آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی ریاست لکھنؤ کے ڈسٹرکٹ ڈیوریاسے تعلق رکھنے والی رینا دیویدی معمول کے مطابق الیکشن آفیسر کےفرائض انجام دے رہی تھیں اور اُنہیں خبر بھی نہیں تھی کہ کچھ ہی دیر میں وہ پورے بھارت میں مشہور ہو جا ئیں گی اور سوشل میڈیا سیلبرٹی بن جائیں گی۔

رینا دیویدی 2014اور 2017 کی طرح اس بار بھی بھارتی ریاست لکھنؤ میں5 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں پولنگ آفیسرکے فرائض انجام دے رہی تھیں، اسی دوران اُن کے ایک ساتھی نے اُ ن کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی جس میں وہ پیلے رنگ کی ساڑھی میں ملبوس کام کرتی نظر آ رہی ہیں اور بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔

تصویر پوسٹ ہوتے ہی کچھ ہی دیر میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لوگوں کو تجسس ہوا کہ یہ پیلی ساڑھی والی خاتون کون ہے؟

پیلی ساڑھی کے نام سے مشہور ہونے والی رینا دیودی کا کہنا ہے کہ مجھے معلوم نہیں تھا اور بہت حیرانی ہوئی جب میرے اپنے دفتر اور یہاں تک کہ دفتر میں کام کے سلسلے میں آنے والے لوگوں نے میرے ساتھ تصویر بنوانے کی درخواست کی، راتوں رات مشہور ہونے کا یہ تجربہ بہت اچھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اور میرا خاندان اس سے بہت لطف اندوز ہو رہے ہیں ، مگر یہ کبھی کبھی تکلیف دہ بھی ہو جاتا ہے۔ رینا دیویدی کا کہنا ہے کہ وہ فٹنس کے لیے پاگل ہیں اوراپنے کھانے پینے کا بہت خیال رکھتی ہیں۔

رینا نے اپنے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ میرا ایک بیٹا ہے جو 9کلاس کا طالب علم ہے، سب سے بہترین ردِ عمل بیٹے کی جانب سے آیا، میرے بیٹے نے مجھ سے کہا کہ وہ میرے ساتھ ویڈیو کال کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنے دوستوں کو بتا سکے کہ سوشل میڈیا پر پیلی ساڑھی والی کے نام سے مشہور ہونے والی خاتون میری والدہ ہے۔

رینا کا مزید کہنا ہے کہ آج سے کچھ سال قبل اُنہیں بھوجپوری فلموں کی آفرز آئیں تھیں مگر اُس وقت اُن کا بیٹا کافی چھوٹا تھا ، اگراب اُن کو اچھی پیشکش ہوئی تو وہ شاید قبول کر لیں کیوں کہ ا ب اُن کا بیٹا بڑا ہو گیا ہےاور اپنی دیکھ بھال خود کر سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں