آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسان کے تعمیراتی سفر کی کہانی ملاحظہ کریں تو وہ ایک دوسرے سے متاثرہ و تتبع شدہ نظر آئے گی، جن میں ثقافت و روایات کا رنگ واضح انداز میں جھلکے گا۔ چینی، مصری، یونانی، روسی، بازنطینی، اسلامی، یورپی اور امریکی طرز ہائے تعمیرات کا سفر چلتے چلتے آج اکیسویں صدی میں اپنی صورت تبدیل کر چکا ہے۔ اب ہم ایسے طرز تعمیرات دیکھ رہے ہیں، جن میں آرکیٹیکچر اور ڈیزائن کے نئے اور عجیب و غریب انداز سامنے آرہے ہیں۔ان میں جدت کے ساتھ کلاسک روایات کی تجدید کا بھی خاص اہتمام کیاجاتا ہے تاکہ جدت و قدامت اور ثقافت و روایت کی جھلک دکھائی دے۔

سات عرب ریاستوںپر مشتمل متحدہ عرب امارات کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے امن و محبت، مساوات و عالمگیریت، جدت و قدامت کے صحرا میں پھول کھلا کر بےآب و گیاہ ریگستان کو نخلستان میں تبدیل کر کے امریکا و یورپ کے جدید ماڈل کو اسلامی دنیا میں متعارف کروایا۔ عرب امارات کے دو جڑواں شہر دبئی اور ابوظبی آج جدید تعمیراتی دنیا کے لیے ایک مثال بن کر اُبھرے ہیں، جن کے نقش قدم پر سعودی عرب اپنے دو شہروں ریاض اور جدہ کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے کارپوریٹ ورلڈ کے لیے راستے ہموار کر کے عالمی مارکیٹ میں داخل ہو رہا ہے۔ برج الخلیفہ کے مقابلےمیں جدہ ٹاورز کے ڈیزائن کو عرب خطے میں ہوا کے تازہ جھونکے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

کلاسک روایات کی تجدید کا اہتمام ابوظبی کے سائبانی چھتری نما جڑواں البحرٹاورز میں بھی کیا گیا ہے، جوسورج کی تپش سے بچانے کے لیے اپنی پوزیشن بدل کرآپ کو دھوپ میں چھاؤں مہیا کرتے ہیں۔ ٹاورز کو تکونی ستونوں کے ساتھ جیومیٹریکل صورت دے کر سورج کی شعاعوں سے بچنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ سن اسکرین ڈیزائن ایڈاس آرکیٹیکٹس کی جانب سے بنایا گیا ہے۔ اسے عرب دنیا میں رائج سائبانی کھڑکیوں سے آراستہ کرکے خوبصورت اوٹ مہیا کی گئی ہے۔اسلامی فنِ تعمیر کا یہ شاہکار مشربیہ کہلاتا ہے۔ ان مشربی کھڑکیوں یا سن اسکرینز کو کمپیوٹر کے ذریعے کھولا اور بند کیا جاتا ہے۔ جدید آرکیٹیکچرل ڈیزائن اورعرب فنِ تعمیر کے حسین امتزاج پر مشتمل یہ ٹاورز مشرق و مغرب کے ملاپ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

سردست ابوظبی کے 29منزلہ اور 145میٹر بلند البحر ٹاورز کے جدید و قدیم امتزاج پر مبنی ڈیزائن نے سب کواپنی جانب متوجہ کر رکھا ہے۔ البحر ٹاورز متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی شہر کے مشرقی داخلی مقام السعدہ پر دار السلام اسٹریٹ کے دوراہے پر واقع ہیں۔ البحر ٹاورز کاایک ٹاور حکومت ابوظبی کی سرمایہ کاری فرم ابوظبی انویسٹمنٹ کونسل (ADLC)کا صدر مقام ہے جبکہ دوسرا ٹاور ترقی پسند اور اختراعی اسلامی بینک کا صدر دفتر ہے۔

عرب طرز تعمیر اور جدت کا حسین امتزاج

البحر ٹاورز کی نمایاں خوبی اس کا عرب طرز تعمیر مشربیہ ہے، جو عام طو پر حرم کھڑکی کہلاتا ہے۔ لکڑ ی کے دیدہ زیب کام سے چھجے اور سائبان کی صورت اسے بیرونی تپش سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ لکڑی سے کندہ کاری کےاسی ڈیزائن کوٹاور میں استعمال کرتے ہوئے 2000شیشوں سے بنی چھتریوں سے حفاظتی جِلد مہیا کی گئی ہے۔یہ سورج کی تپش و حرارت کے مطابق خودکار انداز میں کھلتی اور بند ہوتی ہیں۔ 11ویں صدی کی روایتی عرب کھڑکیوں کے اس اسٹائل پر مشتمل البحر ٹاورز کے’ انٹیلی جنٹ فیکیڈ‘ کو بلڈنگ مینجمنٹ سسٹم سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ان تبدیل ہونے والے سائبانوں سے اندرونی ماحول سورج کی 50فی صد حدت سے بچائے رکھتا ہے۔ ان ماحول دوست ٹاورز کا شمار خلیج کے پہلے میناروں میں ہوتا ہے، جنہیں لیڈرشپ ان انرجی اینڈ انوائرنمنٹل ڈیزائن(LEED)میں سلور ریٹنگ دی گئی ہے جبکہ فلک بوس عمارات کے فن تعمیر کے عالمی اعزاز ایمپورس اسکائی اسکریپر ایوارڈ میں اس نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ ایوارڈ 2012ء میں منصوبے کی تکمیل پر دیا گیا۔ البحر ٹاورز کا ڈیزائن AHR(سابقہ Aedasبرطانیہ) نے تیار کیا ہے اور الفطیم کیری لیون کی جانب سے اسے تعمیر کیا گیا ہے، جو دبئی سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی تعمیراتی فرم ہے جو انفرا اسٹرکچر ، بلڈنگ اور سروسز میں انٹیگریٹڈ سلوشنز مہیا کرتی ہے ۔ یہ ٹاورز 70ہزار مربع میٹر اراضی کو اپنے احاطے میں لیے ہوئے ہیں۔ اس کی گول ساخت والی دیوار فرشی جگہ کم کرکے فعالیت میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کا تعمیراتی ڈیزائن پیرامیٹرک اور الگور تھمک اسٹیڈیز کے ذریعے مکمل کیا گیا ہے۔ سورج کی تپش سے بچانے کیلئے شیشے کے ٹاورز کو شیلڈز سے ڈھانپا گیا ہے، جو مشربیہ طرز تعمیر کے شاندار تعمیراتی ورثے سے تعلق رکھتی ہیں۔ فیکیڈ کے حرکت کرنے والے پینلز نیم شفاف پولی ٹیٹرا فلورو ایتھلین پر مشتمل ہیں، جو چھتری کی طرح آپس میں لپٹ جاتے ہیں۔یہ چھتریاں سورج کی حرکت کے ساتھ کھلتی اور بند ہوتی ہیں۔ اسی فیکیڈ سسٹم کے باعث البحر ٹاورز کو ماحول دوست عمارات میں قابل فخر مقام حاصل ہوا۔ ماحولیاتی آلودگی کے دور میںان بحری میناروںکو دھوپ میں چھاؤں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں