آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

محرم الحرام کا تقدس اور ہماری ذمہ داریاں

محرم الحرام کا مقدس مہینہ ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس دوران منبر اور محراب سے اتحاد بین المسلمین کے فلسفہ کو فروغ دیا جائے اور تمام مکاتب ِ فکر امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے گزشتہ دنوں محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ امن و محبت اور یگانگت و برداشت کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر صلح جو امن پسند ہیں اور ہم تمام مذہبی جماعتوں سے مشاورت کے ساتھ امن وامان کی فضا کو یقینی بنا رہے ہیں۔ علماء کرام، سول سو سائٹی اور دیگر مکاتب فکر کے افراد اتحاد و اتفاق اور باہمی یگانگت کی فضا کو قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے بھی ایک اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے منبر اور محراب سے امن و سلامتی کے درس کی ترویج پر زور دیا۔ بحیثیت ایک ذمہ دار شہری، ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حکومت کے ان اقدامات کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور محرم الحرام کے دوران صبر و تحمل، برداشت و رواداری اور اخوت وبھائی چارے کا مظاہرہ کریں۔ اس کے علاوہ شر پسند عناصر پر کڑی نظر رکھیں۔ سید الشہداء امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ ہم سب کیلئے باعث تقلید ہیں اور انہی کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے حق کا ساتھ دیں اور باطل کے خلاف لڑیں۔ اس وقت ہمارے سامنے ہمارا باطل دشمن بھارت ہمارے وجود کو مٹانے کے درپے ہے جس کو ناکام بنانا ہم سب کا فرض ہے۔ حکومتی گائیڈ لائن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اتحاد بین المسلمین اور امن کمیٹیاں اس سلسلے میں پوری طرح اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں جت چکی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان حالات کی سنگینی اور ساری صورتحال سے عوام الناس کو بھی موثر طریقے سے آگاہ کیا جائے جس میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔ عوام الناس کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ محرم الحرام کے دوران کہیں بھی اور کسی بھی وقت دہشت گرد اپنی مذموم کاروائیوں کیلئے مواقع تلاش کر سکتے ہیں، اس لئے ایک عام شہری کو بھی فرقہ واریت یا مسلکی وابستگی سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف ایک مسلمان کی حیثیت سے ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھنا چاہئے جن کی حرکات و سکنات کے بارے میں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری طور پر آگاہ کرکے بدامنی پیدا کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر شہری کو ’’اپنا مسلک چھوڑو نہ، کسی دوسرے کے مسلک کو چھیڑو نہ‘‘ کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے دشمن کے ان عزائم کو ناکام بنانے میں تعاون کرنا چاہئے۔ معاشرے میں فرقہ ورانہ کشیدگی پیدا کرنے کے عوامل میں سب سے اہم لائوڈ اسپیکر کا استعمال ہے، جس کے ذریعے انتہا پسند عناصر خود یا بعض کم فہم مقررین کو استعمال کرکے نفرت انگیز تقاریر کرواتے ہیں اور فرقہ واریت کو ہوا دے کر امن وامان کو تہ و بالا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے لائوڈ اسپیکر ایکٹ کے تحت نفرت پھیلانے کے اس ذریعے کو کنٹرول کر رکھا ہے جبکہ قانون سازی سمیت دیگر اہم اقدامات بھی کئے گئے ہیں جو دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ختم کرنے کا موجب ہیں۔

اس وقت کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و بربریت اور بدترین ریاستی دہشت گردی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے باعث بھارتی حکمران اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں اور وہ کبھی پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دیتے ہیں اور کبھی پاکستان کا پانی بند کرنے اور کبھی سیلابی پانی چھوڑ کر حکومت اور عوام کو پریشان کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بدامنی پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد کا حصول بھارت کی خارجہ پالیسی کا وہ حصہ ہے جو اب عالمی سطح پر بھی منکشف ہو چکا ہے۔ دوسری جانب اس وقت پاکستان دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں مصروف ہے جس میں پاک آرمی اور سول ادارے بھرپور طریقے سے شامل ہیں۔ بھارتی حکمران کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ پاکستان میں امن قائم ہو اور وہ ہر ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جو انہیں پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی سہولتیں فراہم کر سکے۔ محرم الحرام کے مقدس مہینہ میں بھارت پاکستان میں فرقہ ورانہ کشیدگی کو ہوا دے کر مسلمانوں کو باہم دست و گریبان کرنے اور بد امنی پیدا کرنے کی کوششیں کرے گا تاکہ حکومت پاکستان کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹا سکے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس کا پاکستان کے عوام کو مکمل ادراک ہونا چاہئے اور تمام فرقوں اور مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو دشمن کی چالوں کو سمجھنا چاہئے۔ یہ بات بڑی حوصلہ افزا ہے کہ اتحاد بین المسلمین اور امن کمیٹیاں انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مختلف فرقوں و مسالک کے علمائے کرام کو ایک میز پر بٹھا کر جہاں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہیں وہیں علمائے کرام، مشائخ عظام اور ذاکرین کو حالات کی سنگینی، دشمن کی جانب سے ان حالات سے فائدہ اٹھانے اور اس سے متعلق دیگر امور بارے آگاہ کرکے ان کو آن بورڈ لے رہی ہیں۔ مختلف فرقوں کے علمائے کرام کو زمینی حقائق کے تناظر میں باور کرایا جا رہا ہے کہ بھارت اپنے منفی اور جارحانہ عزائم کے ساتھ کھل کر سامنے آ چکا ہے اور اس امر میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں کہ وہ محرم الحرام کے دوران پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی یقینی کوششیں کرے گا جن کو تمام مسلمانوں نے باہمی اتحاد و اتفاق، اخوت و بھائی چارے اور بے مثال ہم آہنگی سے بے سود بنانا ہے۔