آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات19؍محرم الحرام 1441ھ 19؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں 12 سال میں چوتھی بار پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی ) کے آئین کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی اور چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا ہے کہ پی سی بی کے نئے آئین کے مطابق ڈپارٹمنٹل ٹیموں کو ختم کرکے 6 صوبائی ٹیمیں فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں حصہ لیں گی۔

please wait while file is uploading on server

نئے نظام کے تحت قائداعظم ٹرافی (4 روزہ فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ، فائنل 5 روز پر مشتمل ہوگا) : ایونٹ 14 ستمبر سے 8 اکتوبر اور 28 اکتوبر سے 13 دسمبر تک جاری رہے گا۔

پی سی بی کے نئے اعلان سے اب فرسٹ کلاس کرکٹ نئے انداز میں مزید پروفیشنل انداز اور وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ہوگی۔

قومی انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ (3 روزہ اور ایک روزہ مقابلے): ایونٹ یکم اکتوبر سے 12 نومبر تک جاری رہے گا۔

قائداعظم ٹرافی (سیکنڈ الیون، 3 روزہ میچز پر مشتمل ٹورنامنٹ، فائنل مقابلہ 4 روز تک جاری رہے گا) : ایونٹ کے میچز 14 ستمبر سے 10 اکتوبر اور 28 اکتوبر سے 29 نومبر تک ہوں گے۔

قومی ٹی ٹونٹی کپ ( فرسٹ اور سیکنڈ الیون ٹورنامنٹس کا بیک وقت آغاز ہوگا) : میچز13 سے 24 اکتوبر تک جاری رہیں گے، فرسٹ الیون کے کے میچز فیصل آباد اور سیکنڈ الیون کے کراچی میں ہوں گے۔

پاکستان کپ ایک روزہ ٹورنامنٹ (فرسٹ اور سیکنڈ الیون کے میچز بیک وقت جاری رہیں گے): مقابلے 29 مار چ سے 24 اپریل 2020 تک جاری رہیں گے، خدشہ ہے کہ ڈپارٹمنٹس سے منسلک سینکڑوں کھلاڑی اب بے روز گار ہوجائیں گے۔

احسان مانی کہتے ہیں کہ اب فٹ اور کوالٹی کھلاڑی آئیں گے، سسٹم شفاف ہوگا جس میں میرٹ پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اب کوئی نہیں کہے گا کہ باصلاحیت کرکٹر نظر انداز ہوگیا ہے، اس سسٹم کو پہلے سال پی سی بی ایک ارب روپے کی خطیر رقم سے فنانس کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ سسٹم کو پرفیشنل طریقے سے چلائیں گے، ہمارے سسٹم میں بہتری آنے میں وقت لگےگا لیکن پُرامید ہوں نئے سسٹم سے ہماری کرکٹ میں بہتری ضرور آئے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پروفیشنل ازم کا معیار دوسرے ملکوں سے بہت کم ہے، ہم ایک دن بہت اچھا پرفارم کرتے ہیں پھر دوسرے ہی دن بہت ہی برا کھیل جاتے ہیں، ہمیں ایسے پروفیشنل کرکٹرز چاہیے جو کسی بھی کنڈیشنز میں بہترین کھیل پیش کرسکیں۔

احسان مانی کا کہنا ہے کہ آسٹریلوی کرکٹرز ہر طرح کی کنڈیشنر میں بہترین کھیل اس لئے پیش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کیونکہ ان کا سسٹم بہت اچھا ہے۔

احسان مانی کہتے ہیں کہ کتنے دُکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہمیں ان کا متبادل کوئی اچھا کھلاڑی نہیں مل رہا۔

احسان مانی نے کہا کہ ہمیں کوانٹیٹی نہیں بلکہ کوالٹی کرکٹ چاہیے، ہمارے سسٹم میں بہتری آنے میں وقت لگے گا لیکن پُرامید ہوں کہ نئے سسٹم سے ہماری کرکٹ میں بہتری ضرور آئے گی۔

پی سی بی کا ارادہ ہے کہ بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے پی سی بی اس سیزن میں لاہور، کراچی، ملتان، راولپنڈی اور کوئٹہ اسٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن کے لیے 2 ارب روپے خرچ کریگا، فرسٹ کلاس میچز میں ڈیوک کی بجائے بین الاقومی مقابلوں میں استعمال ہونے والی کوکابورا کی گیند کا استعمال کیا جائے گا۔

ٹورنامنٹس کے شیڈول، سلیکشن کمیٹیوں، میچ آفیشلز، ٹیموں، کوچنگ اسٹاف اور انتظامی اسٹرکچر کا اعلان آئندہ ہفتے کردیا جائے گا۔

پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ نئے اسٹرکچر میں کلب کرکٹ کو اہمیت دی گئی ہے، یہاں کرکٹ کھیلنے کے لیے ایک بہترین ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو انعامات سے نوازا جائے گا۔

