقد کی جھاڑیوں سے بھرا ہوا جنگل تھا ۔اس کانامLycium.boxthornہے ۔قوم یہود عذاب الٰہی سے ڈرنے کی بجائے اسے پانے کیلئے ہمیشہ مستعد رہی ہے ۔ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ وہ نبی آخر الزمان ﷺ کے ارشاد کے پیش نظر اس درخت کی کاشت میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کو تحفہ میں دیتے ہیں ۔پچھلے چالیس سال میں ایک اندازے کے مطابق(سال2010تک) 30کروڑ درخت لگا چکے ہیں، اسرائیل میں چلنے والی ٹرینوں کے اطراف تقریباً 30سے40کلو میٹر تک لائن پٹڑی کے دائیں بائیں صرف غرقد ہی لگے ہوئے ہیں ۔ ’’جافا‘‘ جہاں دجال نے حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہونا ہے وہاں ابھی سے ’’ غرقد‘‘ کا جنگل لگنے لگا ہے ۔ اس درخت کی تصاویر والی شرٹیں بڑے پیمانے پر تیار کی جارہی ہیں اور نوجوان اندھا دھند انہیں خرید کر پہنتے ہیں اور یہ صرف چالیس سال سے نہیں بلکہ سو سال سے مہم جاری ہے ۔اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ غرقد درخت مسلمان ممالک جن میں انڈونیشیا، ملائشیا، پاکستان اور افغانستان میں بھی کاروباری نقطہ نظر سے کاشت کیا جاتا ہے ۔ ہندوستان میں متعصب تنظیم آر ایس ایس بجرنگ دل صرف مہارا شٹر میں5کروڑ درخت لگانے کا ہدف پورا کر چکی ہے۔جبکہ راجستھان میں بھی اسی مقدار میں درخت لگائے جارہے ہیں ۔اس کے علاوہ ’’جیوش نیشنل فنڈ ‘‘نامی تنظیم ایک کتابچہ بھی طبع کرواکے بڑے پیمانے پر تقسیم کررہی ہے، جس میں یہودیوں سے کہا گیا ہے کہ ’’ جب تم گھرلوٹو تو غرقدکا درخت لگاکر لوٹو‘‘ اور۔ Save the Ghaqad Treeکا نعرہ بھی انہوں نے عام کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے ۔یاد رہے کہ اس تنظیم کے 31فیصد شیئراسرائیل کی ملکیت ہیں ۔ہم جب ’’یافا‘‘ پہنچے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کے قتل کی جگہ کو دیکھا ۔ اس کے بعد پروگرام تھا کہ مسجد خضردیکھنی ہے لیکن ڈرائیور ہاتھ دکھا گیا ۔لندن سے بعد میں آنے والے دوستوں بنیامین وغیرہ کیلئے پروگرام تھاکہ راستے میں آنے والی زیارتیں بھی کروائی جائیں گی۔ ان کی فلائیٹ ہم سے تین گھنٹے بعد کی تھی لیکن واپسی کیلئے الجھن تھی کہ شایدکوئی سواری نہ مل سکے ، یا چیک پوسٹ پر تنگ کیا جائے ، یوں فلائیٹ نہ مس ہو جائے، اس لیے فیصلہ ہوا کہ باقی وقت ائیرپورٹ پر ہی گزارا جائے۔ ایک بجے سے شام چاربجے تک ہم وہیں بیٹھے رہے یہیں ہم نے ظہر وعصر کی نماز باجماعت ادا کی ۔چاربجے ہم لائن میں کھڑے ہوگئے۔ایک عورت سیکیورٹی والی آئی اور ہمارے گروپ کو الگ کرکے سب سے آگے کردیا ہم نے اپنادستی سامان بھی جمع کرادیا۔ یہ وہ واحد اچھا سلوک تھا جو ایک یہودی سیکیورٹی افیسرعورت نے ہمارے ساتھ کیا ۔ورنہ ان کے رویے میں کہیں نرمی ہمیں دیکھنے کونہیںملی ۔ہم نے باقی سامان تو جمع کوادیا، ہاتھ میں صرف کھانے پینے والی اشیاء والا بیگ رکھا تھا۔ ہمارا ساراسامان توبڑی آسانی سے جمع ہوگیالیکن ڈاکٹر یاسین صاحب اور ان کی اہلیہ کے ساتھ وہی معاملہ ہوا جو آتی دفعہ ان کے ساتھ ہوا تھا اور اس کا بڑا سبب ان کی اہلیہ کا حجاب تھا جسے انہوں نے ہمیشہ سنبھالا دیے رکھا حجاب کی وجہ سے انہیںآتے جاتے ستایا گیا کچھ لوگ کہتے تھے کہ نقاب اتارلینا وقت کا تقاضا ہے لیکن انہوں نے کسی کی نہیں سنی اورتمام تکالیف اور نقصانات برداشت کرلیے لیکن نقاب نہیں اتارا کہ میں فاطمہ و عائشہ کی بیٹی ہوں۔انہیں بلا وجہ بٹھا لیا گیا اور فلائیٹ سے کچھ دیر پہلے انہیں جانے کاپروانہ دیا گیا۔ ان کادستی سامان سارے کاساراجو کافی قیمتی تھا قبضے میں لے لیا گیا۔ ہم سب لوگ اس جوڑے کا انتظار کرتے رہے ۔ اتنے میں جہازکی روانگی کا اعلان ہوگیا ہمیں کافی تشویش ہوئی کہ ان کی فلائیٹ ہی نہ مس ہوجائے ورنہ کافی مسئلہ بنے گا۔ جہازکی روانگی کا اعلان ہوتے ہی ہمb2ٹرمینل پر پہنچ گئے اتنے میں ڈاکٹر یاسین صاحب اور ان کی اہلیہ بھی آتے دکھائی دیے ۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ ٹرمینل پر یہودیوں کی بڑی تعداد کو دیکھ کر خیال ہوا کہ ان کی وڈیو بنالی جائے ۔ایک یہودی فیملی کی وڈیوبنائی جارہی تھی اسے خبر ہوگئی جس پر وہ اپ سیٹ ہوامیں نے کہا ائیرپورٹ میں موجود رونق کی وڈیو بنا رہاہوں ۔تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہونا چاہیئے ۔ تو وہ خاموش ہوگیا۔پھرپوچھنے لگاکس ملک سے ہیں بتایا پاکستان سے ۔ کہنے لگا عمران خان کوجانتے ہیں آپ ؟بولا ہمارا تو وہ ہیرو ہے ،اس کے علاوہ ، وسیم خاں، ثاقب، محمد یوسف ، وقار وغیرہ کافی کرکٹروں کے نام اس نے لیے۔ بولا پاکستان کی کرکٹ ٹیم بہت ٹیلنٹڈ ہے اور عمران تو بہت اچھا کھلاڑی تھا۔ اس کی سابقہ بیوی کا تذکرہ بھی ہوا۔ میں نے اسے بتایا کہ عمران خان کی شادی کے بعد پہلا عمرہ1995میں عمران اور اس کی پوری فیملی کو میں نے کروایا تھا اور جدے سے لاہور کا سفربھی ہم نے اکٹھے کیا تھا تو اس یہودی نوجوان نے بڑی عقیدت دکھائی ۔اورمیرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے بتایا میں بھی کھلاڑی ہوں اور مجھے پاکستانی ٹیم اورخاص طور پر عمران سے بہت محبت ہے میں نے کہااس کے اقتدار میں آنے کے چانسز ہیں یا نہیں؟ میں نہیں جانتا لیکن یہ جانتا ہوں کہ وہ بڑا ایماندار اور سادہ مزاج اور لالچ سے ما ورا انسان ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ جیت جائے کیونکہ قوم کرپٹ حکمرانوں سے تنگ آئی ہوئی ہے اسے ایک دیانتدار لیڈر کی سخت ضرورت ہے ۔ وہ یہ سن کر بڑا خوش ہوا ابھی وہ مجھ سے بہت کچھ پوچھنا چاہتاتھا اس نے لاہور کا نام بھی بڑا صاف لیا اس کے ائیرپورٹ کا تذکرہ بھی کیا وہاں کی تاریخی حیثیت سے وہ کافی واقف تھا مجھے خوشی ہوئی اپنے لاہور کی تعریف سن کر اپنے ملک کی تعریف سن کر اپنے ملک کے کھلاڑیوں کی تعریف سن کر۔میرادل چاہا میں اس کی تعریف کروں لیکن وہ تو ایک منٹ بھی مجھے بات نہیں کرنے دے رہا تھا مجھ سے فون نمبر مانگا میں نے بول دیا لیکن دعا کرتارہا کہ وہ مجھے فون نہ کردے لیکن شکر ہوا کہ اس نے مجھے فون نہیں کیا اتنے میں جہاز کی روانگی کا ٹائم ہوگیا اور بورڈنگ شروع ہوگئی وہ اپنی فیملی سمیت ہمارے ساتھ ہی جہاز پر چڑھ آیا میرابڑاجی چاہا کہ وہ میرے ساتھ بیٹھے اور میں اسے فلسطین پر اس کی قوم جو ظلم کررہی ہے اس کی توجہ دلاؤں لیکن اس کا موقع ہی نہ ملا ۔پوری یہودی فیملیاں قطار اندر قطار بیٹھی ہوئی تھی میں نے وہاں سے ہٹنا ہی مناسب سمجھا اور اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا ساڑھے تین بجے جہاز نے ٹیک آف کیا اور میں نے دعائے سفر اونچی آواز میں پڑھی تو اردگرد بیٹھے یہودی مسافر چونک گئے ایک نے مطلب پوچھا میں نے بتایا جس پر وہ بڑا خوش ہوا بولا واقعی مسلمان اپنے رب کو ہر موقع پر یاد رکھتے ہیں۔ مانک ائیرلائن برٹش فلائیٹ ہے ۔ راستے میں کئی لوگوں سے بات چیت ہوتی رہی ، جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ بات چیت کرتے رہنا چاہیئے اس سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں ۔ بلکہ بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو یہودی ہونے کے باوجود اہل فلسطین کے بارے نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔پانچ گھنٹے کی فلائیٹ کے بعد ہم مانچسٹربخیریت پہنچ گئے۔ الحمد للہ ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں