کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے معروف مذہبی اسکالر مفتی تقی عثمانی نے کہاہے کہ خودبھی کئی بار پولیو کے قطرے پی چکا ہوں،اپنےبچوں کو بھی پلوائے ہیں، یہ بہت اچھی بات ہے کہ کسی بیماری کو دور کرنے کے لئے مہم چلائی جائے اور خاص طور پر پولیو کی بیماری بچوں میں بہت پریشان کن ہے جب اس کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات ہوئے تو میں نے غیر جانبدار ڈاکٹروں سے اس کی تحقیق کی تو انہوں نے بتایا کہ اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے اور خوامخواہ ایسے ہی پروپیگنڈہ ہے پولیو مہم میں بسا اوقات بہت جبر و تشدد سے بھی کام لیا گیا ہے اور لوگوں کے گھروں میں پرائیویسی پامال کرکے لوگ داخل ہوئے جس کے کچھ واقعات ہمارے علم میں آئے اس کی وجہ سے شکوک و شبہات پید اہورہے تھے کے اتنی زبردستی کیوں کی جارہی ہے میں خود بھی کئی مرتبہ پولیو کے قطرے پی چکا ہوں اس کے علاوہ اپنے بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلوائے ہیں ۔سابق وزیر خزانہ ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے مگر برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لہٰذا برآمدات پر ہمیں توجہ دینا پڑے گی ہمیں کوشش مسلسل یہ کرنی چاہئے تھی کہ ریونیو میں اضافہ کریں ۔پروگرام میں پولیو ویکسین کے حوالے سے ڈائریکٹر NICVD پروفیسر ندیم رضوی، چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر اقبال میمن، بانی سربراہ SIUTڈاکٹرادیب رضوی اورمعاون وزیراعظم برائے انسداد پولیوبابر بن عطانے بھی اظہار خیال کیا۔ سابق وزیر خزانہ ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ جب یہ نئی حکومت آئی تھی ان کے پاس وعدے بھی تھے منشور بھی تھاالبتہ حالات کافی حد تک خراب تھے تو کم از کم انہیں یہ کرنا چاہئے تھاکے ایک معاشی فریم ورک یا ڈھانچہ بناکر اپنی ترجیحات پر جس میں اہداف اگلے تین سے پانچ سال کے مقرر کرتے اور ان کو کس طرح حاصل کرنا چاہئے اور ایجنڈا پوری تفصیل میں تیار کرتے مگر شاید معاشی ڈھانچہ پیش نہیں کیا گیا جب نومبر میں ٹیم آئی اور پھر فروری میں انہوں نے ایک فریم ورک فائنالائز کیا ہے اور اس فریم ورک سے یہ واضح ہوتا ہے کے شایدکچھ ایسی چیزیں رکھی گئی ہیں جو ہمارے خیال میں اس وقت نہیں آیا تھااور اس پر آخری مشن جب آئے گاتو اس پر ہمیں یقیناً بات کرنا چاہئے فریم ورک ابھی تک عوام تک آیا نہیں ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں پیش ہوا ہے اندازہ یہ ہے کہ معیشت کی کارکردگی خاص طورپرجو بجٹ فنڈپر کافی حد تک کمزور اور نا مناسب رہی ہے تو خطرہ اس بات کا ہے اس کو ٹھیک کرنے کے لئے اب اس سے بھی زیادہ سخت اقدامات لینا پڑیں گے جو سال کے آغاز میں شاید نہ لینا پڑیں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے مگر برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے تو لہٰذا برآمدات پر ہمیں توجہ دینا پڑے گی ہمیں کوشش مسلسل یہ کرنی چاہئے تھی کہ ریونیو میں اضافہ کریں ہم اصلاحات لائیں آپریٹنگ لاگت میں کمی کریں بجائے ہم نے ڈیو لپمنٹ اخراجات میں 25 سے30 فیصدکم کردیاجس کے نتیجے میں معیشت میں سلو ڈاؤن کی سب سے بڑی وجہ یہ کٹوتی تھی اس وقت سب سے زیادہ مشکلات ہمارے انکم ٹیکس کے نظام میں ہیں جاتے جاتے ن لیگ کی حکومت نے بھی یہ کیا تھا کہ ٹیکس استثنیٰ کی حد4 لاکھ سے 12 تک بڑھا دی تھی آنے والی حکومت نے بھی اس کوتبدیل نہیں کیاجس کے نتیجے میں تقریباً90 ارب کا نقصان ہے۔