• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

این ایچ ایس اسپتالوں میں ڈیمنشیا کے مریضوں کیساتھ ناروا سلوک کا انکشاف

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

این ایچ ایس اسپتالوں میں ڈیمنشیا کے مریضوں کو ناصرف بے جا روکے جانے بلکہ ان کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک اختیار کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ 

ایک چونکا دینے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسپتالوں میں ڈیمنشیا کے مریضوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک اختیار کیا جاتا ہے۔

ان کی دیکھ بھال کے قومی جائزے میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جس میں پابندیوں کے طریقے غیر تسلیم شدہ اور غیر ریکارڈ شدہ پائے گئے ہیں۔ 

18 ماہ کے مطالعے میں 168 مریضوں اور ڈاکٹروں کے ساتھ 1ہزار سے زیادہ تفصیلی انٹرویوز شامل ہیں، جو 6 قومی نمائندہ این ایچ ایس اسپتال کے ٹرسٹ کے 9 وارڈز کے اعداد و شمار پر مشتمل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جائزے میں پایا گیا کہ بعض مریضوں کو ایک وقت میں ہفتوں تک اپنا بستر چھوڑنے سے روکا جاتا ہے۔ متاثرین اپنے قیام کو قید، اغوا یا یرغمال بنائے جانے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ پابندی والی مشقیں بیڈ سائیڈ بارز سے شروع ہوتی ہیں، جو ڈیمنشیا کے مریضوں کو اپنے بستروں سے باہر جانے سے روکتی ہیں۔

اگر وہ جانے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں زبردستی جسمانی طور پر روکا جا سکتا ہے اور انہیں سکون آور یا اینٹی سائیکوٹک ادویات دی جاتی ہیں۔ 

یہ رویہ سماجی نگہداشت کے پیکجز کو واپس لینے کا باعث بن سکتا ہے یعنی وہ گھر میں آزادانہ طور پر زندگی گزارنے کے لیے واپس نہیں جا سکتے یا اپنے کیئر ہوم میں واپس نہیں جا سکتے، جو ان کے لیے تشویشناک ہو سکتا ہے۔ 

یونیورسٹی آف ویسٹ لندن کے مرکزی مصنف پروفیسر اینڈی نارتھ کوٹ کا کہنا ہے کہ ڈیمنشیا کے مریضوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ این ایچ ایس کے قواعد و ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا۔

برطانیہ و یورپ سے مزید