آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بین الاقوامی شہرت یافتہ، فن کار معین اختر کے سانحۂ ارتحال کوآٹھ برس گزرگئے، لیکن اب تک ان کی جدائی کا غم تازہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کل کی بات ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کل ان کی ٓاٹھویں برسی گزر گئی، لیکن اس موقعے پرملک بھر کے ثقافتی اداروں نے ان کی یاد میں کوئی قابل ذکر پروگرام نہیں کیا۔ ایسی قومیں ترقی کی منازل طے نہیں کرتیں، جو اپنے ہیروز کو بھلا دیتی ہیں۔ معین اختر ، ایک فن کار نہیں بلکہ فن کاروں کے لیے اکیڈمی کا درجہ رکھتے تھے۔ انہوں نے دنیا بھر میں وطنِ عزیز کا نام روشن کیا۔ معین اختر سے جب بھی ملاقات ہوتی، تو وہ ہمیشہ ایک ہی بات پر زور دیتے تھے کہ ’’قرآن مجید کو ترجمے کے ساتھ پڑھو اور سمجھو۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔‘‘ دوسروں کی بے لوث مدد کرنا ان کی عادت تھی، غریب لڑکیوں کی شادی کروانا، اُن کا مشغلہ تھا۔ بلاشبہ، ایسے عظیم لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے، جن کا نہ صرف فن کی دنیا سے بلکہ ادب سے بھی گہرا رشتہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو میں ادبی اور تہذیبی رچائؤ تھا۔ وہ سامعین کا دل جیت لیتے تھے۔ بالی وڈ والے بھی ان کے دیوانے تھے۔ انہوں نے کئی فن کاروں کو متعارف کروایا۔ کئی برس تک انہیں دلیپ کمار اور لہری کی صحت کی فکر رہی، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ ان دونوں سے پہلے ہی دنیا سے چلے جائیں گے۔ لہری، معین اختر کے انتقال بعد دنیا سے رخصت ہوئے، جب کہ دلیپ کمار کا زندگی سے رشتہ ہنوز قائم ہے، اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھے۔ معین اختر نے حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی اورستارئہ امتیاز سمیت کئی اعلیٰ ملکی اعزاز حاصل کیے۔61برس کی زندگی میں سے 45برس اپنے فن کی آب یاری میں گزارے۔ انہوں نے شوبز کے تمام شعبوں ڈراما، اسٹیج، فلم،گلوکاری اورکمپیئرنگ میں اپنا لوہا منوایا۔مزاح کی صنف کو سنجیدگی کا اسلوب بخشا، پیروڈی میں ان کو وہ ملکہ حاصل تھا، جس کی کوئی فن کار تمنّا ہی کرسکتا ہے۔ سنجیدہ اداکاری ہو، یاکامیڈی،انہوں نے جو کردار کیا، اس پر اپنی چھاپ لگادی۔ اُن کا نام ہی ڈراموں اور اسٹیج شوز کی کام یابی کی ضمانت سمجھا جاتاتھا۔

معین اختر نے1967ء میں پی ٹی وی کے پروڈیوسر امیر امام کے ڈرامے’’چور‘‘ سے فنی زندگی کا آغازکیا۔ ان کا شمار بھی اِن ہی خوش نصیبوں میں ہوتا ہے، جو مرکر بھی زندہ رہتے ہیں۔ چار عشروں سے زائد اپنے اَن گنت اور منفرد کرداروں سے اُداس چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے رہے۔ معین اختر کی داستانِ حیات ایک طرح سے پاکستان ٹیلی ویژن کی اپنی جیون کتھا بھی ہے۔ دونوں ایک ساتھ منظر عام پر آئے۔ دونوں کا نام دنیا بھر میں آباد پاکستانیوں تک ایک ساتھ پہنچا اور پھر میڈیا کے بدلتے ہوئے عالمی منظر نے جو نئے چیلنج پیش کیے، اُن سے بھی دونوں ایک ساتھ نبرد آزما ہوئے۔ معین اختر نے اپنی فنی زندگی کے دوران ہزاروں روپ دھارے، شاید ہی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا ہو،جس پر انہوں نے اپنی اداکاری کے جوہر نہ دکھائے ہوں۔ پاکستان میں کامیڈی، سنجیدہ اداکاری، فلم، اسٹیج، ریڈیو، گلوکاری، نقالی، میزبانی، لطیفہ گوئی، ماڈلنگ، غرض یہ کہ فن کے ہر شعبے میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہیں کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی، سندھی، پنجابی، میمنی، پشتو، گجراتی اور بنگالی میں بھی اپنے فن کا اظہار کر کے داد وصول کی۔ ان کے مشہور اسٹیج، ٹی وی ڈراموں اور پروگرامز میں، بکرا قسطوں پر، بڈھا گھر پر ہے، روزی، ہاف پلیٹ، عید ٹرین، بندر روڈ سے کیماڑی، سچ مچ، فیملی 93، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، لوز ٹاک وغیرہ شامل ہیں۔ لوز ٹاک چار سو قسطوں پر مشتمل ہے اور اس کی ہر قسط میں معین اختر نے ایک الگ بہروپ اختیار کیا۔ معین اختر نے دنیا بھر میں پرفارمنس دی۔ وہ اردن اور گیمبیا کے صدور سمیت متعدد حکم رانوں کے خاص مہمان رہے۔ سابق صدر ضیا الحق، سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، صدر یحییٰ، صدر غلام اسحاق خان، جنرل پرویز مشرف اور دیگر ملکی حکم رانوں نے نہ صرف ان کے کام کو سراہا، بلکہ انہیں اپنے سامنے لائیو پرفارمنس کا بھی موقع دیا۔

معین اختر نے گلوکاری میں بھی اپنے فن کا لوہا منوایا، ان کے گانوں کا ایک البم ’’تیرا دل بھی یونہی تڑپے‘‘ بھی ریلیز ہوا، جب کہ فلم ’’مسٹرکے ٹو‘‘ میں بہ طور ہیرو اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان کی جوڑی انور مقصود اور بشریٰ انصاری کے ساتھ بے حد مقبول ہوئی۔ ان کے بارے میں ممتاز ڈراما نگارانور مقصود کا کہنا ہے کہ ’’ہماری دوستی تقریباً چالیس برس رہی۔ ہماری دوستی کی بنیادی وجہ معین اختر کا اتنا بڑا فن کار ہونا تھا۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ جیسا میرا لکھا ہوا ہوتا، ویسا ہی پُرفارم کرتے تھے۔ میں نے جو بھی لکھا، معین نے اسے اچھے انداز میں پُرفارم کیا، چاہے وہ سنجیدہ لکھا گیا ہو یا مزاح۔ وہ میرے اسکرپٹ کو بلندیوں پر پہنچا دیتے تھے۔‘‘ بشریٰ انصاری کا کہنا ہے کہ ’’معین اختر، عمر بھر اپنے کام کی، فن کی تعریفیں سمیٹتے رہے۔ اُن جیسے فن کار روز روز تو پیدا نہیں ہوتے۔بہت محبت اور جدوجہد کے بعد اُنہوں نے شوبزنس میں اپنی جگہ بنائی اور پھر اُسے قائم بھی رکھا۔ میرے ساتھ ڈراموں میں زیادہ کام نہیں کیا، مگر ہمارے کام میں ہم آہنگی ہمیشہ رہی۔ ہم ان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے، وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔‘‘

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں