آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عالمی یوم قلب: اپنے دل کو صحت مند رکھیے

آج دنیا بھر میں دل کے امراض سے آگاہی کا عالمی دن منایا جارہا ہے


ورلڈ ہارٹ فیڈریشن اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے آج دنیا بھر میں دل کے امراض سے آگاہی کیلئے عالمی یوم قلب (World Heart Day)منایا جارہا ہے۔ ہر سال 29ستمبر کو دل کی بیماری اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریوں (cardiovascular diseases) کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنے کیلئے طبی حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے صحت مند عادتوں اور سرگرمیوں پر زور دیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ تقریبات کا اہتمام کرکے حاضرین کو دل کی صحت کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دل کی بیماریوں سے کیسے بچا جاسکتا ہے اور کون سے اقدام اس خطرے کو کم کرسکتے۔ اس کے علاوہ اس بات پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے کہ دل کے امراض سے ہونے والی قبل از وقت اموات کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔

شریانوں کی بیماریوں کے خطرات

اگر ہم خطرے کے چار عوامل یعنی تمباکو نوشی سے پرہیز، غیر صحت بخش غذا سے اجتناب، جسمانی بے عملی کی روک تھام اورنشہ آور چیزوں سے دور رہیں تو دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں سے ہونے والی 80فیصد قبل ازوقت اموات سےبچ سکتے ہیں۔ تمباکو اور مضر صحت دھویں کے باعث ہرسال 60لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جن میں تقریباً 10فیصد امراض قلب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ 

تمباکو نوشی سے پرہیز کے دو سال کے اندر ، کورونری آرٹریز کی بیماری کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ امراض قلب ہرسال 17.9ملین اموات کا سبب بنتا ہے اور یہ تعداد 2030ء تک تقریباً23.23ملین ہوجائے گی۔ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں امراض قلب کے بڑھنے کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں، جس کے باعث ان ممالک کی معیشتوں پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔

دل کی صحت کیلئے اقدامات

زندگی میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہمارے دل کی صحت کو بہتر بنا سکتی ہیں جیسے کہ دن میں 30منٹ ورزش کرنا، سگریٹ نوشی سے گریز اور صحت بخش خوراک کھانا۔ ہمیں جسمانی سرگرمی بڑھانے کے لئے چلنے پھرنے اور سائیکل چلانے کی عادت اپنانی ہوگی۔ اس کے علاوہ مشترکہ حکمت عملیوں کے ذریعے ایک دوسرے کو دل صحت مند بنانےکی ترغیب بھی دی جاسکتی ہے۔ بچوں کو اسکول ٹفن میں صحت بخش کھانا فراہم کرتے ہوئے،جنک فوڈز کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔

ساتھ ہی عالمی ممالک کو چاہئے کہ وہ امراض قلب کو کم کرنے کے لئے آبادی کے لحاظ سے حکمتِ عملی مرتب کرتے ہوئے قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ 

اس ضمن میں تمباکو نوشی کو کنٹرول کرنے کے لیے جامع پالیسیاں بنانی ہوں گی۔ چکنائی، چینی اور نمک کی زائد مقدار والے کھانوں کے نقصانات پر آگاہی فراہم کی جائے۔ منشیات کی روک تھام کے لیے آہنی شکنجہ مضبوط کرنا ہوگا۔

دل کی صحت زندگی کی ضامن

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں اموات کی سب سے بڑی وجہ دل کی بیماریاں ہوتی ہیں۔ دل کو جسم کا پمپنگ اسٹیشن کہا جاتا ہے۔اس میں غیر صحت بخش غذاؤں کا کچرا خون کی رگوں اور شریانوں کو بلاک کرکے دل کی دھڑکن میں رکاوٹ ڈال کر دل کے دورے کا موجب بنتا ہے۔ اس لیے اگر آپ کو اپنی زندگی عزیز ہے تو جسم میں صاف شفاف پانی کی مقدار، نشاستہ آور غذاؤں اور پھلوں کا استعمال کبھی فراموش نہ کریں۔

نشے کو اپنے لیے زہر جانیں۔ سپیدِ سحر شبنم کے قطروں سے معطر باغ میں چہل قدمی کو اپنا معمول بنائیں۔اس کے بعد باغ ہی کے کسی پرسکون گوشے میں کمر سیدھی کرکے آلتی پالتی مارکر بیٹھ جائیں اور سانس کی مشقوں کے ساتھ روح سے خود کلامی کو شعار بنالیں۔ اپنے معالج کے مشورے پر ڈائٹ شیڈول بنوا کر اس پر سختی سے کاربند رہیں۔ بازار کے بنے چٹ پٹے پکوان کھانے سے پرہیز کریں۔ کولیسٹرول سے پاک کوکنگ آئل استعمال کریں جبکہ کھانے میں مرچ

مسالے اور نمک کا استعمال اتنا ہی رکھیں جس سے ہائی یا لو بلڈ پریشر کی شکایت نہ ہو۔ کھانے کو بہت زیادہ پکانے سے گریز کریں اور دسترخوان پر دہی، کھیرے اور سلاد کو لازمی جزو بنا لیں۔ کھانا کھانے میں کسی قسم کی جلد بازی نہ کریں،ایک ایک نوالے کو چباکر کھائیں، تاکہ غذا جسم میں تیزی سے تحلیل ہوکر صاف خون بنانے میں کارگر ہو۔

جب تھوڑی بھوک باقی رہے تو کھانے سے ہاتھ روک لیں، کھانے کے لیے نہ جیئیں بلکہ جینے کے لیے کھائیں۔ کھانا کھانے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے پانی پی لیں،کھانے کے درمیان کم مقدار میں پانی پئیں لیکن بعد میں ہرگز پانی نہ پئیں۔ 

کھانے کے کم از کم ایک گھنٹے بعد پانی پینا بہتر رہتا ہے۔ اس کے علاوہ نہار منہ نیم گرم پانی کا ایک گلاس پینا اپنا معمول بنالیں۔ دن بھر زیادہ چائے پینے سے اجتناب کریں۔یہ وہ تمام اقدام ہیں جو آپ کو نہ صرف صحت مند بناتے ہیں بلکہ اپنی زندگی کا بھر پور لطف اٹھانے کے قابل بھی بناتے ہیں۔ 

تعلیم سے مزید