آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات19؍محرم الحرام 1441ھ 19؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقار یونس کا فیملی کے ہمراہ سڈنی سے لاہور منتقلی کا فیصلہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ اور ماضی کے عظیم ٹیسٹ فاسٹ بولر وقار یونس بہت جلد اپنے اہل خانہ کے ساتھ سڈنی سے لاہور منتقل ہوجائیں گے۔ پی سی بی نے وقار یونس کوبیس لاکھ روپے ماہانہ کا پرکشش معاہدہ کیا ہے۔

پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ وقار یونس کو مصباح الحق کی طرح ابھی تک پی ایس یل میں کوچنگ کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ وقار یونس گذشتہ پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹیڈ سے منسلک تھے ان کی موجودگی میں اسلام آباد نے پی ایس ایل ٹائیٹل جیتا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مصباح الحق آئندہ پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد کی کوچنگ کریں گے۔ وقار یونس نے پاکستان سپر لیگ سے متعلق ابھی بورڈ سے اجازت نہیں مانگی ہے۔

بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کو ٹی ٹوئینٹی کوچنگ کا تجربہ فراہم کرنے کے لئے انہیں پی ایس ایل میں کوچنگ کی اجازت دی گئی ہے اگر وقار یونس یا بورڈ کے کسی اور ملازم نے پی ایس ایل میں کوچنگ کے لئے درخواست دی تو بورڈ انتظامیہ کیس ٹو کیس فیصلہ کرے گی۔

ترجمان نے کہا کہ آئندہ سال پاکستان نے ستمبر میں ٹی ٹوئینٹی ایشیاء کپ اور اکتوبر میں ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کھیلنا ہیں 2021میں ایک اور ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ ہوگا چوں کہ مصباح الحق کو کوچنگ کو تجربہ نہیں ہے اس لئے انہیں کوچنگ کا تجربہ دینے کے لئے پی ایس ایل میں کوچنگ کی اجازت دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وقار یونس پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولروں کے علاوہ قومی اکیڈمی میں کام کریں گے اور ڈومیسٹک میچوں میں بھی جائیں گے قومی سیزن کے دوران وہ نوجوان ٹیلنٹ کو تلاش کریں گے جہاں ان پر قومی اکیڈمی میں مزید کام کیا جائے گا۔

مصباح الحق اور وقار یونس اس سے قبل بھی مئی 2014 سے اپریل 2016 تک ایک ساتھ قومی ٹیم کے لیے ذمہ داریاں نبھاتے رہیں ہیں تاہم اُس وقت مصباح الحق کپتان اور وقار یونس ہیڈ کوچ تھے۔اسی طرح پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ میں بھی مصباح الحق بطور کپتان اور وقار یونس بطور باؤلنگ کوچ اور ڈائریکٹر اپنی ذمہ داریاں ایک ساتھ نبھا چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وقار یونس نے کمنٹری کے اسائنمنٹ چھوڑ کر پاکستانی بولروں کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی۔وہ کئی سالوں سے سڈنی میں رہتے ہیں۔وقار یونس اپنی اہلیہ ڈاکٹر فریال ،دو بیٹیوں اور بیٹے کے ساتھ اب مستقل لاہور منتقل ہورہے ہیں۔

وقار یونس اس سے قبل دو بار پاکستان ٹیم کے بولنگ کوچ اور دو بار ہیڈ کوچ رہ چکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی سے معاہدہ کرنے سے قبل مصباح الحق نے ہر قسم کی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیاہے اور اب مستقبل میں وہ کوچ کی حیثیت سے دکھائیں دیں گے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کپتان رمیز راجہ، مصباح الحق کو کوچ بنائے جانے کے سب سے بڑے مخالف کے طور پر سامنے آئے جن کا کہنا ہے کہ بحیثیت کرکٹر مصباح الحق دفاعی سوچ کے حامل کپتان رہے ہیں اور پاکستان کو اب اس مزاج کے کوچ کی ضرورت نہیں ہے۔

پاکستانی کرکٹ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کے عہدے بیک وقت کسی ایک شخص کے سپرد کیے گئے ہیں۔ مصباح الحق کا یہ بھی

کہنا تھا کہ ’جب آپ کے پاس طاقت آتی ہے اور فیصلہ لینے کی ذمہ داری آتی ہے تو آپ کا امتحان ہوتا ہے میری کوشش ہو گی کہ میں پاکستان میں کرکٹ کے ڈھانچے میں نیچے تک پیشہ وارانہ مہارت لا سکوں۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کے انتخاب میں بطور کوچ اور چیف سلیکٹر رائے ضرور دیں گے البتہ حتمی ٹیم منتخب کرنے کا حق کپتان کے پاس ہو گا۔پی سی بی نے سابق ہیڈ کوچ وقار یونس کو اس مرتبہ آئندہ 3 برس کے لیے ٹیم کا بولنگ کوچ مقرر کردیا۔حال ہی میں کرکٹ کمیٹی سے استعفیٰ دینے والے مصباح الحق آئندہ 3 سال تک اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