مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والی خودکار واٹر گن ٹوریٹ سے کبوتروں کو بھگانے کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا گیا۔
اپنی بالکونی میں کبوتروں کی گندگی سے تنگ آ کر ایک ذہین شخص نے خود کار چلنے والی واٹر گن ٹوریٹ بنالی اور یہ نظام کبوتروں کو پہچانتا ہے اور انہیں دور بھگانے کے لیے ان پر پانی کی پھوار پھینکتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کا اگر درست استعمال کیا جائے تو وہ روزمرہ کے مسائل کے حل میں بھی معاون ہوتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ایسے مسائل سے نمٹنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اس کی ایک دلچسپ مثال ایک ٹیکنالوجی کے ماہر ریڈٹ صارف ہیں، جنھوں نے ایک خودکار واٹر گن ٹوریٹ (پانی پھینکنے والی خودکار بندوق نما مشین) تیار کی جو کبوتروں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتی ہے، جیسے ہی کوئی کبوتر ان کی بالکونی کے قریب آتا ہے، یہ واٹر گن ٹوریٹ خود بخود اس پر پانی کی تیز دھار پھینکنا شروع کر دیتی ہے۔
اگرچہ کبوتر ویسے تو بہت پیارے لگتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ انہیں اپنے گھر کی بالکونی میں ایک پریشان کن آفت سمجھتے ہیں جس سے جان چھڑانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اسی قسم کی صورتحال نبر آزما شخص کو بھی اپنی بالکونی پر کبوتروں کی بیٹ سے سخت کوفت ہونے لگی تھی، لہٰذا انھوں نے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا، جو حیرت انگیز طور پر بہت مؤثر ثابت ہوا۔
اس نے ایک برقی بیٹری سے چلنے والی واٹر گن، ایک اورنج Pi 5 منی کمپیوٹر، ایک یو ایس بی کیمرا، ایک اوپن ووکیبلری آبجیکٹ ڈیٹیکشن نیورل نیٹ ورک، دو سروو موٹرز، اور واٹر گن کو آن کرنے کے لیے ریزسٹرز اور ایک ٹرانزسٹر استعمال کرتے ہوئے ایک اے آئی سے چلنے والا واٹر گن ٹوریٹ تیار کیا جو کبوتروں کو پہچان کر ان پر پانی کی پھوار مار سکتا ہے۔
اس نظام کے تحت جیسے ہی کوئی کبوتر ٹوریٹ کی حدود کے قریب آتا ہے، یو ایس بی کیمرا اسے دیکھ لیتا ہے، نیورل نیٹ ورک کبوتر کی شناخت کرتا ہے، پھر سروو موٹرز واٹر گن کا رخ اس کی طرف موڑ دیتی ہیں اور اس پر درست نشانہ لگا کر پانی پھینکتی ہیں، جس سے وہ وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔
اس خود کار کبوتروں کو بھگانے والے ٹوریٹ کی کارکردگی دکھانے والی ایک مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ بہت سے صارفین نے تبصرہ کیا کہ اگر یہ کبھی مارکیٹ میں فروخت کے لیے دستیاب ہوئی تو وہ اسے فوراً خرید لیں گے۔