مودی سرکار کے اقدام پر امریکی محکمہ خارجہ کا موقف بھی سامنے آ گیا ہے۔ امریکا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت بدلنے کے معاملے پرجائزہ لے رہے ہیں۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مورگن اورٹیگس نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت اس اقدام کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دے رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں اور نظربندی پر تشویش ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھارت کے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا اور کہا کہ ایل او سی پر تمام فریقین امن اور استحکام برقرار رکھیں۔
یاد رہے کہ بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی۔
بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے، آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔
بھارتی اقدامات کے بعد وادی میں دفعہ 144 نافذ ہے اور قابض انتظامیہ نے کشمیری قیادت کو بھی گرفتار کرلیا ہے جبکہ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی سروس بھی معطل ہیں۔