آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ذیقعد 1440ھ 17؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 ڈاکٹر آسی خرم جہا نگیری

ارشاد ربانی ہے:’’یقیناًہم نے اس (قرآن)کوشب قدر میں اُتارا اورآپ کیاجانیں،شب قدر کیاہے؟شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘’’قدر ‘‘کے معنی عظمت وشرف کے ہیں ،اس رات کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ اس رات کی قدرومنزلت اورعظمت وشرف ہے۔اسے لیلۃ القدر اس وجہ سے کہاگیا ہے کہ جس آدمی کی اس سے پہلے اپنی بے عملی کے سبب (اﷲکے ہاں)کوئی قدرومنزلت نہ تھی،اس رات میں توبہ واستغفار اور بندگی کے ذریعے وہ بھی قدروشرف والابن جاتاہے‘‘۔

یہ رمضان المبارک کی طاق راتوں میں ایک عظیم رات ہے ،جوکہ بہت ہی خیر وبرکت والی ہے ۔قرآن پاک نے اسے ہزار مہینوں سے افضل وبہتر بتایا ہے ،ہزار مہینے کے تراسی برس اور چارماہ ہوتے ہیں ۔پس خوش نصیب ہے وہ شخص جسے اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے اور وہ یہ رات عبادت میں گزار دے اس نے گویااسّی سال اور چار ماہ سے زیادہ عرصہ عبادت میں گزاردیا۔قدر دانوں کے لیے یہ ایک بے انتہا نعمت ہے ۔کیوںکہ یہ رات اﷲنے اسی امت کو عطا فرمائی، پہلی امتوں کونہیں ملی ۔حقیقتاًاﷲتعالیٰ کابہت ہی بڑا انعام ہے۔

حضرت انس بن مالکؒ سے مروی ہے کہ رمضان آیا تو رسول اکرمﷺ نے فرمایا ’’یہ جو مہینہ تم پر آیا ہے، اس میں ایک رات ایسی ہے جو قدر و منزلت کے اعتبار سے ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس کی سعادت حاصل کرنے سے محروم رہا، وہ ہر بھلائی سے محروم رہا، مزید فرمایا کہ لیلۃالقدر کی سعادت سے صرف بد نصیب ہی محروم کیا جا سکتا ہے‘‘۔ (ابنِ ماجہ)

سیّدنا حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا:’’اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے‘ ایسا ماہِ مبارک جس میں ایک ایسی رات ہے (لیلۃ القدر) جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے‘ (یعنی اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینوںکی عبادت سے زیادہ ملتا ہے)

ایک حدیث میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص شبِ قدر سے محروم ہوگیا‘وہ گویا پوری بھلائی سے محروم ہوگیا‘ اور شبِ قدر کی خیر سے وہی محروم ہوتا ہے جو کامل محروم ہو۔ (سنن ابنِ ماجہ)

آپﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص ’’لیلۃ القدر‘‘ میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لیے) کھڑا رہا‘ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری)

اس مقدس اور بابرکت رات کی عظمت و اہمیت کا اندازہ رسول اکرمﷺ کے ارشادات سے لگایا جاسکتا ہے‘اس مقدّس شب کی عظمت و توقیر کو اجاگر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک مستقل سورت ’’سورۃ القدر‘‘ نازل فرماکر اس کی عظمت و اہمیت پر مہرِ تصدیق مثبت فرمائی ہے۔ ارشاد ربانی ہے: بے شک، ہم نے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں نازل کرنا شروع کیا، اور تمہیں کیا معلوم کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ لیلۃ القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اس میں روح (الامینؑ) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے لیے) اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں‘ یہ (رات) طلوعِ صبح تک (امان اور) سلامتی ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ لیلۃ القدر میں زمین پر بے حساب فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ اُن کے نزول کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، ’’جس نے ماہِ رمضان میں لیلۃ القدر کی شب صبح تک بے داری کی، (عبادت و ریاضت میں گزاری) تو وہ مجھے (پورے) رمضان المبارک کے قیام سے زیادہ عزیز ہے۔

اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہﷺ نے فرمایا کہ جس نے لیلۃ القدر کو شب بے داری کی اور اُس رات اللہ تعالیٰ عزّوجل سے بخشش کی دعا کی، اللہ تعالیٰ عزّوجل اُسے معاف فرمائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں