آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم کی آئی ایم ایف شرائط کے مطابق معیشت بحالی طریقہ کار مرتب کرنیکی ہدایت

اسلام آباد(مہتاب حیدر)وزیر اعظم نے اقتصادی ٹیم کو آئی ایم ایف شرائط کے مطابق معیشت بحالی طریقہ کار مرتب کرنیکی ہدایت کی ہے۔جب کہ وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکائونٹ خسارے پر قابو پالیا ہےاورمشینری درآمدات میں 2ارب ڈالرز کی کمی ہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق،اقتصادی سست روی کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی اقتصادی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل طور پر آئی ایم ایف شرائط کے مطابق قومی معیشت کی بحالی کا طریقہ کار مرتب کرے تاکہ اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوسکے۔آزاد اقتصادی ماہرین اس اندیشے کا اظہار کررہے ہیں کہ پاکستان معاشی جمود کی جانب بڑھ رہا ہے ، جہاں آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت جاری پروگرام کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ، جب کہ غربت اور بے روزگاری بڑھے گی۔ایک ماہر اقتصادیات نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کی طرزکے اقتصادی ماڈل پر پاکستان میں عمل کیا جارہا ہے ، جس کے تحت غربت اور بے روزگاری میں اضافہ یقینی ہے۔مالیاتی محاذ پر بڑھتے عدم توازن کے تناظر میں حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے چلانے کے لیے اپنے آپ کو محدود کررہی ہے۔اعلیٰ حکام نے جمعے کے روز دی نیوز کو اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مشیر خزانہ

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل طور پر آئی ایم ایف پروگرام سمطابق اقتصادی بحالی کا منصوبہ تیار کریں تاکہ سست اقتصادی سرگرمیوں کو تیزی سےدوبارہ شروع کیا جاسکے۔آج اقتصادی ٹیم کی وزیر اعظم سے ملاقات طے ہے جس میں ترجیحی امور پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی جائے گی۔اس ضمن میں جب جمعے کے روز سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ اے پاشا سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکائونٹ خسارے پر قابو پالیا گیا ہے البتہ بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ ہم سب کے لیے سخت تشویش کا باعث ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ بنیادی توازن رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی کے اعشاریہ6فیصد تک لائے ، جس کا تخمینہ جی ڈی پی کے 1اعشاریہ8فیصد کا لگایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ تخمینے کے مطابق، بجٹ خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کے 9فیصد تک جاسکتا ہے، جس میں بنیادی خسارہ جی ڈی پی کے 3اعشاریہ5فیصد سے 3اعشاریہ8فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کس طرح اتنے بڑے مالیاتی توازن کو جی ڈی پی کے 3فیصد سے زائد کیا جاسکتا ہے، اس کا حصول تقریباً ناممکن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کو سخت مشکلات کا سامنا ہے کیوں کہ بجٹ کے موقع پر جو تخمینے لگائے گئے تھے وہ غلط ثابت ہوچکے ہیںاور کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ ان حالات میں کس طرح آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کیا جائے۔تاہم، جب وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر سے جمعے کے روز رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بحالی پروگرام پر عمل درآمد کے بعد حکومت کرنٹ اکائونٹ خسارے کو قابو کرنے میں کامیاب ہوگئی ہےکیوں کہ زری پالیسی اور شرح مبادلہ کی پالیسی میں سختی سے مطلوبہ نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ مشینری کی درآمدات میںخاص طور پر سی پیک پر 2ارب ڈالرز کی کمی واقع ہوئی ہے کیوں کہ بجلی اور انفراسٹرکچر منصوبے تکمیل کے قریب ہیں ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں حکومت نےاکتوبر ،2018میں ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی ہے، وہاں لگژری اشیا ءکی درآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آنے والے برسوں میں مالیاتی صورت حال بہتر ہوگی کیوں کہ مختصر مدتی بنیاد پر مقصد کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم کرنا تھا۔

اہم خبریں سے مزید