نئے اسٹرکچر میں سابق کھلاڑیوں اور کوالیفائیڈ کوچز کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جس سے قومی اور بین الاقوامی کرکٹ کے معیار کا فرق کم کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے 9 اگست کو آئین میں ترامیم کی منظوری دئیے جانے کے بعد نیا ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر وجود میں آیا۔ پی سی بی کو آئین میں ترامیم کا نوٹیفکیشن 19 اگست کو موصول ہوا تھا۔ نئے اسٹرکچر کے مطابق 16 ریجنز کو 6 ایسوسی ایشنز میں ضم کردیا گیا ہے۔

نیا ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر کے مطابق سندھ کرکٹ ایسوسی ایشن میں کراچی، حیدرآباد اور لاڑکانہ شامل ہیں۔

بلوچستان کرکٹ ایسوسی ایشن میں ڈیرہ مراد جمالی اور کوئٹہ شامل ہیں جبکہ سدرن پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن میں ملتان اور بہالپور شامل ہیں۔

سنٹرل پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن میں فیصل آباد، سیالکوٹ اور لاہور شامل ہیں، خیبرپختون خواہ کرکٹ ایسوسی ایشن میں پشاور، فاٹا اور ایبٹ آباد شامل ہیں۔

ناردرن کرکٹ ایسوسی ایشن میں اسلام آباد، راولپنڈی اور آزادجموں کشمیر شامل ہیں، نئے اور باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو سسٹم میں نمایاں پہچان دینے کے لیے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کو 3 مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلے درجے میں 90 سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اسکول اور کلب کرکٹ کا انعقاد کریں گی۔ بعدازاں ہر سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن اپنی اپنی کرکٹ ٹیمیں تیار کرے گی۔

دوسرے درجے میں سٹی کرکٹ ٹیمیں اپنی متعلقہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے تحت انٹرا سٹی مقابلوں میں شرکت کریں گی۔

تیسرے درجے میں انٹرا سٹی کرکٹ مقابلوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو متعلقہ کرکٹ ایسوسی ایشن میں شامل کیا جائے گا۔

6 کرکٹ ایسوسی ایشنز کی ٹیمیں پی سی بی کے زیراہتمام ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی۔

ملک بھر میں قائم 6 ہائی پرفارمنس سنٹرز کھلاڑیوں کو معیاری کرکٹ، طرز زندگی اور کھیل میں جدت رکھنے والے تمام ہنر سکھانے میں مدد دیں گے۔ہر کرکٹ ایسوسی ایشن 32 کھلاڑیوں کو سالانہ ڈومیسٹک کنٹریکٹ دے گی۔

یہ کھلاڑی سیزن میں ایسوسی ایشن کے لیے فرسٹ کلاس، نان فرسٹ کلاس، لسٹ اے اور ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گے، یہ کھلاڑی پی سی بی کے سنٹرل کنٹریکٹ کاحصہ نہیں ہوں گے۔

ان 32 سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے علاوہ بھی کرکٹ ایسوسی ایشن کسی اور کھلاڑی کو فی میچ معاوضہ دے کر ٹیم میں شامل کرسکتی ہے۔

ڈومیسٹک کنٹریکٹ رکھنے والے ہر کھلاڑی کو ماہانہ 50 ہزار روپے معاوضہ ملے گا، ایک سیزن میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والا ایک کھلاڑی میچ فیس، الاؤنسز اور انعامی رقوم کی مد میں 20 سے 25 لاکھ روپے معاوضہ وصول کرے گا۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ نیا ڈومیسٹک کرکٹ اسٹرکچر سابق کھلاڑیوں اور کوالیفائیڈ کوچز کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کررہا ہے۔

ہر کرکٹ ایسوسی ایشن کو انتظامی امور نمٹانے کے ساتھ ساتھ ٹیم منیجمنٹ تشکیل دینا ہوگی، ٹیم منیجمنٹ میں ہیڈ کوچ، بیٹنگ کوچ، بولنگ کوچ، فیلڈنگ کوچ، ٹرینر، فزیوتھراپسٹ اور ویڈیو اینالسٹ شامل ہوں گے۔

تمام اسپورٹنگ اسٹاف متعلقہ ایسوسی ایشن کی فرسٹ الیون، سیکنڈ الیون، انڈر 13، انڈر 16، انڈر 19 اور ہائی پرفارمنس سنٹر کیساتھ ذمہ داریاں نبھائے گا، ہر کرکٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ تین سلیکٹرز بھی کام کریں گے۔

فرسٹ کلاس اور نان فرسٹ کلاس ٹورنامنٹس کے بیک وقت جاری رہنے سے ہر ایسوسی ایشن کو بہترین الیون کا انتخاب کرنے میں مدد ملے گی۔

احسان مانی نے مزید کہا کہ قومی ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹورنامنٹس میں بھی فرسٹ کلاس اور نان فرسٹ کلاس میچز بیک وقت شروع ہوں گے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید