برمنگھم: کم عمر بچی سے جنسی زیادتی کے مرتکب مجرم افغان پناہ گزین کو 15 برس قید کی سزا سنادی گئی۔ 23 سالہ افغان پناہ گزین احمد ملا خیل کو 12 سالہ بچی کے اغوا اور جنسی زیادتی کے جرم میں سزا سنائی گئی۔
یہ انسانیت سوز واقعہ برمنگھم کے نواحی قصبے نانیٹین میں گزشتہ برس 22 جولائی کو پیش آیا جب احمد ملا خیل نامی ایک افغان پناہ گزین نے ایک 12 سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جسے آج وارک کراؤن کوٹ نے 15 برس قید کی سزا سنائی۔
سزا کے مکمل ہونے پر اسے برطانیہ سے ڈی پورٹ کردیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق احمد ملا خیل اس وقعہ سے صرف چند روز قبل ہی بذریعہ کشتی غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچا تھا اور یہاں آنے کے بعد اس نے پناہ کی درخواست دے دی تھی۔
یہاں پہنچنے کے بعد اس نے نانیٹن میں رہائش اختیار کی جو ایک سفید فام اکثریتی قصبہ ہے۔
پولیس کی جانب سے ریلیز کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطاق گزشتہ برس 22 جولائی کو اس کے ملاقات ایک مقامی پارک میں 12 سالہ بچی سے ہوئی جسے اس نے ٹاؤن سینٹر کے نزدیک ایک ویران جگہ پر جا کر ناصرف جنسی درندگی کا نشانہ بنایا بلکہ تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائیں۔
ملزم نے کارنر شاپ پر لے جاکر متاثرہ لڑکی کو سافٹ ڈرنکس بھی خرید کر دیے، تاہم اسی اثنا میں لڑکی ہمت دکھاتے ہوئے موقع پا کر وہاں سے فرار ہو گئی اور اس واقع سے متعلق پولیس کو رپورٹ کیا۔
پولیس نے احمد ملا خیل کے پیمنٹ کارڈ کی مدد سے اسے ٹریس کیا، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پھیلا، ابتدائی طور پر ملزم کی شناخت نہ ظاہر کرنے پر پولیس کے خلاف جان بوجھ کر مجرم کی شناخت کو چھپانے کے الزامات پر مظاہرے بھی ہوئے۔
وارک کراؤن کورٹ مین کئی ماہ تک اس مقدمے کی سماعتیں ہوئی جن کے اختتام پر احمد ملا خیل کو گزشتہ ماہ ریپ، اغوا اور جنسی حملے جیسے گھناؤنے جرائم کا قصور وار ٹھہرایا گیا تھا اور آج سزا سنائی گئی۔