آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار20؍ صفرالمظفر 1441ھ 20؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عہد ساز شخصیت، مشرق کا جادو گر، عبدالقادر

پچھلے ہفتے ایک بڑی خبر نے کرکٹ کی دنیا کو سوگوار کردیا۔بھارت انگلینڈ آسٹریلیا سے صحافی دوست فون کرکے پوچھ رہے تھے کہ کیا واقعی عبدالقادر ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔شین وارن ، ہر بھجن سنگھ ،لکشمن اور عمران طاہر اسپین گُرو کی اچانک موت پر افسردہ تھے۔عبدالقادر کو جب 1882کے دورہ انگلینڈ میں عمران خان نے پاکستان ٹیم میں شامل کیا تو انگلش ماہرین اور کرکٹرز اس جادوگر کو دیکھ کر حیران رہ گئے انہیں مشرق کے جادوگر کا نام دیا گیا۔عبدالقادر نے لیگ اسپین کے فن کو نئی جدت دی اور ان کی گیندوں پر ویون رچرڈز،گریگ چیپل،جیف بائیکاٹ اور سنیل گاوسکر جیسے بیٹسمین مشکل میں دکھائی دیتے تھے۔عبدالقادر ورلڈ کلاس اسپنر کے ساتھ ساتھ سچے اور کھرے شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔گذشتہ سال اگست میں عمران خان نے وزیر اعظم کا حلف لینے کے لئے اپنے جن بے تکلف دوستوں کو مدعو کیا ان میں عبدالقادر بھی شامل تھے۔ 

وزیر اعظم ہاؤس میں اس تقریب کے بعد عمران خان پرانے کرکٹر دوستوں کے پاس آگئے ان میں وسیم اکرم،وقار یونس، رمیزراجا، مدثر نذر، انضمام ،مشتا ق احمد ،عاقب جاویداور جاوید میاں داد نمایاں تھے۔ عمران نے اس نشست میں اپنی اس پرانی خواہش کا اظہار کیا کہ ڈپارٹمنٹ کی ٹیموں کو ختم کرنا نا گزیر ہے۔ عبدالقادر نے بر ملا کہا عمران ان سب میں سے کسی میں ہمت نہیں ہے براہ مہربانی ڈپارٹمنٹ کی ٹیموں کو بند نہ کرنا یہ بڑی غلطی ہوگی۔ عینی شاہدین کے مطابق عمران خان جو تھوڑی دیر پہلے وزیر اعظم کا حلف لے کرشیروانی میں ملبوس تھے وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ انہیں علم تھا کہ عبدالقادر سچ بولے بغیر نہیں رہ سکتے۔کرکٹ کے حلقوں میں باؤ کے نام سے شہرت رکھنے والے عبدالقادر نے پیش امام کے گھر آنکھ کھولی وہ غریب فیملی سے عالمی شہرت یافتہ اسپنر بنے لیکن کلمہ حق بولنے سے نہیں ڈرتے تھے۔عمران خان مدثر نذر اور اقبال قاسم ان کے بے تکلف دوست تھے۔ 2009میں عبدالقادر کی منتخب کی ہوئی ٹیم نے لارڈز میں ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ جیتا لیکن ٹیم منتخب کرنے کے بعد وہ پی سی بی چیئرمین اعجاز بٹ سے اختلافات کی وجہ سے مستعفی ہوگئےتھے۔ عبدالقادر اصول پسند شخص تھے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو عمران خان کی وجہ سے جوائن کیا۔لیکن پی سی بی کی پالیسیوں پر کھل کر اظہار خیال کرتے تھے۔عبدالقادر کے انتقال سے ایک ہفتہ قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق صوبائی ٹیموں کولانے کا اعلان کردیا اور ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو ختم کردیا۔

 عبدالقادر چیف سلیکٹر بھی رہے اور لاہور میں کرکٹ اکیڈمی چلاتے تھے ان کے بیٹے عثمان قادر نے پاکستان انڈر 19ٹیم کی نمائندگی کی۔ٹیسٹ بیٹسمین عمر اکمل ان کے داماد ہیں۔ عبدالقادر نے 67 ٹیسٹ اور 104 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی عبدالقادر کا شمار دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز اسپنرز میں ہوتا تھا عبدالقادر نے ٹیسٹ کرکٹ میں 236 اور ون ڈے میں 132 وکٹیں حاصل کیں۔

انتقال سے ایک دن پہلےجمعرات کولاہور میں ایک تقریب میں عبدالقادر کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نے غربت اور معیشت کو کنٹرول کر لیا تو پاکستان کو اس جیسا لیڈر نہیں مل سکتا۔وسیم اکرم کہتے ہیں کہ عہدالقادر کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی شعیب اختر نے کہا کہ وہ نئی نسل میں اس فن کو زندہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ عبدالقادر کے بارے میں قومی کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ وہ ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے ان کے جانے سے ایک عہد اپنے اختتام پر پہنچا،شاہد آفریدی نے کہا کہ ادکار عابد علی اور عبدالقادر نے پاکستان کو دنیا بھر میں پہچان دی۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید