1965 کی جنگ میں ایک منٹ میں سب سے زیادہ بھارتی طیارےگرانے کا ریکارڈ بنانے والے محمد محمود عالم نے وفات سے قبل جنگ کا احوال اپنے ایک انٹرویو میں سنایا۔
انہوں نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ’بھارت نے جب ہمارے ایئر بیس پر حملہ کیا، ہم لوگ علی الصبح یونیفارم پہنے جہاز میں تیار بیٹھے تھے کہ میری آنکھ لگ گئی۔ تھوڑی دیر بعد مجھے لگا جیسے ہمارے جہاز پر کسی نے دستک دی ہےجس سے میری آنکھ کھل گئی جس کے بعد میں نے کلمہ پڑھا اور ہم ٹیک آف کرنے کے بعد اپنے اڈے پر چکر لگانے لگے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیک آف کے دوران دوسری جانب سے انہیں دشمن کے 2 جہاز نظر آئے، جنہوں نے ان کے جہاز کی طرف راکٹ مارےتاہم انہوں نے جہاز کا رخ زمین کی جانب موڑ دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اذان کا وقت تھا سورج طلوع نہیں ہوا تھا جس کے باعث انہیں دشمن کا مقابلہ کرنے میں مشکل پیش آئی لیکن انہوں نے اور اُن کے ونگ مین نے دشمن کا تعاقب کیا جو50یا 100فٹ بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔
انہوں نے اپنی جرات اور بہادری کا قصہ سناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جب دشمن پر پہلا میزائل مارا تو وہ زمین پر لگا۔
انہوں نے بتایا کہ دوسری بار جب انہیں جہاز نظر آیا تو انہوں نے نشانہ باندھتے ہوئے میزائل مارا اور دشمن کے جہاز کے ارد گرد آگ لگی دیکھی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے بقیہ چار جہاز نظر نہیں آرہے تھے مگر جب انہوں نے دریائے چناب کو عبور کیا تو انہوں نے دشمن کے جہاز وں کو بہت نیچے پرواز کرتے دیکھا ۔وہ چاروں ایک ہی دائرے میں گھوم رہے تھے ۔جس کے بعد اللّہ کے حکم سے انہوں نے وہ گرا دیئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں پانچ جہاز مار گرانا ایک معجزہ تھا۔ اللّہ نے مجھے موقع دیا ور نہ یہ ہوتاہے کہ جہاز پر واز کر کے چلے جاتے ہیں، دس دفعہ مڈبھیڑ ہو تو اس میں ایک دویا زیادہ سے زیادہ تین جہاز گرالیے جاتے لیکن اکٹھے پانچ جہاز، میں سمجھتا ہوں اللّہ نے میرا جذبہ دیکھتے ہوئے مجھے یہ اعزاز بخشا۔
ایم ایم عالم نے بتایا کہ اُس وقت سورج طلوع ہورہا تھا اور ائیر بیس پر عجیب سے کیفیت طاری تھی ۔ ہمارے پاس اس وقت جہازوں کی تعداد 150کے قریب تھی اور دشمن کے پاس 450جہاز تھے ۔ہم جنگ سے پہلے سوچتے تھے کہ ہمارا ایک جہاز تین جہازوں کے مقابلے میں کیسے لڑے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لینڈ کرنے کے بعد ہم نے سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہمیں فتح و نصرت عطا کی ،اور ہم اپنی سرزمین پر آئے ، اس کے بعد ائیر بیس پر موجود تمام ٹیکنیشنز نے ہمیں کاندھوں پر بٹھا لیا۔
انہوں نے کہا کہ 5 جہاز گرانے کے بعد جنگ کی کیفیت بدل گئی ،اور ہمارا ہر ہوا باز ایک شیر بن گیا۔
انہوں نے انٹرویو کے آخر میں کہا کہ ہماراجو کام تھاہم نے کر لیا، اب نئی نسل میں ایسے جوش و جذبے کی ضرورت ہے کہ جو آزادی کے لیے اور ملک کی عزت و ناموس کے لیے انہی پرانی روایتوں کو دہرائیں۔