آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر16؍محرم الحرام 1441ھ 16؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گرینڈ حیات ہوٹل کیس کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں یکجا،سماعت ملتوی

اسلام آباد(جنگ رپورٹر) عدالت عظمیٰ نے ʼʼگرینڈ حیات ہوٹل اسلام آباد کو پلاٹ لیز پر دینے ʼʼسے متعلق کیس کے مرکزی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی تمام درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی ہے ، جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے بدھ کے روز درخواستوں کی سماعت کی توجسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ سی ڈی اے کا حال پہلے بھی برا تھا اور اب بھی ویساہی ہے،عدالت کے استفسار پر سی ڈی اے کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نقشے کی مطابق سروس اپارٹمنٹس فروخت نہیں کئے جا سکتے تھے،جس پرجسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا آپ نے انہیں اپارٹمنٹس بیچنے کا اختیار دیا تھا،جس پر فاضل وکیل نے کہاکہ جو نقشہ منظور ہوا تھا وہ ہوٹل اور سروس اپارٹمنٹس کیلئے تھا،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ اگر سروس اپارٹمنٹس بیچے جاتے ہیں تو کیا کارروائی کی جاسکتی ہے؟ جس پر فاضل وکیل نے کہاکہ سی ڈی اے ان اپارٹمنٹس کی الاٹمنٹ منسوخ کرسکتا ہے،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہاکہ الاٹمنٹ منسوخ کرنا اس مسئلے کاکوئی مستقل حل نہیں ہے ،انہوں نے ازراء تفنن کہاکہ اگر آپ درست بات نہیں کریں گے تو کیا ہم ڈی چوک میں بیٹھ جائیں؟ جس پر ایک قہقہ بلند ہوا ،فاضل

جج نے کہاکہ آپ نے تو ہمارے پائوں میں بیڑیاں ڈال دی ہیں، لیز 33 سال کی ہوتی ہے 99 سال کی نہیں،درخواست گزار کے وکیل نے کہاکہ ہم پچھلے چار سالوں سے دھکے کھا رہے ہیں جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اس سب کی ذمہ دار بی این پی کمپنی ہے، اگر یہ 17 بلین روپے کی گارنٹی نہیں دے سکتے تو سی ڈی اے ٹھیک کاروائی کر رہا ہے،بعد ازاں فاضل عدالت نے نظر ثانی کی تمام درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

اہم خبریں سے مزید